Tag: جج

  • پہلی اپریل 2016، سیدہ فرزانہ شاہ کی یاد میں: جب ایک خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خود ناانصافی کا شکار ہو گئیں!

    پہلی اپریل 2016، سیدہ فرزانہ شاہ کی یاد میں: جب ایک خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خود ناانصافی کا شکار ہو گئیں!

    یہ قصہ مارچ 2016 میں شروع ہوتا ہے، جس کے آخر میں ایک خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدلیہ اور انتظامیہ پر غالب مردانہ بالادستی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ ان کا نام سیدہ فرزانہ شاہ تھا۔

    انہوں نے عدالتوں میں جب غریبوں کو انصاف کے لیے دھکے کھاتے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ وہ جج بنیں گی، غریب اور بے پہنچ لوگوں کی آواز بنیں گی۔ وہ چاہتیں تو کسی دوسرے شعبے میں بھی جا سکتی تھیں، مگر انہوں نے سندھ کے عدالتی نظام کا حصہ بننا قبول کیا۔

    سندھ کے ‘ویتنام’ کے طور پر مشہور ضلع دادو کے شہر میہڑ کے ایک تعلیم یافتہ سید گھرانے میں یکم مارچ 1965 کو پیدا ہونے والی سیدہ فرزانہ انور شاہ نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کمیشن کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا اور نو اپریل 1996 کو سول جج کے طور پر سندھ کے عدالتی نظام کا حصہ بنیں۔

    فرزانہ شاہ کا پورا عدالتی کیریئر بے داغ رہا۔ ان پر کافی دباؤ بھی آتے رہے، مگر انہوں نے ہمیشہ انصاف پر مبنی فیصلے دیے۔ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مقدمات کو جلد نمٹایا اور بے سہارا لوگوں کے لیے سہارا بن کر ابھریں۔

    سندھ کے عدالتی نظام کے تحت کام کرنے والے 87 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی فہرست میں وہ اس وقت سینیارٹی لسٹ میں 14ویں نمبر پر تھیں۔ ترقی کی صورت میں وہ سندھ ہائی کورٹ کی جج بن جاتیں۔

    فرزانہ شاہ کو کیا معلوم تھا کہ روایتی سرداروں اور خراب امن و امان کے حوالے سے مشہور ضلع گھوٹکی ان کی زندگی اور عدالتی کیریئر کے حوالے سے ان کا آخری ضلع ثابت ہوگا۔

    ہوا یوں کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں سول جج میرپور ماتھیلو اعجاز علی شاہ نے مختلف مقدمات میں پولیس کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر انسپکٹر رانا آصف کو پندرہ سو روپے جرمانہ اور عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی۔

    عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد انسپکٹر رانا آصف خیریت سے گھر چلا گیا، مگر اگلے دن بلڈ پریشر بڑھنے کے باعث اسے دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گیا۔ ان کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ انسپکٹر رانا آصف کی موت سول جج اعجاز شاہ کے رویے کی وجہ سے ہوئی۔ اس صورتحال کے بعد ایس ایس پی گھوٹکی ثاقب سلطان سیشن کورٹ گئے اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی فرزانہ شاہ سے ان کے چیمبر میں ملے۔

    فرزانہ شاہ نے سارا معاملہ سننے کے بعد ایس ایس پی سے کہا کہ آپ مجھے اس پورے معاملے کی رپورٹ تحریری طور پر دیں، ہم اس کی انکوائری کرواتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اس جواب کے بعد ایس ایس پی ثاقب سلطان نے ان کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا اور ان کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔اس توہین آمیز رویے اور حکم کی وجہ سے فرزانہ شاہ کو صدمہ پہنچا۔ اس صدمے میں ان کا بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا، جو ان کے لیے دل کے دورے اور دماغ کی رگ پھٹنے کا سبب بنا۔

    انہیں فوراً سی ایم ایچ پنو عاقل منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ایمرجنسی میں کراچی کے ساؤتھ سٹی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی اور انصاف کی آخری جنگ یکم اپریل 2016 کو ہار دی اور انتقال کر گئیں۔عجیب اتفاق ہے کہ فرزانہ شاہ نے اپریل کے مہینے میں عدالتی ملازمت جوائن کی اور اپریل ہی میں اس دنیا سے اپنا عدالتی کیریئر ادھورا چھوڑ کر رخصت ہو گئیں۔

    جن حالات میں ان کی موت واقع ہوئی، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ جب معاشرے کو انصاف دینے والے لوگ خود ایسے دباؤ، گھٹن اور ناانصافی کا شکار ہوں تو پھر عام انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔

    اس طرح سندھ کی عدلیہ ایک بہترین، انصاف پسند خاتون جج سے محروم ہو گئی۔