بمبئی گورنمنٹ گزٹ کا مطالعہ کرتے ہوئے 18 اگست 1856 کو تقریباً 180 سال قبل جاری ہونے والا ایک نہایت دلچسپ اور تاریخی پبلک آرڈر سامنے آیا، جس میں محرم الحرام کے دوران نکلنے والے عاشورہ کے تابوتی جلوسوں کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط مقرر کیے گئے تھے۔
اس دستاویز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے ایک ہی وقت میں انگریزی، اردو، فارسی، گجراتی اور ہندی زبانوں میں جاری کیا گیا، تاکہ بمبئی پریزیڈنسی بشمول سندہ کے مختلف طبقات تک حکومت کی ہدایات یکساں طور پر پہنچ سکیں۔
برطانوی دور میں محرم کے جلوس صرف مذہبی اجتماعات نہیں سمجھے جاتے تھے بلکہ انہیں امن و امان اور شہری نظم و نسق کے تناظر میں بھی انتہائی اہم تصور کیا جاتا تھا۔ بمبئی جیسے بڑے اور کثیر المذاہب و کثیرالنسل شہر میں محرم کے موقع پر ہزاروں افراد جلوسوں میں شریک ہوتے تھے، جس کے باعث حکومت نے جلوسوں کو منظم رکھنے، ممکنہ تصادم سے بچانے اور عوامی امن برقرار رکھنے کے لیے تفصیلی انتظامی احکامات جاری کیے۔
18 اگست 1856 کے اس پبلک آرڈر سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے انہیں ایک قانونی دائرۂ کار میں لانے کی کوشش کی۔ ہر تابوت، پنجہ یا پنجیکہ اٹھانے کے لیے پولیس مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اسی طرح ہر تابوت کے ساتھ تاشہ، ڈھول، نفیری اور مشعلوں کی تعداد بھی مقرر کر دی گئی۔
جلوسوں میں تلوار، خنجر، سونٹا یا کسی بھی قسم کا ہتھیار لے جانے پر پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم دیا گیا۔
اس حکم نامے میں جلوسوں کے اوقات بھی متعین کیے گئے۔ جلوسوں کے لیے مخصوص وقت مقرر کیا گیا، جبکہ یہ بھی ہدایت دی گئی کہ مقررہ وقت کے بعد تمام رسومات مکمل کر کے تابوتوں کو سمندر میں سپرد کر دیا جائے۔ اسی طرح جلوسوں کے لیے بمبئی شہر کی چند مخصوص شاہراہیں مقرر کی گئیں، جن میں بھنڈی بازار، ڈنگن روڈ، ارسکن روڈ، اوبلیسک روڈ، چنچی بندر اور مارکیٹ کے علاقے شامل تھے۔
اس کے ساتھ یہ بھی ہدایت کی گئی کہ دو جلوس آمنے سامنے آنے کی صورت میں ایک دوسرے کو راستہ دیا جائے اور ٹریفک میں رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی جائے۔
حکومت نے عوامی نظم و ضبط کے دیگر پہلوؤں کا بھی خاص خیال رکھا۔ ذوالجناح کے جلوس کو عام شاہراہوں پر نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شراب، افیون اور بھنگ فروخت کرنے والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ محرم کے مقررہ ایام میں اپنی دکانیں بند رکھیں، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم تھا۔
اسی طرح عوامی تالابوں اور کنوؤں سے جلوسوں کے لیے پانی لینے پر بھی پابندی عائد کی گئی تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
حکم نامے کی آخری شق میں واضح کیا گیا کہ جو شخص ان قواعد کی خلاف ورزی کرے، فساد برپا کرے، امن عامہ میں خلل ڈالے یا لوگوں کو اشتعال دلائے، اسے فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت محرم کے جلوسوں کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی کے امکانات کو سختی سے روکنا چاہتی تھی۔
یہ تاریخی دستاویز محض ایک سرکاری حکم نامہ نہیں بلکہ برطانوی دور کے انتظامی نظام، پولیس کی حکمت عملی، مذہبی آزادی اور شہری نظم و نسق کے باہمی تعلق کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو ستر برس قبل جاری ہونے والا یہ پبلک آرڈر آج بھی اس دور کی سماجی، مذہبی اور انتظامی تاریخ پر تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
نوٹ: ان تاریخی دستاویز میں جس طرح کی اردو زبان لکھی گئی تھی، یہاں من و عن لکھی جارہی ہے۔
18 اگست 1856 کے پبلک آرڈر میں اردو زبان میں جاری کردہ ہدایات
1۔ بہے کہ جو کوئی چاہے کہ محرم کے مہینہ میں تابوت بناؤے یا پانچہ یا پنجیکہ یا دولارکہ یا امام زمین پر اٹھاؤے تو اسکو لازم ہے کہ قلعہ کی پولیس کے صاحب مجسٹریٹ صاحب سے حکم لیوے اور حکم فقط مسلمانوں کو دیا جائیگا اور جس شخص کو کہ پروانہ ملے انکو چاہیئے کہ جسوقت کوئی مجسٹریٹ یا کوئی پولیس کا عملدار طلب کرے تو وہ پروانہ اسکو دکھلائیں۔
2۔ دستور—بہے کہ ہر ایک تابوت کے ساتھ ایک تاشا اور ایک ڈھولی اور ایک نفیری اور پندرہ ہلال کی مشعل کے سوا زیادہ نہ رکھیں۔
3۔ تیسرا—بہے کہ جس شخص کے ساتھ میں تلوار یا خنجر یا سونٹا یا کسی قسم کا ہتھیار کاری ہوتو اسکو گرفتار کرے کوتوال میں رکھیں گے۔
4۔ چوتھا—بہے کہ عاشورے کی رات بارہ بجے کے آگے اور تین بجے کے پیچھے کوئی تابوت نہ پھراؤے عاشور کے دن بارہ بجے کے پیچھے پھراؤیں اور حکم ہے کہ یہ عمر بھر بعد میں پانی میں تابوتوں کو پانی میں ڈالکر سب شرائط سے فارغ ہوویں۔
5۔ پانچواں—بہے کہ تابوتوں کو فقط بھنڈی بازار اور دنگن روڈ اور ارسکن روڈ اور اوبلیسک روڈ اور چنچی بندر اور مارکیٹ کے محلوں میں پھرائیں اور چاہئیے کہ عام راستہ پر کوئی تابوت دوسرے کی جانب سے بہتر کر نہ چلے اور اگر کوئی تابوت سامنے آوے تو چاہئیے کہ موافق درستی ایک جانب ہووے اور چاہئیے جہاں تابوت اور گاری یا سوار سامنے آویں تو جو آدمی کہ تابوت کے ساتھ بدن آنگر ناگودا ظاہر کیا جانا ہی کہ آہستہ اپنا چلنا بند کرکر تابوت کو پہلے بازو پر لیویں۔
6۔ چھٹا—بہے کہ ذوالجناح بغدڑ گھوڑت یا عام راستہ پر پھراؤنے نہ دیا جائیگا۔
7۔ ساتواں—اگر بہے کہ جن شخصوں کو کہ شراب بیچنے کی پروانگی ہے جو کہ افیون اور بھنگ بیچنے کی اجازت رکھے ہیں انکو حکم ہے کہ اپنی دکانیں بند رکھیں اور جو کوئی کہ مدت مذکور میں کرے بھی نشہ کی چیز بیچے گا اسکو سرکار گرفتار کرے گی۔
8۔ آٹھواں—بہے کہ تابوت کے آگے چھڑکاؤ کرنے کے واسطے تالابوں اور کنوؤں کا جو پانی سب آدمیوں کے کام میں آتا ہے پانی لینے نہ دیا جائیگا۔
9۔ نواں—بہے کہ اگر کوئی شخص آدمی لڑنے کہے یا قانون کے برخلاف کرے یا کسی قسم کا فتنہ یا فساد بپا انسان کو ابھارے گا تو اسکو گرفتار کرکے قانون کے موافق سزا دینی جائیگی۔
بمبئی پولیس آفس
تاریخ: 18 اگست سنہ 1856

