Tag: جہاز

  • پنجاب حکومت کے متنازعہ کارپوریٹ جہاز کی خریداری، مفتاح اسماعیل اور عظمیٰ بخاری کے درمیان لفظی جنگ تیز

    پنجاب حکومت کے متنازعہ کارپوریٹ جہاز کی خریداری، مفتاح اسماعیل اور عظمیٰ بخاری کے درمیان لفظی جنگ تیز

    پنجاب حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر 11 ارب روپے مالیت کے کارپوریٹ جہاز خریدنے کے معاملے پر سیاسی بحث شدت اختیار کرگئی ہے، جہاں سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پنجاب حکومت کی ترجمان و صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے پنجاب حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ صوبائی حکومت عوامی وسائل کو غیر ضروری اخراجات پر خرچ کر رہی ہے اور کارپوریٹ جہاز کی خریداری عوامی مفاد کے بجائے حکمرانوں کی ذاتی سہولت کے لیے کی جارہی ہے۔ ان کے بیان کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے وضاحت سامنے آئی جس میں ان الزامات کو مسترد کیا گیا۔

    پنجاب حکومت کی وزیر عظمیٰ بخاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کارپوریٹ جہاز خریدنے سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق یہ جہاز کسی فردِ واحد کے استعمال کے لیے نہیں بلکہ مجوزہ ’پنجاب ایئر لائن‘ منصوبے کے لیے خریدے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حقائق جانے بغیر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت صوبے میں جدید فضائی سہولیات کے فروغ اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب ایئر لائین کی فلیٹ تیار کی جارہی ہے اور مختلف اقسام کے جہاز خریدنے کی منصوبہ بندی ہورہے، اور جیسے ہی تنصیلات فائینل ہوتی ہیں، عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔ ان کے مطابق مجوزہ ایئر لائن کا مقصد صوبے کے اندر اور بیرونِ ملک سفر کو بہتر بنانا اور نئے معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔

    دوسری جانب مفتاح اسماعیل نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی وضاحت کو مسترد کردیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں کون سی ایئر لائن ایسی ہے جس کے پاس کارپوریٹ جہاز موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی ایئر لائن قائم کی جارہی ہے تو اس کے لیے باقاعدہ کوھی دفتر، انتظامی ڈھانچہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہونا چاہیے۔

    مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ ابھی تک پنجاب ایئر لائن کے قیام سے متعلق کوئی واضح عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی، اس لیے جہاز خریدنے کا فیصلہ غیر منطقی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذاتی آسائش کے لیے یہ جہاز خرید رہی ہیں اور عوامی پیسے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پوری پی آئی اے دس ارب ڈالر میں بیچ دی گئی ہے، اور پنجاب کی وزیر اعلی کے لیے صرف ایک جہاز خریدنے کے 11 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت شدید معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے، مہنگائی اور مالی دباؤ کے باعث عوام پریشان ہیں، ایسے میں اربوں روپے کے جہاز خریدنے کا فیصلہ ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ محض ایک انتظامی فیصلے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب سیاسی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے ترقیاتی منصوبہ قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن اسے غیر ضروری اخراجات کی مثال بنا کر تنقید کر رہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب ایئر لائن واقعی قائم کی جاتی ہے تو حکومت کو اس کی مکمل تفصیلات، مالی منصوبہ بندی اور شفافیت سے متعلق معلومات عوام کے سامنے لانا ہوں گی تاکہ ابہام ختم ہوسکے۔ بصورت دیگر اس معاملے پر سیاسی تنازع مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں نئی ایئر لائن کے قیام یا سرکاری سطح پر فضائی منصوبوں کے اعلانات ماضی میں بھی بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں، تاہم عملی پیش رفت اکثر سست روی کا شکار رہی ہے۔ موجودہ تنازع نے ایک بار پھر سرکاری اخراجات اور ترجیحات پر قومی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں اگر حکومت اس منصوبے کی باضابطہ تفصیلات جاری کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی تناؤ کم ہوسکتا ہے بلکہ عوام کو بھی حقیقت حال جاننے میں مدد ملے گی۔ فی الحال کارپوریٹ جہاز کی خریداری کا معاملہ سیاسی میدان میں زیر بحث ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔