Tag: جج

  • انڈیا میں مسلمان جج کو قتل اور زیادتی کی دھمکیاں ملنے کے بعد عدلیہ کے تحفظ پر تشویش بڑھ گئی

    انڈیا میں مسلمان جج کو قتل اور زیادتی کی دھمکیاں ملنے کے بعد عدلیہ کے تحفظ پر تشویش بڑھ گئی

     انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک مسلمان خاتون جج ہجوم کے ہاتھوں قتل کے ایک مقدمے میں 14 افراد کو عمر قید کی سزا سنادی۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر اس مسلمان جج کو قتل اور زیادتی کی دھمکیوں ملنے کے بعد انڈیا میں عدلیہ کی آزادی، ججوں کی سلامتی اور مذہبی منافرت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان نے 12 جون کو سنائے گئے فیصلے میں 14 ملزمان کو قتل، اقدام قتل، فساد اور غیر قانونی طور پر راستہ روکنے سمیت مختلف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔

    یہ مقدمہ 2022 کے ایک واقعے سے متعلق تھا، جب 50 سالہ نذیر احمد رات کے وقت مویشی لے جا رہے تھے۔ الزام ہے کہ خود کو ’گئو رکشک‘ کہنے والے افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔ حملہ آور لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے مسلح تھے۔ انہوں نے نذیر احمد اور ان کے دو ساتھیوں کو گاڑی سے اتار کر گائے کی مبینہ اسمگلنگ کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ شدید زخمی ہونے والے نذیر احمد بعد میں دم توڑ گئے، جبکہ دونوں ساتھی زندہ بچ گئے اور عدالت میں گواہی دی۔

    انڈیامیں ہندو مذہب کے ماننے والے گائے کو مقدس سمجھتے ہیں، جبکہ کئی ریاستوں میں گائے کے ذبح پر قانونی پابندی بھی عائد ہے۔

    اپنے فیصلے میں جج تبسم خان نے قرار دیا کہ یہ واقعہ واضح طور پر ہجوم کے ہاتھوں قتل، یعنی ‘موب لنچنگ’ کا مقدمہ تھا۔

    فیصلے کے بعد جج تبسم خان کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم شروع ہوگئی۔ متعدد ویڈیوز میں انہیں مذہبی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، گالیاں دی گئیں اور قتل و زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعض افراد نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے صرف اس لیے ملزمان کو سزا سنائی کیونکہ وہ ہندو تھے۔

    ایک ویڈیو میں ایک شخص نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر سزا یافتہ افراد کو 10 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ‘خون ریزی’ ہوگی۔ ایسی کئی ویڈیوز ہزاروں مرتبہ دیکھی اور شیئر کی جا چکی ہیں، جن میں دھمکیاں دینے والوں کے چہرے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس واضح دکھائی دیتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سزا سنائے جانے کے فوراً بعد ملزمان کے اہل خانہ نے عدالت کے باہر احتجاج کیا اور قیدیوں کو لے جانے والی پولیس گاڑی کو روکنے کی کوشش بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے عزیزوں کو ‘گائے بچانے’ کی سزا دی جا رہی ہے۔

    دائیں بازو سے وابستہ بعض سوشل میڈیا شخصیات اور ہندی نیوز چینلوں نے بھی سزا یافتہ افراد کے حق میں مہم چلائی۔ ایک ٹی وی اینکر نے ناظرین سے اپیل کی کہ وہ ‘گئو رکشکوں’ کی حمایت میں آواز بلند کریں۔

    گائے کے تحفظ کے دعویدار گروہوں اور ہندوتوا نظریات سے وابستہ تنظیموں نے بھی مختلف ریاستوں میں احتجاج کیا۔ 22 جون کو پنجاب میں گئو رکشا پریشد کے مظاہرین نے جج تبسم خان کا پتلا نذر آتش کیا، جبکہ تین روز بعد راشٹریہ بجرنگ دل نے اتر پردیش میں احتجاج کرتے ہوئے سزا یافتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    انڈیاکے سابق سپریم کورٹ جج مارکنڈے کاٹجو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جج تبسم خان کو ان کے فیصلے کے بجائے ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انصاف کے اصولوں کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلوں پر تنقید قانونی دلائل کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ جج کے مذہب کی بنیاد پر۔

    مارکنڈے کاٹجو نے بعد میں بتایا کہ جج تبسم خان نے انہیں پیغام بھیج کر حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلسل دھمکیوں سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے انصاف کرنا کوئی جرم بن گیا ہو۔

    سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ کا کہنا ہے کہ کسی جج کو دھمکیاں دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے کیونکہ عدلیہ جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہے۔ ان کے مطابق اگر جج خوف کے ماحول میں کام کریں گے تو انصاف کی فراہمی متاثر ہوگی۔

    دوسری جانب پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور دو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سائبر سیل دھمکی آمیز ویڈیوز شیئر کرنے والے دیگر افراد کی شناخت میں مصروف ہے اور سوشل میڈیا پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    سپریم کورٹ کے وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ ریاستی حکومت اور عدلیہ کو جج تبسم خان کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے 2024 میں ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج گوتم پٹیل کو فیصلے کے بعد ملنے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ریٹائرڈ جج کو ریاستی تحفظ مل سکتا ہے تو حاضر سروس ضلعی جج بھی اسی سطح کی سکیورٹی کے مستحق ہیں، چاہے ان کا مذہب یا مقدمے کی نوعیت کچھ بھی ہو۔

    گزشتہ ہفتے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا کہ جج تبسم خان کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جج کو فراہم کی گئی پولیس سکیورٹی بدستور برقرار رکھی جائے۔

  • پہلی اپریل 2016، سیدہ فرزانہ شاہ کی یاد میں: جب ایک خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خود ناانصافی کا شکار ہو گئیں!

    پہلی اپریل 2016، سیدہ فرزانہ شاہ کی یاد میں: جب ایک خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خود ناانصافی کا شکار ہو گئیں!

    یہ قصہ مارچ 2016 میں شروع ہوتا ہے، جس کے آخر میں ایک خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدلیہ اور انتظامیہ پر غالب مردانہ بالادستی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ ان کا نام سیدہ فرزانہ شاہ تھا۔

    انہوں نے عدالتوں میں جب غریبوں کو انصاف کے لیے دھکے کھاتے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ وہ جج بنیں گی، غریب اور بے پہنچ لوگوں کی آواز بنیں گی۔ وہ چاہتیں تو کسی دوسرے شعبے میں بھی جا سکتی تھیں، مگر انہوں نے سندھ کے عدالتی نظام کا حصہ بننا قبول کیا۔

    سندھ کے ‘ویتنام’ کے طور پر مشہور ضلع دادو کے شہر میہڑ کے ایک تعلیم یافتہ سید گھرانے میں یکم مارچ 1965 کو پیدا ہونے والی سیدہ فرزانہ انور شاہ نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کمیشن کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا اور نو اپریل 1996 کو سول جج کے طور پر سندھ کے عدالتی نظام کا حصہ بنیں۔

    فرزانہ شاہ کا پورا عدالتی کیریئر بے داغ رہا۔ ان پر کافی دباؤ بھی آتے رہے، مگر انہوں نے ہمیشہ انصاف پر مبنی فیصلے دیے۔ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مقدمات کو جلد نمٹایا اور بے سہارا لوگوں کے لیے سہارا بن کر ابھریں۔

    سندھ کے عدالتی نظام کے تحت کام کرنے والے 87 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی فہرست میں وہ اس وقت سینیارٹی لسٹ میں 14ویں نمبر پر تھیں۔ ترقی کی صورت میں وہ سندھ ہائی کورٹ کی جج بن جاتیں۔

    فرزانہ شاہ کو کیا معلوم تھا کہ روایتی سرداروں اور خراب امن و امان کے حوالے سے مشہور ضلع گھوٹکی ان کی زندگی اور عدالتی کیریئر کے حوالے سے ان کا آخری ضلع ثابت ہوگا۔

    ہوا یوں کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں سول جج میرپور ماتھیلو اعجاز علی شاہ نے مختلف مقدمات میں پولیس کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر انسپکٹر رانا آصف کو پندرہ سو روپے جرمانہ اور عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی۔

    عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد انسپکٹر رانا آصف خیریت سے گھر چلا گیا، مگر اگلے دن بلڈ پریشر بڑھنے کے باعث اسے دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گیا۔ ان کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ انسپکٹر رانا آصف کی موت سول جج اعجاز شاہ کے رویے کی وجہ سے ہوئی۔ اس صورتحال کے بعد ایس ایس پی گھوٹکی ثاقب سلطان سیشن کورٹ گئے اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی فرزانہ شاہ سے ان کے چیمبر میں ملے۔

    فرزانہ شاہ نے سارا معاملہ سننے کے بعد ایس ایس پی سے کہا کہ آپ مجھے اس پورے معاملے کی رپورٹ تحریری طور پر دیں، ہم اس کی انکوائری کرواتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اس جواب کے بعد ایس ایس پی ثاقب سلطان نے ان کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا اور ان کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔اس توہین آمیز رویے اور حکم کی وجہ سے فرزانہ شاہ کو صدمہ پہنچا۔ اس صدمے میں ان کا بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا، جو ان کے لیے دل کے دورے اور دماغ کی رگ پھٹنے کا سبب بنا۔

    انہیں فوراً سی ایم ایچ پنو عاقل منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ایمرجنسی میں کراچی کے ساؤتھ سٹی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی اور انصاف کی آخری جنگ یکم اپریل 2016 کو ہار دی اور انتقال کر گئیں۔عجیب اتفاق ہے کہ فرزانہ شاہ نے اپریل کے مہینے میں عدالتی ملازمت جوائن کی اور اپریل ہی میں اس دنیا سے اپنا عدالتی کیریئر ادھورا چھوڑ کر رخصت ہو گئیں۔

    جن حالات میں ان کی موت واقع ہوئی، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ جب معاشرے کو انصاف دینے والے لوگ خود ایسے دباؤ، گھٹن اور ناانصافی کا شکار ہوں تو پھر عام انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔

    اس طرح سندھ کی عدلیہ ایک بہترین، انصاف پسند خاتون جج سے محروم ہو گئی۔