Tag: جنگلی حیات

  • کراچی کے درمیان جنگلی حیات کا مسکن، سفاری پارک کو کئی دہائیوں سے کیسے محفوظ رکھا گیا؟

    کراچی کے درمیان جنگلی حیات کا مسکن، سفاری پارک کو کئی دہائیوں سے کیسے محفوظ رکھا گیا؟

    کراچی جیسے گنجان اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں جہاں بلند عمارتیں، مصروف شاہراہیں اور مسلسل بڑھتی شہری آبادی منظرنامے کا حصہ ہیں، وہیں شہر کے گلشنِ اقبال میں ایک ایسا وسیع علاقہ بھی موجود ہے جہاں درخت، کھلے میدان، جھیلیں اور جنگلی حیات شہری زندگی سے ایک مختلف منظر پیش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر واقع کراچی کا سفاری پارک کئی دہائیوں سے شہر کے شہریوں کے لیے تفریح، قدرتی ماحول اور جنگلی حیات سے قربت کا ایک اہم مقام ہے۔

    سفاری پارک کا افتتاح 1970 میں ہوا۔ دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق یہ اُس وقت کے کراچی میونسپل کارپوریشن کا منصوبہ تھا اور اس کا مقصد شہر میں ایک ایسے بڑے عوامی مقام کا قیام تھا جہاں شہریوں کو کھلے ماحول میں تفریح کے ساتھ جانوروں اور پرندوں کو دیکھنے کا موقع مل سکے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق سفاری پارک کے لیے ابتدا میں 400 ایکڑ سے زیادہ رقبہ مختص کیا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس کے رقبے میں کمی واقع ہوئی۔

    سفاری پارک کو شروع ہی سے عام شہری پارکوں سے مختلف انداز میں ترتیب دیا گیا۔ یہاں وسیع کھلے علاقے، جانوروں کے لیے مخصوص حصے اور سفاری ٹریکس بنائے گئے تاکہ جنگلی حیات کو نسبتاً بڑے ماحول میں رکھا جاسکے اور شہری انہیں قریب سے دیکھ سکیں۔ بعد کے برسوں میں یہاں مختلف اقسام کے ممالیہ جانور، پرندے اور رینگنے والے جانور بھی رکھے گئے، جبکہ جانوروں کی افزائش اور نگہداشت کے حوالے سے بھی مختلف منصوبے جاری رہے۔

    پارک کی خاص بات اس کا قدرتی اور نیم قدرتی ماحول ہے۔ یہاں موجود سبزہ، درخت، کھلے میدان اور آبی علاقے اسے کراچی کے عام شہری پارکوں سے الگ بناتے ہیں۔ سفاری پارک میں دو جھیلوں کا بھی ذکر ملتا ہے، جن میں سے ایک سوان جھیل کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ آبی علاقے نہ صرف پارک کے منظر کو منفرد بناتے ہیں بلکہ شہری ماحول میں موجود اہم آبی اور سبز مقامات میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    سفاری پارک کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہاں موجود جنگلی حیات ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں ہرن، نیل گائے، بلیک بک، چیتل، فالو ڈئیر، لاما اور دیگر جانور رکھے گئے۔ مختلف تحقیقی مطالعات میں سفاری پارک میں موجود ممالیہ، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ بعض مقامی انواع، جن میں سندھ آئی بیکس اور اڑیال شامل ہیں، کی افزائش اور نگہداشت بھی پارک کی جنگلی حیات سے متعلق سرگرمیوں کا حصہ رہی ہے۔

    ہاتھی بھی سفاری پارک کی شناخت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں یہاں ہاتھی شہریوں کی خاص توجہ کا مرکز رہے اور ان کے لیے الگ جگہ اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے منصوبے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اس طرح سفاری پارک محض ایک تفریحی مقام نہیں رہا بلکہ شہریوں، خصوصاً بچوں، کے لیے جنگلی جانوروں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے بارے میں جاننے کا ایک ذریعہ بھی بنتا رہا ہے۔

    وقت کے ساتھ سفاری پارک میں تفریح کے دیگر ذرائع بھی شامل ہوتے گئے۔ سفاری ٹریکس کے علاوہ یہاں چیئر لفٹ بھی قائم کی گئی، جس سے شہریوں کو پارک کے وسیع علاقے اور سبز ماحول کو بلندی سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ چیئر لفٹ کا افتتاح 2006 میں کیا گیا تھا۔

    سفاری پارک صرف جانوروں کی وجہ سے ہی اہم نہیں بلکہ کراچی کے شہری ماحول میں ایک بڑے سبز اور کھلے مقام کے طور پر بھی اپنی الگ حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے شہر میں جہاں آبادی، تعمیرات اور ٹریفک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، درختوں، کھلے میدانوں اور آبی علاقوں پر مشتمل مقامات شہریوں کو نسبتاً پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔ سفاری پارک کا یہی پہلو اسے محض تفریحی مقام کے بجائے شہری ماحول کا ایک اہم حصہ بناتا ہے۔

    کئی نسلوں کے کراچی کے شہری سفاری پارک سے جڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہاں جانا صرف جانور دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ پکنک، چہل قدمی، بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور شہر کے شور سے کچھ دیر دور رہنے کا موقع بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سفاری پارک کراچی کے نمایاں عوامی مقامات میں شامل ہے۔

    سفاری پارک کی تاریخ یہ بھی دکھاتی ہے کہ کراچی کے بدلتے ہوئے شہری منظرنامے کے ساتھ اس جگہ نے بھی کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ 1970 میں ایک بڑے کھلے علاقے کے طور پر شروع ہونے والا یہ منصوبہ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور انتظامی ڈھانچے کی مختلف صورتوں سے گزرا۔ تاہم اس کی بنیادی شناخت آج بھی برقرار ہے کہ یہ کراچی کے درمیان ایک ایسا مقام ہے جہاں شہری ماحول کے اندر درخت، کھلی جگہ، آبی علاقے اور جنگلی حیات ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    کراچی میں سبز اور کھلی جگہوں کی ضرورت بڑھنے کے ساتھ سفاری پارک کی اہمیت بھی مزید نمایاں ہوتی ہے۔ یہ مقام شہر کے شہریوں کو فطرت اور جنگلی حیات سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں قدرتی اور سبز مقامات کا تحفظ کیوں ضروری ہے۔

    1970 سے آج تک سفاری پارک نے کراچی کی کئی نسلوں کو اپنے درختوں، کھلے میدانوں، جھیلوں اور جنگلی حیات کے درمیان وقت گزارنے کا موقع دیا ہے۔ شہر بدلتا رہا، اس کا پھیلاؤ بڑھتا رہا، لیکن سفاری پارک آج بھی کراچی کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں شہری کچھ دیر کے لیے عمارتوں اور ٹریفک کے ہجوم سے نکل کر قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے قریب آ سکتے ہیں۔

    یہ ہے ساگا ڈیجیٹل، جہاں کراچی کی بدلتی ہوئی تصویر، اس کے قدرتی مقامات، جنگلی حیات اور شہری زندگی سے جڑی اہم کہانیاں حقائق کے ساتھ آپ تک پہنچائی جاتی ہیں۔