Tag: تہوار

  • بسنت محض تہوار نہیں پنجاب کی ثقافت: دو دہائیوں بعد لاہور کے آسمان پر بسنت کی جلد واپسی

    بسنت محض تہوار نہیں پنجاب کی ثقافت: دو دہائیوں بعد لاہور کے آسمان پر بسنت کی جلد واپسی

    نئے سال 2026 کا آغاز لاہور کے لیے ایک تاریخی خوشخبری لے کر آیا ہے۔

    ‘پتنگ باز سجناں سے، پتنگ باز بلماں سے،

    آنکھوں آنکھوں سے الجھی ڈور کہ دل ہو بو کاٹا۔’
    لاہور کی گلیوں اور چھتوں پر گونجنے والے یہ گیت ایک بار پھر حقیقت بننے جا رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے تحت تقریباً 20 سال بعد لاہور کا آسمان دوبارہ رنگ برنگی پتنگوں سے سجے گا۔ یہ منظر پاکستان کے امن اور خوشحالی کا پیغام دنیا تک پہنچائے گا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری کی کاوشیں رنگ لے آئیں۔ماحولیاتی اور سیاحتی وژن کے ساتھ عظمیٰ بخاری کی جانب سے پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے کی حکمت عملی نے اس منصوبے کو عملی شکل دی۔
    ان کے مطابق بسنت محض تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی ثقافت اور معیشت کا اہم ستون ہے۔

    انتظامیہ اور اسٹیک ہولڈرز کا اشتراک

    ڈپٹی کمشنر لاہور نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے چھ سے آٹھ فروری 2026 کو بسنت میلے کی تاریخیں مقرر کر دی ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس حفاظتی ڈور اور قانونی ضوابط کے نفاذ کے لیے متحرک ہیں۔

    پتنگ باز ایسوسی ایشنز حکومت کے ساتھ مل کر محفوظ پتنگ بازی کی مہم چلا رہی ہیں۔کاروباری طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور پتنگ سازی سے وابستہ لاکھوں ہنرمندوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

    عالمی سیاحوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے دعوت

    دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے۔لاہور کی مہمان نوازی، روایتی کھانے اور چھتوں پر ہونے والے موسیقی کے پروگرام اس میلے کو منفرد بناتے ہیں۔

    یہ تہوار پنجاب کی قدیم ثقافت، رنگین لباس اور اجتماعی خوشی کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

    محفوظ بسنت اور ضابطے

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذاتی دلچسپی سے بسنت کو جدید حفاظتی نظام سے جوڑا گیا ہے۔پتنگ سازوں کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ خونی ڈور، دھاتی تار اور نائلون کی ڈور پر مکمل پابندی ہوگی۔صرف منظور شدہ نو تاری سوتی ڈور استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی تار کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    پاکستان کا روشن چہرہ

    بسنت کی بحالی سے لاہور کے ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور دستکاری کی صنعت میں نئی جان پڑی ہے۔یہ اقدام پاکستان کو ایک ذمہ دار اور پرکشش سیاحتی ملک کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    نئے سال کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں اور سمندر پار پاکستانیوں کو دعوت دی گئی ہے۔لاہور کے آسمان کو رنگین پتنگوں سے سجا دیکھنا اور بو کاٹا کی گونج میں خوشی بانٹنا اس میلے کا خاصہ ہوگا۔

    تاریخ کے جھروکوں سے

    پتنگ کی کہانی جنگی حکمت عملی سے تہوار تک کے سفر کی عکاس ہے۔ لاہور کی بسنت آج خوشی اور امن کی علامت ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق پتنگ کی ابتدا چین میں ہوئی۔ دو سو قبل مسیح میں ایک چینی سپہ سالار نے قلعہ فتح کرنے کے لیے پتنگ کا استعمال کیا۔

    ہوا کے رخ کو سمجھ کر کاغذ اور تنکوں سے بنی ساخت نے دشمن کے فاصلے کا اندازہ ممکن بنایا۔یوں ایک پتنگ نے جنگ کا رخ بدل دیا۔ قدیم چین میں پتنگیں جاسوسی اور پیغام رسانی کے لیے بھی استعمال ہوتی رہیں۔یہ اپنے دور کا ایک ابتدائی فضائی آلہ سمجھا جاتا ہے۔

    بعد ازاں یہ فن کوریا اور جاپان پہنچا۔جاپان میں ایک زمانے میں اسے صرف شاہی خاندان تک محدود رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ برصغیر پہنچا اور لاہور اس کا نمایاں مرکز بن گیا۔

    پاکستان میں آج پتنگ بازی ایک صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔کاغذ، بانس اور دھاگے کی تیاری سے لاکھوں خاندان وابستہ ہیں۔

    ماضی میں غیر قانونی ڈور نے اس روایت کو نقصان پہنچایا۔اب حکومت پنجاب کی سرپرستی میں اسے محفوظ اور منظم انداز میں بحال کیا جا رہا ہے۔پتنگ کی ڈور ہمیشہ رابطے اور انسانی تخلیق کی علامت رہی ہے۔لاہور کی بسنت اسی روایت کو جدید قوانین کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔