Tag: جیو پولیٹیکل چوراہا

  • جیو پولیٹیکل چوراہا 100 ارب ڈالر کا قرض، عارضی راحت اور تزویراتی تنہائی

    جیو پولیٹیکل چوراہا 100 ارب ڈالر کا قرض، عارضی راحت اور تزویراتی تنہائی

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے باریک اور خطرناک جیو پولیٹیکل چوراہے پر کھڑا ہے، جہاں دہائیوں سے چلی آ رہی ‘دوطرفہ خارجہ پالیسی’ اور امریکہ و چین کے درمیان متوازن سفارتی کارڈ کھیلنے کی صلاحیت اپنے منطقی انجام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔

    تاریخ کا جبر دیکھیے کہ ایک طرف ملکی عسکری بقا، ایویانکس اور دفاعی سپلائی لائن کا انحصار بیجنگ پر حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، تو دوسری طرف معاشی طور پر سسکیاں لیتی ریاست کی سانسیں واشنگٹن، آئی ایم ایف اور مغربی مالیاتی منڈیوں کی مرہون منت ہیں۔

    اس تزویراتی تضاد نے ملکی فیصلہ سازوں کو ایک ایسے گھمبیر مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں سے بغیر کسی بڑے نقصان کے محفوظ واپسی کا راستہ دن بہ دن دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔
    اس معاشی دلدل کا اندازہ محض ان بھیانک اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا کل بیرونی قرض 125 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس میں سے تقریباً 24 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی ہر سال سود اور اصل زر کی صورت میں کرنا پڑتی ہے۔

    ملک کے کل بیرونی قرض کا تقریباً 30 فیصد سے زائد حصہ اکیلے چین اور اس کے مالیاتی اداروں کا ہے، جبکہ آئی ایم ایف اور دیگر کثیر الجہتی اداروں کے ساتھ طے شدہ سخت معاشی اہداف نے ملکی معیشت کا دم گھونٹ رکھا ہے۔

    ان حالات میں حال ہی میں پاکستانی وزیر خزانہ کی جانب سے امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت’ مانگنے کی اطلاعات اس بات کا واضح اور دوٹوک اشارہ ہیں کہ طاقت کے ایوانوں کا جھکاؤ ایک بار پھر واشنگٹن کے محور کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    لیکن عالمی سیاست میں مفت کا کچھ نہیں ملتا۔ امریکہ کی جانب سے اس ممکنہ نقد رقم کے بدلے ایران کے معاملے میں ثالثی یا دیگر تزویراتی مطالبات کا پیش کیا جانا ایک انتہائی باریک جیو پولیٹیکل جال ہے۔ واشنگٹن کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی بھی اتنی بڑی مالی ریلیف بغیر کسی سخت تزویراتی قیمت کے فراہم نہیں کرتا۔

    جیسے جیسے مشرق وسطی اور ایران کے گرد جنگی بادل گہرے ہو رہے ہیں، امریکہ محض سفارتی سہولت کاری پر قانع نہیں رہے گا بلکہ اس رقم کے عوض عسکری لاجسٹکس، انٹیلی جنس تعاون اور فضائی حدود کا تقاضا کرے گا۔

    یہیں سے پالیسی سازوں کے ترجیحی مفادات اور ریاست کی طویل مدتی بقا کے درمیان ایک خوفناک تصادم کا آغاز ہوتا ہے۔ پاکستان کا عام شہری آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، افراط زر اور ڈالر کی اجارہ داری سے تنگ آ کر معیشت کو چینی یوآن اور مقامی کرنسی کے تبادلے پر منتقل کرنے کے خواب دیکھتا ہے۔

    لیکن المیہ یہ ہے کہ پالیسی ساز اشرافیہ کا معاشی اور فکری نظام مغرب سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے اثاثے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی پناہ گاہیں اور بچوں کا مستقبل بیجنگ میں نہیں بلکہ لندن، واشنگٹن اور نیویارک میں ہے۔ یہی وہ ساختی کمزوری ہے جس کی وجہ سے مقتدرہ چاہ کر بھی مغربی بلاک کا دائرہ اثر مکمل طور پر چھوڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

    تاہم اس کھیل میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ سمجھنا ہوگی کہ بیجنگ کے صبر کا پیمانہ لامحدود ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا جیو پولیٹیکل وزن سری لنکا یا دیگر مقروض ممالک جیسا نہیں ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، اس کا اہم جغرافیہ اور ‘انڈیا کے خلاف توازن’ کا کارڈ چین کے لیے ایک لازمی تزویراتی ضرورت ہیں۔

    لیکن اس ضرورت کی بھی ایک حد ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا معاشی اور تزویراتی اتحادی ہے۔ اگر پاکستان نے ڈالروں کی عارضی چمک کے عوض ایران کے خلاف بننے والے امریکی عسکری یا لاجسٹک کیمپ کا حصہ بننے کی غلطی کی تو بیجنگ اسے محض ایک معمولی سفارتی لچک نہیں بلکہ اپنا حتمی ‘تزویراتی دھوکہ’ سمجھے گا۔

    اس تزویراتی بداعتمادی کا خمیازہ کتنا خوفناک ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بیجنگ اگر جے 10 سی، جے ایف 17 جیسے سرفہرست جنگی طیاروں، ایویانکس اور پیشرفتہ گائیڈڈ میزائل سسٹمز کی سپلائی لائن اور تکنیکی مدد میں ذرا سی بھی تاخیر کر دے تو پاکستانی دفاع چند ہفتوں میں سنگین دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

    یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ نئی دہلی کو ناراض کر کے کبھی بھی پاکستان کو چین کا متبادل عسکری سامان یا دفاعی ضمانتیں فراہم نہیں کرے گا۔
    اس پورے بین الاقوامی کھیل کا سب سے المناک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ فیصلے اب خالصتاً قومی مفاد اور طویل مدتی تزویراتی سوچ کے بجائے محض عارضی معاشی پیوند کاری اور بقا کی جنگ بن چکے ہیں۔ پاکستان کو دہائیوں سے ایک ‘سیکیورٹی سٹیٹ’ بنا کر رکھا گیا، لیکن اس کی قیمت یہ چکانی پڑی کہ اندرونی سیاسی خلفشار، شدید پولرائزیشن اور غیر مستحکم ہائبرڈ ماڈل نے ملک کو کبھی ایک خودکفیل اور پائیدار معاشی قوت بننے ہی نہ دیا۔

    جب بھی معاشی زوال نچلی سطح کو چھوتا ہے، جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کے ذریعے بیرونی امداد کا ایک عارضی ڈرپ لگا لیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مستقل خمیازہ عوام کو بے رحم ٹیکسوں، کمر توڑ مہنگائی اور نوجوانوں کے خطرناک برین ڈرین کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    ممکنہ سفارتی اور معاشی متبادل، بحران سے نکلنے کا روڈ میپ

    اگر پاکستان واقعی اس تزویراتی دلدل سے نکلنا چاہتا ہے تو محض بیرونی امداد اور ڈالروں کے عارضی انجکشن پر انحصار ختم کر کے درج ذیل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

    غیر جانبدار علاقائی بلاک اور ‘توازن نو’

    پاکستان کو مشرق وسطی میں امریکی عسکری اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے خلیجی ممالک، سعودی عرب اور قطر، کے ساتھ مل کر ایک فعال علاقائی سفارتی بلاک قائم کرنا چاہیے جو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے غیر جانبدارانہ ثالثی کرے۔

    قرضوں کی ازسرنو ساخت

    عارضی قرض مانگنے کے بجائے چین اور پیرس کلب دونوں کے ساتھ مل کر ایک متوازی ‘ڈیٹ ریسٹرکچرنگ’ کا فریم ورک طے کیا جائے تاکہ سالانہ 24 ارب ڈالر کے بوجھ کو کم از کم اگلے پانچ سال کے لیے ہلکا کیا جا سکے۔

    مقامی کرنسی اور سی پیک 2.0 کی فعالیت

    چینی یوآن اور مقامی کرنسی میں دوطرفہ تجارت کے حجم کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی روپ دیا جائے اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کو فعال کر کے برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔

    اندرونی معاشی اصلاحات کا کڑوا گھونٹ

    بیرونی جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کے ذریعے پیسے کمانے کے بجائے اپنے زرعی، تجارتی اور تاجر طبقے پر یکساں ٹیکس نافذ کیا جائے اور غیر پیداواری اخراجات میں ہنگامی کٹوتیاں کی جائیں۔

    مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال اور ایران امریکہ کشمکش دراصل اس طویل مدتی جیو پولیٹیکل کھیل کا آخری مرحلہ ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بحران فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کی خارجہ اور معاشی پالیسی کا اونٹ بالآخر کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

    ‘درمیان میں رہنے’ اور بیک وقت دو کشتیوں پر سوار ہونے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اب یا تو معاشی شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لیے امریکی شرائط کے سامنے مکمل طور پر جھکنا پڑے گا، جس کی قیمت چین کی دوری کی صورت میں دینی ہوگی، یا پھر بیجنگ کے تزویراتی دائرے میں رہتے ہوئے سخت، کڑوی اور دردناک اندرونی معاشی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

    اگر اب بھی ذاتی ترجیحات، عارضی ڈالروں کے انجکشن اور جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کے پرانے فارمولوں پر انحصار کیا گیا تو یاد رکھیے کہ اندرونی طور پر پکنے والا عوامی اور معاشی لاوا کسی بھی وقت اس تمام تر سیاسی و سفارتی بساط کو لپیٹ سکتا ہے۔