جب بھی کوئی کسی محفل، میٹنگ یا بس اسٹاپ پر جمائی لیتا ہے، اردگرد کے لوگ فوراً تبصروں کی بارش شروع کر دیتے ہیں:
‘یہ کیا سستی پھیلا رہے ہو؟’
‘رات کو نیند پوری نہیں ہوئی کیا؟’
‘کیا بور ہو رہے ہو؟
ان میں سے ہر جملہ ، خواہ مذاق میں ہو یا سنجیدہ انداز میں ، جمائی کو صرف ایک ظاہری اور بے معنی عمل سمجھتا ہے۔
وہ صبح جب سب کچھ بدل گیا
کراچی کے ایک مصروف دفتر میں، جہاں ایئرکنڈیشنر کی یکساں فضا اور فلورسنٹ لائٹوں کی سفید روشنی اکثر ایک عجیب سی بے نشاطی پیدا کر دیتی تھی، اُس صبح ایک بظاہر معمولی سا واقعہ پیش آیا جس نے ایک فرد کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔
ڈاکٹر سارہ رضا، نیورولوجسٹ اور اپنے شعبے میں ابھرتا ہوا نام، بورڈ روم میں بیٹھی تھی۔ میٹنگ کا ایجنڈا طویل تھا، مقرر کی آواز یکساں، اور پاورپوائنٹ کی سلائیڈیں ایک کے بعد ایک بے جان انداز میں بدل رہی تھیں۔ اسی دوران اُن کے ساتھ بیٹھے سینئر ڈاکٹر فاروق نے ایک لمبی جمائی لی۔ ان کا منہ پوری طرح کھل گیا، آنکھوں میں نمی آ گئی اور جسم ایک لمحے کو تن گیا۔
کمرے میں موجود لوگوں کی نظریں اُن کی طرف اٹھیں۔ ڈائریکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا، ‘’ڈاکٹر فاروق، رات کو نیند نہیں آئی کیا؟’ ۔ ڈاکٹر فاروق نے ہلکی سی شرمندگی کے ساتھ معذرت کی۔ چند لمحوں کی ہنسی کے بعد میٹنگ دوبارہ شروع ہو گئی اور معاملہ وہیں ختم ہو گیا۔ مگر سارہ کے لیے نہیں۔
وہ اپنی نوٹ بک پر کچھ لکھ رہی تھی۔ قلم رکا تو ذہن میں سوال ابھرا: یہ جمائی کیوں آئی؟ ڈاکٹر فاروق نہ تھکے ہوئے لگ رہے تھے، نہ غیر متوجہ۔ پھر کیا وجہ تھی؟
یہی سادہ سا سوال اُن کی تحقیق کی بنیاد بنا۔
جمائی کی بدنامی کی تاریخ
جمائی کے بارے میں انسانی تصورات ہمیشہ سائنسی نہیں رہے۔ قدیم یونان میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جمائی کے وقت روح جسم سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے، اسی لیے منہ ڈھانپنے کی روایت پڑی۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں بعض لوگ اسے بیماری کے پھیلاؤ سے جوڑتے تھے۔ کہیں اسے بے ادبی سمجھا گیا اور کہیں نحوست کی علامت۔
برصغیر میں بھی بزرگ نصیحت کرتے رہے کہ جمائی لیتے وقت منہ ڈھانپ لیا جائے اور کوئی دعا پڑھ لی جائے۔ اگرچہ وجہ مذہبی یا ثقافتی سمجھی جاتی تھی مگر منہ ڈھانپنے کی عادت صحت کے اعتبار سے بہرحال درست ہے۔
سوال یہ ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟
پرانے نظریے اور نئی تحقیق
اٹھارویں صدی میں یہ خیال مقبول ہوا کہ جمائی خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھنے اور آکسیجن کم ہونے کے باعث آتی ہے۔ یہ نظریہ طویل عرصے تک تسلیم کیا جاتا رہا۔ بعد میں تجربات سے معلوم ہوا کہ خالص آکسیجن والے ماحول میں بھی لوگ جمائیاں لیتے ہیں، یوں یہ وضاحت ناکافی ثابت ہوئی۔
جمائی متعدی کیوں ہوتی ہے
ایک اور پہلو نے محققین کو چونکادیا: جمائی متعدی کیوں ہوتی ہے؟ کسی کو جمائی لیتے دیکھ کر دوسرا شخص بھی اکثر جمائی لینے لگتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ معاملہ محض سانس یا تھکن کا نہیں، دماغی اور سماجی پہلو بھی اس میں شامل ہیں۔
اور یوں ڈاکٹر سارہ نے اپنی تحقیق کا رخ دماغ کے اندرونی نظام کی طرف موڑا۔
دماغی سیال اور جمائی
دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد ایک شفاف سیال بہتا ہے جسے cerebrospinal fluid یا CSF کہا جاتا ہے۔ یہ دماغ کو جھٹکوں سے محفوظ رکھتا ہے اور فاضل مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے۔ نیند کے دوران اس سیال کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے، اسی لیے معیاری نیند دماغی صحت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔
سارہ نے ایم آر آئی ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ جمائی کے دوران اس سیال کی حرکت میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔ جب ہم جمائی لیتے ہیں تو جبڑا کھلتا ہے، گردن اور چہرے کے عضلات کھنچتے ہیں، سانس گہری ہوتی ہے اور گردن کی رگوں میں دباؤ بدلتا ہے۔ یہی تبدیلی دماغی سیال کی گردش کو وقتی طور پر تیز کر سکتی ہے۔
یہ مشاہدہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جمائی دماغ کو ایک مختصر مگر مؤثر تحریک فراہم کرتی ہے، جیسے کسی نظام کو چند لمحوں کی تازگی مل جائے۔
جمائی اور ہمدردی
جمائی کا ’’چھوت‘‘ ہونا بھی محض اتفاق نہیں لگتا۔ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد دوسروں کے جذبات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں، وہ دوسروں کو جمائی لیتے دیکھ کر زیادہ جلدی متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اعصابی نشونما کے حالات میں یہ ردِعمل کم دیکھا گیا ہے۔
اس سے یہ خیال تقویت پاتا ہے کہ جمائی کا تعلق سماجی ہم آہنگی اور باہمی تعلق سے بھی ہو سکتا ہے۔ گویا ایک شخص کی کیفیت دوسرے کے اعصابی نظام کو خاموشی سے چھو لیتی ہے۔
جانوروں میں جمائی
جمائی صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ ممالیہ جانوروں کے علاوہ بعض پرندوں اور رینگنے والے جانوروں میں بھی اس کے آثار ملتے ہیں۔ کچھ مشاہدات کے مطابق کتے اپنے مالک کو جمائی لیتے دیکھ کر خود بھی جمائی لیتے ہیں۔ نیند سے اٹھتے ہی کسی انسان کو اس سے لاڈ پیار کرتا دیکھ کر بلی جمائیاں لینے لگتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عمل ارتقائی اعتبار سے قدیم ہے اور محض اتفاق نہیں۔
ممکنہ فائدے
مختلف تحقیقات سے چند امکانات سامنے آئے ہیں، جمائی دماغی سیال کی گردش کو وقتی طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ یہ دماغی درجہ حرارت کے توازن میں مددگار ہو سکتی ہے۔ جمائی کے بعد کچھ لوگوں کی توجہ میں عارضی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اگرچہ ان نکات پر مزید تحقیق درکار ہے، مگر اتنا واضح ہے کہ جمائی کو صرف سستی یا بے ادبی قرار دینا درست نہیں۔
ایک سادہ عمل، ایک پیچیدہ نظام
ڈاکٹر سارہ اکثر کہتی ہیں کہ جمائی جسم کی قدیم زبان ہے۔ ہم اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے اعصابی، جسمانی اور سماجی عوامل مل کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔
اگلی بار جب آپ جمائی لیں تو اسے محض تھکن نہ سمجھیں۔ یہ آپ کے دماغ کا ایک فطری ردِعمل ہے، جو شاید خود کو منظم، متوازن اور متحرک رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور اگر کسی اور کی جمائی دیکھ کر آپ کو بھی جمائی آ جائے تو ممکن ہے یہ آپ کے اعصابی نظام کی وہ خاموش ہم آہنگی ہو جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے۔
سائنس ابھی اس راز کے تمام پہلو نہیں جانتی، مگر اتنا ضرور واضح ہو چکا ہے کہ جمائی محض سستی کی علامت نہیں، بلکہ ہمارے اعصابی نظام کا ایک معنی خیز اشارہ ہے۔

