Tag: جنسی زیادتی

  • گھوٹکی: زیادتی کی تصدیق کے لیے ‘ٹو فنگر ٹیسٹ’ لیا گیا، اس ٹیسٹ کے لیے عدالت نے کیا فیصلہ دیا تھا؟ 

    گھوٹکی: زیادتی کی تصدیق کے لیے ‘ٹو فنگر ٹیسٹ’ لیا گیا، اس ٹیسٹ کے لیے عدالت نے کیا فیصلہ دیا تھا؟ 

    گھوٹکی میں کم عمر لڑکی کے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس نے اُس وقت نیا رخ اختیار کر لیا، جب واقعے سے متعلق سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ میں بعض مشاہدات درج کیے گئے، جن پر قانونی اور طبی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    تعلقہ اسپتال گھوٹکی سے ڈاکٹر رابعہ نواز کے دستخط سے جاری میڈیکل رپورٹ کے مطابق، تین مئی کو پیش آنے والے مبینہ واقعے کی متاثرہ لڑکی، مائی حوراں، کا طبی معائنہ 19 مئی کو کیا گیا۔ رپورٹ میں متاثرہ کی عمر 20 سال درج کی گئی ہے، جبکہ لڑکی اور اُس کے والدین نے اس کی عمر 15 سال بتائی تھی، جس سے عمر کے تعین سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، معائنے کے دوران بعض طبی مشاہدات درج کیے گئے، تاہم اس میں کسی واضح بیرونی زخم کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں ایسے طریقۂ کار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جسے پاکستان میں عدالتی سطح پر متنازع اور غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

    ٹو فنگر ٹیسٹ: عدالتی فیصلہ کیا کہتا ہے؟

    لاہور ہائی کورٹ نے جنوری 2021 میں ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جنسی زیادتی سے متاثرہ خواتین پر کیا جانے والا ورجینٹی ٹیسٹ یا ٹو فنگر ٹیسٹ (TFT) غیر قانونی اور آئین کے منافی ہے۔

    فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس عائشہ اے ملک نے قرار دیا تھا کہ ایسے ٹیسٹ جنسی تشدد کے مقدمات میں سائنسی یا فرانزک اعتبار سے قابلِ اعتماد نہیں، اور یہ متاثرہ خاتون کے وقار، نجی زندگی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔

    عدالت نے مزید قرار دیا تھا کہ ایسے طریقے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہیں اور آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 سے مطابقت نہیں رکھتے۔

    متاثرہ خاندان کے الزامات اور پولیس پر سوالات

    واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی اپنے والدین کے ہمراہ سکھر نیشنل پریس کلب پہنچی، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر احتجاج کیا۔

    متاثرہ لڑکی اور اُس کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ تین مئی کو عادل پور کے قریب گاؤں وزیر چاچڑ میں چند افراد نے اُسے والدین کے سامنے اغوا کیا اور بعد ازاں اُس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

    خاندان کے مطابق، انہوں نے مختلف تھانوں اور مقامی بااثر شخصیات سے رجوع کیا، تاہم ابتدائی طور پر انہیں مطلوبہ قانونی مدد نہیں ملی۔ متاثرہ لڑکی کے والد غلام شبیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں اور وہ صرف انصاف چاہتے ہیں۔

    والدہ یاسمین نے پولیس کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی روز تک انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، مگر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

    سوشل میڈیا دباؤ کے بعد مقدمہ درج

    خاندان کے مطابق، سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے اور عوامی ردعمل کے بعد 19 مئی کو مقدمہ درج کیا گیا اور متاثرہ کو طبی معائنے کے لیے اسپتال بھیجا گیا۔

    تاہم خبر لکھے جانے تک کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق سامنے نہیں آئی تھی، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرینِ قانون کے مطابق، متاثرہ خاندان کے الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور حتمی قانونی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

  • باپ پر معذور بیٹی سے جنسی زیادتی اور حمل کا الزام، ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق

    باپ پر معذور بیٹی سے جنسی زیادتی اور حمل کا الزام، ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق

    بھارت کے شہر ممبئی کے علاقے کف پریڈ میں ایک شخص پر اپنی 20 سالہ معذور بیٹی سے طویل عرصے تک جنسی زیادتی کرنے اور اسے حاملہ کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق جنین کے ڈی این اے نمونے کا میچ متاثرہ لڑکی کے والد سے ہوا، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

    انڈین میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی پیدائشی طور پر بہری اور گونگی ہے اور ذہنی معذوری کا بھی شکار بتائی جاتی ہے۔ وہ بات چیت اور اپنی ضروریات یا تکالیف کے اظہار میں شدید مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ستمبر 2025 میں لڑکی نے پیٹ میں درد کی شکایت کی، جس پر اس کی دادی اسے ہسپتال لے گئیں۔ طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔

    ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد 22 ستمبر 2025 کو کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی سفارش پر حمل کو طبی بنیادوں پر ختم کیا گیا اور فرانزک جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس تفتیش کے دوران متاثرہ لڑکی کی جانب سے براہ راست بیان دینا ممکن نہیں تھا، جسے تفتیش کاروں نے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ اس مرحلے پر اشاروں کی زبان، کونسلنگ اور ماہرین کی مدد سے معلومات حاصل کی گئیں۔ ابتدائی طور پر لڑکی نے اشاروں کے ذریعے بتایا کہ مختلف افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، جس پر پولیس نے 17 افراد، جن میں رشتہ دار اور قریبی افراد شامل تھے، کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے۔

    پولیس کے مطابق 27 جنوری 2026 کو موصول ہونے والی فرانزک رپورٹ میں صرف ایک ڈی این اے نمونہ جنین سے میچ ہوا، جو متاثرہ لڑکی کے والد کا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایک بالغ شخص کو گرفتار اور ایک نابالغ لڑکے کو حراست میں لیا گیا تھا، جن سے تفتیش جاری ہے۔

    سماجی کارکنوں نے اس واقعے کے بعد معذور افراد کے تحفظ، ایسے جرائم کی بروقت نشاندہی اور انصاف کی فراہمی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں تیز رفتار عدالتی کارروائی اور متاثرین کے لیے مؤثر تحفظ اور بحالی کے اقدامات ضروری ہیں۔

    پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ مقدمہ سخت دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔