Tag: جیٹھی سپاہی ملانی

  • سندھ کی بہادر بیٹی، آزادی کی جدوجہد کرنے والی اور سندھ اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر، جیٹھی سپاہی ملانی

    سندھ کی بہادر بیٹی، آزادی کی جدوجہد کرنے والی اور سندھ اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر، جیٹھی سپاہی ملانی

    کماری جیٹھی تلسیداس سپاہی ملانی سندھ کی سیاسی تاریخ کی ایک غیرمعمولی شخصیت تھیں۔ انہوں نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں عملی حصہ لیا بلکہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں قانون سازی، خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

    جیٹھی سپاہی ملانی 10 فروری 1906 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حیدرآباد کے کندن مل گرلز ہائی اسکول اور کراچی کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور 1925 میں ڈی جے سندھ کالج، کراچی میں بھی زیر تعلیم رہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شعبہ تدریس سے وابستہ رہیں اور 1929 میں کراچی کے ’دیا آشرم‘ کی پرنسپل مقرر ہوئیں۔

    1930 میں انہوں نے ملازمت چھوڑ کر انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور انگریز راج کے خلاف جاری آزادی کی تحریک میں سرگرم حصہ لیا۔ نمک ستیہ گرہ، سول نافرمانی اور دیگر سیاسی تحریکوں میں شرکت کے باعث انہیں کئی مرتبہ گرفتار کرکے قید کیا گیا۔ وہ صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ خواتین، بچوں اور تعلیم کی بہتری کے لیے کام کرنے والی سماجی مصلح بھی تھیں۔ انہوں نے گاندھی اسپتال کی سیکریٹری، میونسپل اسکول بورڈ کی رکن اور 1934 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کی رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 1935 میں انہوں نے یورپ کا تعلیمی دورہ کیا اور وہاں کے تعلیمی نظام کا مطالعہ کیا۔

    سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد 1937 میں قائم ہونے والی پہلی سندھ لیجسلیٹو اسمبلی میں وہ کانگریس کی امیدوار کی حیثیت سے خواتین کی مخصوص نشست، کراچی اور حیدرآباد، سے بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ وہ سندھ اسمبلی کی انتہائی سرگرم ارکان میں شامل تھیں اور خواتین کے ملکیتی حقوق، مقامی اداروں، تعلیم اور سماجی انصاف سے متعلق قانون سازی میں حصہ لیا۔

    جیٹھی بائی تلسیداس سپاہی ملانی 1939 سے 1946 تک سندھ لیجسلیٹو اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہیں۔ اس طرح وہ سندھ کی پارلیمانی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بنیں۔ ممکنہ طور پر متحدہ ہندوستان میں بھی وہ اس منصب پر پہنچنے والی پہلی خاتون تھیں۔

    1947 کی تقسیم کے بعد جیٹھی سپاہی ملانی سندھ چھوڑ کر بمبئی چلی گئیں۔ بھارت میں وہ 1952 سے 1962 تک بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی رکن اور 1954 سے 1962 تک اس کونسل کی ڈپٹی چیئرمین، یعنی ڈپٹی اسپیکر، رہیں۔

    انہوں نے تقسیم کے بعد بے گھر ہونے والے سندھی ہندوؤں کی بحالی اور آبادکاری میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے بمبئی میں ہجرت کرکے پہنچنے والے سندھیوں کے لیے مناسب رہائش کی فراہمی کی کوشش کی اور ’نوجیون کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ماہم، ماتونگا، چیمبور اور لیمگٹن روڈ سمیت مختلف علاقوں میں قائم کی جانے والی رہائشی بستیوں کے ذریعے بہت سے بے گھر سندھی خاندانوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔

    سندھ کی یہ بہادر بیٹی 21 مئی 1978 کو انتقال کر گئیں۔

    تاریخی تصاویر کا پس منظر

    پورٹریٹ تصویر: سندھ اسمبلی میں نصب جیٹھی سپاہی ملانی کی یادگاری تصویر

    بلفاسٹ ٹیلی گراف، 7 مئی 1959

    یہ تصویر جیٹھی سپاہی ملانی کے برطانیہ کے پارلیمانی دورے کے دوران لی گئی۔ اخبار کے مطابق دولت مشترکہ کے 18 پارلیمنٹرینز پر مشتمل ایک وفد 12 روزہ دورے پر شمالی آئرلینڈ پہنچا تھا۔ وفد کی تین خواتین ارکان نے بینگور اسپتال کا دورہ کیا، جہاں اسپتال کی میٹرن مس ایس ایل کری نے ان کا استقبال کیا۔

    تصویر میں بائیں جانب سے مس کری، بمبئی کی جیٹھی ٹی سپاہی ملانی، سسٹر ڈبلیو واٹسن، کینیا کی مسز پانڈیا اور ٹونگا کی مسز ہاویا توہاٹیہو نظر آ رہی ہیں۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ جیٹھی سپاہی ملانی عالمی سطح پر دولت مشترکہ کی پارلیمانی سرگرمیوں میں بھی بھارت اور بمبئی کی نمائندگی کرتی تھیں۔

    سنڈرلینڈ ڈیلی ایکو اینڈ شپنگ گزٹ، 26 مئی 1959

    یہ تصویر بھی ان کے 1959 کے برطانوی دورے سے متعلق ہے۔ تصویر میں جیٹھی سپاہی ملانی اپنی میزبان مسز رابنسن کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ اخبار نے انہیں مسز رابنسن کی ’بھارتی مہمان‘ کے طور پر متعارف کرایا۔

    سنڈرلینڈ ڈیلی ایکو اینڈ شپنگ گزٹ، 3 جون 1959

    اس تصویر میں بمبئی لیجسلیٹو کونسل کی ڈپٹی چیئرمین کماری جیٹھی ٹی سپاہی ملانی اور سنڈرلینڈ کے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کی اہلیہ مسز مارگریٹ تھامپسن ’ویئر گلاس ورکس‘ کا دورہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ کمپنی کے کمرشل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل ڈی ووڈ انہیں کارخانے میں تیار ہونے والی شیشے کی کچھ مصنوعات دکھا رہے ہیں۔

    یہ تصویر جیٹھی سپاہی ملانی کے دورے کی مطالعاتی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک پارلیمانی رہنما کی حیثیت سے وہ صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور صنعتی مراکز کا دورہ کرکے وہاں کے انتظام، پیداوار اور سماجی ترقی کے طریقوں کا بھی مشاہدہ کرتی رہیں۔

    یہ تاریخی تصاویر ہمیں بتاتی ہیں کہ سندھ کی ایک بیٹی نے آزادی کی تحریک سے لے کر سندھ اسمبلی، بمبئی لیجسلیٹو کونسل اور دولت مشترکہ کی بین الاقوامی پارلیمانی سرگرمیوں تک اپنی قابلیت اور جدوجہد سے نمایاں مقام حاصل کیا۔