کراچی کے سب سے مصروف اور شور شرابے والے علاقے صدر میں چھ ایکڑ پر پھیلا جہانگیر پارک سکون کا ایک جزیرہ ہے۔ آج جدید سہولتوں سے مالا مال اس پارک کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ کراچی کی سماجی اور شہری زندگی کے کئی اہم ادوار کا گواہ رہ چکا ہے۔
1838 میں ایک مخیر پارسی تاجر خان بہادر بہرام جی جہانگیر جی راجکوٹ والا نے یہ قیمتی زمین عطیہ کی تھی۔ ابتدا میں اسے جہانگیر پارک اور بہرام پارک دونوں ناموں سے پکارا جاتا تھا، تاہم بعد میں جہانگیر پارک ہی اس کا سرکاری نام بن گیا۔
شروع میں یہاں کرکٹ گراؤنڈ اور پویلین بنایا گیا تھا، جہاں کراچی کے مختلف کلب کرکٹ میچ کھیلا کرتے تھے۔ پارک ماضی میں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا۔ لیاقت علی خان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے یہاں تقریریں کیں۔ یہاں ایک مطالعہ گاہ بھی موجود تھی جہاں روزانہ اخبارات آتے تھے اور شہری مطالعے کے لیے یہاں آتے تھے۔
اس شاندار ماضی کے بعد جہانگیر پارک طویل عرصے تک عدم توجہی کا شکار رہا۔ انتظامی غفلت کے باعث پارک کی حالت خراب ہوتی گئی، غیر قانونی قبضوں نے جگہ گھیرنا شروع کردی اور ایک وقت میں یہ مقام کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ماضی میں یہاں منشیات کے عادی افراد بھی بڑی تعداد میں موجود رہتے تھے۔ یوں کراچی کے اس تاریخی پارک کی سماجی اور شہری حیثیت تقریباً ختم ہوگئی۔
2017 میں سندھ حکومت نے جہانگیر پارک کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا۔ ابتدا میں اس منصوبے کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ بحالی کے دوران غیر قانونی قبضوں اور دیگر مسائل کو ختم کیا گیا اور پارک کو دوبارہ شہریوں کے لیے ایک تفریحی مقام بنانے کی کوشش کی گئی۔ آج یہ پارک ایک جدید فیملی پارک کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
جہانگیر پارک کا سب سے منفرد حصہ ڈائناسور پارک ہے، جہاں مختلف اقسام اور سائز کے ڈائناسور کے ماڈل نصب کیے گئے ہیں۔ یہ صرف ساکت مجسمے نہیں بلکہ بعض ماڈلز حرکت کرتے ہیں، سر ہلاتے ہیں، آنکھیں جھپکاتے ہیں اور دھاڑنے کی آوازیں بھی نکالتے ہیں۔ یہاں ٹی ریکس سمیت گوشت خور اور سبزی خور ڈائناسور کے ماڈل موجود ہیں اور ہر ماڈل کے ساتھ معلوماتی تختی بھی نصب کی گئی ہے۔ ڈائناسور کے علاوہ گوریلا، زرافے اور ہاتھی کے ماڈل بھی پارک میں موجود ہیں۔
پارک میں ایک بڑا اور بلند لوہے کا پنجرہ بھی موجود ہے، جس میں مختلف اقسام کے پرندے رکھے گئے ہیں۔ پنجرے کے اندر درخت اور پودے لگائے گئے ہیں، جبکہ طوطے، چڑیاں، کبوتر، فاختائیں اور مور بھی یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک چھوٹے تالاب میں بطخیں اور راج ہنس تیرتے نظر آتے ہیں۔
پورے پارک میں واک ویز، پودے اور درخت موجود ہیں۔ نگرانی اور سکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ پارک کی روشنی کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ متبادل کے طور پر بجلی کی لائن بھی موجود ہے۔
پارک میں شمسی توانائی سے چلنے والے دو آر او پلانٹ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان میں سے ایک پلانٹ روزانہ 50 ہزار گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پارک کے علاوہ اطراف کے رہائشی بھی مستفید ہوتے ہیں۔
جہانگیر پارک کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں داخلہ فیس نہیں ہے۔ پارک خاندانوں کے لیے مخصوص ہے اور اکیلے مردوں کو داخلے کی اجازت نہیں، جبکہ خواتین اکیلے بھی پارک آسکتی ہیں۔ صدر کے مرکزی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں پہنچنا نسبتاً آسان ہے، تاہم پارکنگ ایک بڑا مسئلہ ہے۔
کے ایم سی کے مطابق روزانہ تقریباً 2 ہزار سے 3 ہزار افراد جہانگیر پارک کا رخ کرتے ہیں، جبکہ اتوار اور دیگر تعطیلات کے دوران یہ تعداد 10 ہزار سے 15 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
جہانگیر پارک صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ کراچی کی بدلتی ہوئی شہری تاریخ کی ایک جھلک بھی ہے۔ ایک ایسی جگہ جو کبھی کرکٹ، سیاست، مطالعے اور شہری میل جول کا مرکز تھی، طویل زوال کے بعد دوبارہ خاندانوں کے لیے تفریحی مقام بن چکی ہے۔
ساگا ڈیجیٹل
جہاں شہر، تاریخ اور ورثے کی کہانیاں ایک نئے انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔

