Tag: جلال پور

  • جلال پور کینال: دریائے جہلم کی نہر پر سندھ کو اعتراض کیوں؟

    جلال پور کینال: دریائے جہلم کی نہر پر سندھ کو اعتراض کیوں؟

    کچھ عرصے سے سندھی اخبارات، نجی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پنجاب میں واقع جلال پور کینال پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

    یہ تنازعہ صرف ایک نہر کا نہیں، بلکہ دریائے سندھ کے پانی، آئینی حقوق، بین الصوبائی اعتماد اور پاکستان کے وفاقی ڈھانچے سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

    جلال پور کینال خود سندھ اور پنجاب کے درمیان براہ راست تنازعے کا مرکز نہیں، لیکن یہ ان منصوبوں میں شامل ہے جنہیں سندھ میں پانی کی دستیابی اور دریائے سندھ کے بہاؤ پر اثر انداز ہونے کے خدشات کے باعث متنازع سمجھا جاتا ہے۔

    جلال پور کینال کیا ہے؟

    جلال پور کینال پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین میں تعمیر کیا گیا ایک آبپاشی منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد دریائے جہلم سے پانی لے کر منڈی بہاؤالدین اور گجرات کے تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار ایکڑ سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کرنا ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب حکومت نے شروع کیا جبکہ اس کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ذرائع سے کی گئی۔

    پھر سندھ کو اعتراض کیوں ہے؟

    اصل تنازعہ صرف جلال پور کینال نہیں بلکہ پنجاب میں مجوزہ یا زیر تعمیر مختلف نہری منصوبوں کا مجموعہ ہے، جن میں چولستان کینال، گریٹر تھل کینال کی توسیع، رینی کینال سمیت دیگر منصوبوں پر سندھ مسلسل تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے۔

    سندھ کا مؤقف ہے کہ دریائے سندھ کا نظام ایک مشترکہ آبی نظام ہے جو مختلف دریاؤں پر مشتمل ہے، جن میں جہلم، چناب، راوی اور ستلج بھی شامل ہیں۔ ان دریاؤں کا پانی آخرکار دریائے سندھ کے نظام میں شامل ہوتا ہے اور پھر 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے تحت صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

    سندھ کا کہنا ہے کہ اگر ان دریاؤں پر نئی نہریں نکال کر زیادہ پانی آبپاشی کے لیے استعمال کیا جائے گا تو دریائے سندھ کے نظام میں شامل ہونے والے پانی میں کمی آئے گی، جس کا براہ راست اثر سندھ کے حصے کے پانی پر پڑے گا اور اسے اپنے مقررہ حصے کے مطابق پانی ملنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

    سندھ کا مؤقف کن بنیادوں پر ہے؟

    سندھ حکومت اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے کے مطابق صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔ سندھ کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی نیا نہری منصوبہ پانی کی تقسیم یا دستیابی کو متاثر کرتا ہے تو اس کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔

    سندھ یہ بھی مؤقف اختیار کرتا ہے کہ کوٹری بیراج کے نیچے پہلے ہی کئی برسوں میں مطلوبہ مقدار میں پانی نہیں پہنچتا، جس کے باعث انڈس ڈیلٹا سکڑ رہا ہے، سمندر مسلسل زمین نگل رہا ہے، میٹھے پانی کی کمی سے زرعی زمینیں متاثر ہو رہی ہیں اور لاکھوں افراد کے روزگار پر اثر پڑ رہا ہے۔

    پنجاب کا مؤقف کیا ہے؟

    پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ جلال پور کینال دریائے جہلم سے پانی حاصل کرتی ہے اور یہ منصوبہ ان حصوں میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے جہاں آبپاشی کی سہولت محدود تھی۔

    پنجاب کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر کوئی منصوبہ قانونی منظوری کے بعد بنایا جا رہا ہے تو اسے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی نافذ کیا جاتا ہے، اور اس کا مقصد کسی دوسرے صوبے کے حصے کا پانی کم کرنا نہیں۔

    جلال پور کینال پر اصل حقیقت کیا ہے؟

    دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق جلال پور کینال براہ راست دریائے سندھ سے پانی نہیں لیتی بلکہ دریائے جہلم سے پانی حاصل کرتی ہے۔ تاہم سندھ میں اس منصوبے کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جہاں خدشہ یہ ہے کہ دریائے سندھ کے پورے نظام سے مزید پانی مختلف نہروں کی طرف منتقل ہونے سے زیریں سندھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اصل تنازعہ کہاں ہے؟

    اصل اختلاف کسی ایک نہر تک محدود نہیں بلکہ اس سوال پر ہے کہ پاکستان میں دستیاب پانی کتنی مقدار میں ہے، مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی مزید کم ہوگا یا نہیں، نئے نہری منصوبوں کی منظوری کیسے دی جائے، اور 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ معاہدے پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔

    ماہرین کا کیا کہنا ہے؟

    آبی وسائل کے متعدد ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان پانی کی قلت کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ایسے میں کسی بھی نئے نہری منصوبے سے پہلے شفاف ہائیڈرولوجیکل مطالعات، تمام صوبوں کی مشاورت، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے قابل تصدیق اعداد و شمار اور مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ بین الصوبائی تنازعات سے بچا جا سکے۔

    یہ کہنا درست نہیں کہ جلال پور کینال خود دریائے سندھ سے پانی لے رہی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ یہ دریائے جہلم پر قائم منصوبہ ہے۔ تاہم سندھ کا اعتراض صرف اس ایک نہر تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر نئے نہری منصوبوں، دریائے سندھ میں پانی کی کمی، انڈس ڈیلٹا کے تحفظ اور 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ محض ایک نہر کا نہیں بلکہ پاکستان کے آبی وسائل، وفاقی نظام اور بین الصوبائی اعتماد کا اہم مسئلہ بن چکا ہے۔