Tag: ترکی

  • آرٹیمس کا مندر: خوبصورتی، طاقت اور تاریخ کی روشن مثال

    آرٹیمس کا مندر: خوبصورتی، طاقت اور تاریخ کی روشن مثال

    آرٹیمس کا مندر قدیم ترکی کے شہر افسس میں واقع ایک عظیم اور مقدس عبادت گاہ تھا۔ یہ مندر نہ صرف عبادت کے لیے بلکہ اپنی خوبصورتی، طاقت اور انسانی ہنر کے شاہکار کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یونانیوں کے نزدیک آرٹیمس دیوی شکار، زچگی، جنگل اور پاکیزگی کی دیوی تھی اور افسس کے باشندے اسے اپنے شہر کا محافظ مانتے تھے، جو بیماریوں اور دشمنوں سے حفاظت کرتی تھی۔

    آرٹیمس کا مندر آج کے ترکی کے جدید شہر اِزمیر کے بندرگاہی علاقے سے تقریباً 75 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا ۔ آج یہ مقام جدید قصبے سلجوک کے کنارے پر موجود ہے۔

    آرٹیمس مندر کی تعمیرکی تاریخ واضح نہیں ہے۔ تاہم کہتے ہیں کہ مندر کا پہلا ورژن ساتویں صدی قبل مسیح میں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد، تقریباً پانچ سو پچاس قبل مسیح کے قریب، یونانی معمار کیریٹ سے چرسافرون کی قیادت میں مندر کی دوبارہ تعمیر کا آغاز ہوا، جس کے لیے لدیا کے بادشاہ کروسس نے مالی مدد فراہم کی۔ یہ نیا مندر تقریباً تین سو چونیس قبل مسیح تک قائم رہا، جب ایک شخص ہیرواسٹریٹس نے اسے آگ لگا دی جس سے مندر کو مکمل نقصان پہنچا۔

    آرٹیمس کے لیے وقف یہ مندر چھٹی صدی قبل مسیح میں بنایا گیا تھا تاکہ اس کی عظمت دنیا بھر میں مشہور ہو جائے۔ اس کا فن تعمیر اس دور کے لیے منفرد تھا، جس میں 127 سنگِ مرمر کے ستون شامل تھے، ہر ستون کی لمبائی تقریباً 60 فٹ تھی۔ اس کے ستون ایسے کھڑے تھے جیسے ہاتھ جوڑ کر دیوی کی عبادت کر رہے ہوں۔عمارت کا رقبہ ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر تھا۔ چھت پر کشیدہ کاری اور بہترین فن کا کام دیکھا جا سکتا تھا۔ تاریخی ماہرین اسے دنیا کا پہلا مکمل سنگِ مرمر سے بنا ہوا عمارتی ڈھانچہ قرار دیتےہیں۔ اس کے ستون ایسے کھڑے تھے جیسے ہاتھ جوڑ کر دیوی کی عبادت کر رہے ہوں۔

    مندر کا پہلا ورژن ساتویں صدی قبل مسیح میں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد، تقریباً پانچ سو پچاس قبل مسیح کے قریب، یونانی معمار کیریٹ سے چرسافرون کی قیادت میں مندر کی دوبارہ تعمیر کا آغاز ہوا، جس کے لیے لدیا کے بادشاہ کروسس نے مالی مدد فراہم کی۔ یہ نیا مندر تقریباً تین سو چونیس قبل مسیح تک قائم رہا۔

    تین سو پینسٹھ قبل مسیح میں ایک آگ لگانے والے شخص ہیروستریتس نے اپنی شہرت کے لیے مندر کو آگ لگا دی، جس سے یہ شاندار عمارت خاکستر ہو گئی۔ اس شخص نے کہا کہ اگر وہ کچھ نیا نہیں بنا سکتا تو وہ دنیا کے مشہور کام کو تباہ کر دے گا۔ اس حادثے کی رات یونانی بادشاہ سکندر اعظم کی ولادت بھی ہوئی تھی، جس کے باعث کہا جاتا ہے کہ دو عظمتیں ایک رات میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتی تھیں، اس لیے ایک جل گئی، ایک پیدا ہو گئی۔

    بعد میں سکندر اعظم نے مندر کی دوبارہ تعمیر کے لیے مالی امداد کی پیشکش کی، مگر شہریوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ خدا کے گھر پر بادشاہ کا نام نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مندر کو پہلی تعمیر سے بھی زیادہ شاندار انداز میں دوبارہ تعمیر کیا۔ مندر نے کئی صدیوں تک اپنی شان و شوکت قائم رکھی، مگر وقت اور مذہبی جنگوں نے اس کی حالت کو خراب کیا۔ 262 عیسوی میں گوتھ قبائل نے مندر کا ایک بڑا حصہ تباہ کیا، اور بعد میں رومی مسیحی حکمرانوں نے دیگر بت پرستانہ مقامات کی طرح اس مندر کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا۔ مندر کے بڑے بلاکس اور ستون عثمانی دور میں بھی قریبی عمارتوں میں استعمال ہوتے رہے۔

    آج آرٹیمس کا مندر صرف ایک اکیلا ستون رہ گیا ہے۔ جو تاریخ کی گواہی دیتا ہے۔ یہ مندر ثابت کرتا ہے کہ انسان صرف عمارتیں نہیں بناتا بلکہ اپنے عقیدے اور ثقافت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔ آرٹیمس کا مندر دنیا کے سات عجوبوں میں شامل ہے کیونکہ اس نے مذہب کو فنون لطیفہ اور فنِ تعمیر کو آسمانی مقام دیا، اور افسس شہر کو دنیا کے مرکز میں جگہ دی۔

    یہ داستان ہے اس مذہبی اور فن تعمیر کی وراثت کی جہاں خوبصورتی اور ہنر بھی فتح پاتے رہے اور تباہی بھی برداشت کی گئی، لیکن یہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔