Tag: جنیفر بیٹس

  • وادی سندھ کے مٹی کے برتنوں کی خوشبو: جنیفر بیٹس کے تناظر میں وادی سندھ کا غذائی ارتقا اور بین الاقوامی تجارت

    وادی سندھ کے مٹی کے برتنوں کی خوشبو: جنیفر بیٹس کے تناظر میں وادی سندھ کا غذائی ارتقا اور بین الاقوامی تجارت

    جب ہم تاریخ کی کتابوں میں وادی سندھ کی تہذیب کا نام پڑھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں فوراً پختہ اینٹوں کے مکانات، سیدھی اور کشادہ گلیاں اور دنیا کا بہترین نکاسی آب کا نظام ابھرتا ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی ان گلیوں میں جب شام ڈھلتی ہوگی تو وہاں کے باورچی خانوں سے کیسی خوشبو اٹھتی ہوگی؟

    وہ لوگ کیا کھاتے تھے، اپنے کھانوں کو کیسے ذایقہ دار بناتے تھے اور ان کا زرعی نظام کیسے کام کرتا تھا؟

    ایک طویل عرصے تک آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس عظیم تہذیب کو صرف شہری منصوبہ بندی کے ترازو میں تولتے رہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ’آثارِ قدیمہ کی نباتیات‘ نے اس قدیم سماج کو دیکھنے کا زاویہ یکسر بدل دیا ہے۔

    اس سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر جنیفر بیٹس کا معرکہ آرا تحقیقی کام، بالخصوص ان کا مقالہ ’تلہن، مصالحے، پھل اور وادی سندھ کی تہذیب میں ذایقہ‘ اور ان کی کتاب ’کانسی کے دور کی وادی سندھ کی تہذیب میں زراعت کے آغاز‘ تاریخ کے بند دریچوں کو کھولتی ہے۔

    بیٹس کا کام ہمیں روایتی کھداییوں سے آگے لے جا کر خردبینی سطح پر اس عظیم تہذیب کے غذایی تنوع، سماجی طبقات اور بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورک کا ایک سحر انگیز سفر کرواتا ہے۔

    مٹی کے مساموں سے برآمد ہوتی تاریخ

    ڈاکٹر جنیفر بیٹس لکھتی ہیں کہ وادی سندھ میں آثارِ قدیمہ کی نباتیات کی ایک طویل اور بھرپور روایت موجود ہے۔ اس علمی تحقیق کے نتیجے میں اب تک پھلوں، اناجوں اور سبزیوں کی تقریباً 260 اقسام رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے شواہد بکھرے ہویے اور اکلوتے ہیں، لیکن یہ اس حقیقت کا پتا دیتے ہیں کہ ہڑپہ کے باسیوں کی خوراک اتنی سادہ یا یکسر پھیکی نہیں تھی جتنی کہ پہلے فرض کی جاتی تھی۔

    آثارِ قدیمہ کے جدید طلبہ اور ساینس دان اب مٹی کے برتنوں کے مساموں میں جمے ہویے چربی کے اجزا اور قدیم انسانوں و مویشیوں کے دانتوں پر جمی کیلشیم کی تہوں کا خردبین کے ذریعے تجزیہ کرتے ہیں۔ ان تجربات سے یہ شواہد سامنے آیے ہیں کہ مٹی کے ان برتنوں میں صرف پانی یا سادہ اناج نہیں تھا، بلکہ ان میں پکنے والے سالن اور شوربے کی اپنی ایک منفرد اور بھرپور خوشبو تھی۔

    غذایی درجہ بندی

    ڈاکٹر بیٹس نے وادی سندھ کی زرعی پیداوار اور غذایی عادات کو تین واضح درجات میں تقسیم کیا ہے، جو ہمیں اس معاشرے کے معاشی ڈھانچے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    درجہ اول، کلیدی غذاییت: اس میں گندم، جو اور باجرہ شامل ہیں۔ یہ فصلیں وادی سندھ کی معیشت اور بقا کی بنیاد تھیں، جنہیں بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا تھا۔

    درجہ دوم، ثانوی فصلیں: اس درجے میں مٹر، دالیں اور بیر جیسے پھل شامل ہیں، جو غذاییت میں تنوع فراہم کرتے تھے اور باقاعدہ کاشت ہوتے تھے۔

    درجہ سوم، علاقایی پھل: اس میں خربوزے اور کیلے جیسے پھل شامل ہیں، جن کے شواہد نسبتاً کم اور مخصوص علاقوں تک محدود ہیں۔

    اس زرعی نظام میں سب سے حیرت انگیز انکشاف چاول کی سست رو اپناییت کا ہے۔ جہاں گندم اور جو کو پورے جوش و خروش سے اپنایا گیا، وہیں وادی سندھ کے لوگوں نے چاول کو بہت دیر سے قبول کیا۔

    بیٹس دیگر ماہرین کا حوالہ دیتے ہویے کہتی ہیں کہ یہ اجتناب محض جغرافیایی نہیں بلکہ ایک سماجی مزاحمت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چاول اس دور کی ایک محدود اور کنٹرول شدہ غذا تھی۔

    ادرک، ہلدی اور لہسن کا تڑکا

    وادی سندھ کے باورچی خانے کا ایک اور مادی ثبوت وہاں سے ملنے والے پتھر کے آلات ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے تقریباً ہر مکان سے ملنے والے سل بٹے، اوکھلی اور موسل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اناج کو پیسنے اور مصالحوں کو کچلنے کی ٹیکنالوجی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔

    ڈاکٹر بیٹس کی رپورٹ اس مغربی مفروضے کو یکسر مسترد کرتی ہے کہ قدیم انسان مصالحوں کے استعمال سے ناواقف تھے۔ مٹی کی ہانڈیوں کے کیمیایی تجزیے سے ہلدی اور ادرک کے بقایاجات ملے ہیں۔ یہاں تک کہ ’فرامانہ‘ کے مقام پر مویشیوں کے دانتوں کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ ادرک اور ہلدی کے اجزا سے بنے کھانوں کے بچے ہویے ٹکڑے کھاتے تھے۔

    لہسن کی پوتھیوں کا کم از کم دو مقامات پر محفوظ ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آج ہم برصغیر کے کھانوں میں جو ادرک، لہسن اور ہلدی کا تڑکا لگاتے ہیں، یہ دراصل اسی 5000 سال پرانی عظیم تہذیب کا زندہ تسلسل ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچا ہے۔

    کچی گھانی‘کا تیل اور میسوپوٹیمیا کی منڈیاں

    اس صحافتی اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق کا سب سے جاندار پہلو تلہن یعنی تیل دار بیجوں کی کاشت اور ان کی بین الاقوامی تجارت کا نیٹ ورک ہے۔ وادی سندھ کی معیشت میں تل اور سرسوں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

    ہڑپہ کے باسی لکڑی اور پتھر کے بڑے کولہو یا گھانی کے ذریعے تلوں کو دبا کر خالص تیل نکالتے تھے، جسے بیلوں کی مدد سے گھمایا جاتا تھا۔ یہ تیل نہ صرف اندرونِ ملک کھانا پکانے اور چراغ روشن کرنے کے کام آتا تھا، بلکہ یہ اس دور کی ایک بہت بڑی بین الاقوامی برآمدی مصنوعات بن چکا تھا۔

    میسوپوٹیمیا یعنی قدیم عراقی تہذیب کی مٹی کی تختیوں اور کتبوں پر وادی سندھ کو ’میلوہا‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ ان تختیوں پر درج تجارتی ریکارڈ کے مطابق، میلوہا سے بڑے پیمانے پر ہاتھی دانت، قیمتی موتی، سوتی کپڑے اور ’ایلو‘ منگوایا جاتا تھا۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق یہ لفظ ’ایلو‘ دراصل تل کے تیل کا قدیم نام ہے، جو آج بھی تمل زبان میں اسی شکل میں موجود ہے۔

    لوتھل کی تاریخی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے بحری جہاز مٹی کے بڑے مٹکوں میں یہ تیل بھر کر، ان پر مٹی کا لیپ کرتے اور پھر اپنی مخصوص ہڑپایی مہریں ثبت کرکے خلیجِ فارس کے راستے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ اس کے بدلے میں ہڑپہ کے تاجر چاندی اور تانبے جیسی قیمتی دھاتیں منگواتے تھے، جو ان کے معاشی استحکام کا باعث بنتی تھیں۔

    ساینسی احتیاط اور افادیت پسندانہ مغالطہ

    ڈاکٹر بیٹس اپنے مقالے میں آثارِ قدیمہ کے محققین کو ایک اہم انتباہ بھی کرتی ہیں، جسے وہ ’افادیت پسندانہ مغالطہ‘ کہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی پودے یا بیج کا معمولی سا مل جانا خود بخود اس کے بڑے استعمال کو ثابت نہیں کرتا۔

    مثال کے طور پر، ہڑپہ کے مقامات سے بھنگ اور افیڈرا کے چند ذرات ملے ہیں۔ کچھ اسکالرز نے فوراً یہ قیاس آراییاں شروع کر دیں کہ یہ لوگ بڑے پیمانے پر نشہ آور یا ویدک دور جیسی جادویی ادویات بناتے تھے۔

    بیٹس کے مطابق، جب تک پختہ اور وسیع شواہد دستیاب نہ ہوں، ایسے بعید از قیاس مفروضوں سے بچنا چاہیے، کیونکہ مختلف مقامات پر مٹی چھاننے کے طریقے الگ ہونے کی وجہ سے اعداد و شمار بعض اوقات ادھورے ہوتے ہیں۔

    مٹی کی لافانی خوشبو

    جنیفر بیٹس کا یہ ساینسی اور تاریخی سفر وادی سندھ کی قدیم نباتیات کو ایک منفرد شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ پانچ ہزار سال قبل کا انسان نہ صرف بقا کی جنگ لڑ رہا تھا، بلکہ وہ زرعی ساینس، ذایقوں کی نفیس حس اور ایک مربوط عالمی تجارتی نظام کا خالق تھا۔

    آج جب ہم اپنے گھروں میں سل بٹے پر مصالحہ پیستے ہیں، سرسوں کے تیل کا تڑکا لگاتے ہیں یا روٹی اور چاول کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم دراصل ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے انہی گمنام انسانوں کی لافانی ثقافت کو زندہ رکھ رہے ہوتے ہیں۔ مٹی کے ان برتنوں کی خوشبو آج بھی ہمارے باورچی خانوں میں مہک رہی ہے۔