Tag: تحقیق

  • کزن میرج : 34 ہزار سے زائد پاکستانیوں میں ایک جین قدرتی طور پر غیر فعال نئی ادویات کی امید، عالمی جریدے میں شایع تحقیق

    کزن میرج : 34 ہزار سے زائد پاکستانیوں میں ایک جین قدرتی طور پر غیر فعال نئی ادویات کی امید، عالمی جریدے میں شایع تحقیق

    پاکستان میں ہونے والی ایک غیر معمولی سائنسی تحقیق نے دنیا بھر کے طبی ماہرین اور ادویات بنانے والی صنعت کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے جینیاتی تجزیے کے دوران 34 ہزار سے زیادہ ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے، جن کے جسم میں کم از کم ایک جین قدرتی طور پر مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں نئی اور محفوظ ادویات کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    یہ تحقیق دنیا کے معروف سائنسی جریدے ‘نیچر’ میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے تحت پاکستان جینوم ریسورس (Pakistan Genome Resource) کے نام سے پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا جینیاتی ڈیٹا بیس تیار کیا گیا، جس میں ایک لاکھ 73 ہزار 303 پاکستانیوں کے جینوم کا تجزیہ کیا گیا۔

    تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں تقریباً 20 ہزار ایسے جین ہوتے ہیں جو مختلف پروٹین بنانے اور جسم کے معمول کے افعال انجام دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض افراد میں قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک جین کی دونوں نقول کام کرنا بند کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ جین مکمل طور پر غیر فعال ہو جاتا ہے۔ سائنس دان ایسے افراد کو ‘ہیومن ناک آؤٹ’ قرار دیتے ہیں۔

    تحقیق میں 34 ہزار سے زائد ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی، جن میں کم از کم ایک جین مکمل طور پر غیر فعال پایا گیا۔ مجموعی طور پر 6 ہزار 476 مختلف جین ایسے ملے جن میں یہ قدرتی تبدیلی موجود تھی۔

    تحقیق کے مطابق یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر کوئی شخص زندگی بھر کسی مخصوص جین کے بغیر بھی صحت مند رہتا ہے تو اس سے سائنس دانوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس جین کو ادویات کے ذریعے نشانہ بنانا نسبتاً محفوظ ہو سکتا ہے۔ یہی معلومات نئی ادویات کی تیاری میں مدد دیتی ہیں۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ادویات تیار کرنے والی کمپنیاں برسوں سے ایسے جین تلاش کرتی رہی ہیں جنہیں محفوظ طریقے سے غیر فعال کیا جا سکے تاکہ بیماریوں کا علاج ممکن ہو۔ قدرتی طور پر ایسے افراد کی موجودگی اس عمل کے لیے اہم سائنسی ثبوت فراہم کرتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان میں دریافت ہونے والی جینیاتی تبدیلیوں میں سے تقریباً نصف ایسی ہیں جو اس سے پہلے عالمی جینیاتی ڈیٹا بیس میں موجود نہیں تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی آبادی میں جینیاتی تنوع کا ایک بڑا حصہ پہلی مرتبہ عالمی سائنس کے سامنے آیا ہے۔

    تحقیق میں شامل افراد پاکستان کے 23 شہروں سے تعلق رکھتے تھے۔ محققین کے مطابق پاکستان کی آبادی میں قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کی نسبت زیادہ ہونے کی وجہ سے بعض نایاب جینیاتی تبدیلیاں دونوں والدین سے ایک ہی فرد میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے ایسے قدرتی طور پر غیر فعال جینوں کا مطالعہ ممکن ہو جاتا ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جینوم ریسورس نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی طبی تحقیق کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے سائنس دان مختلف جینوں کے حقیقی کردار کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے اور مستقبل میں دل کی بیماریوں، ذیابیطس، موٹاپے، گردوں کی بیماریوں، اعصابی امراض اور دیگر بیماریوں کے لیے نئی ادویات کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

    یہ تحقیق پاکستان اور بین الاقوامی اداروں کے سائنس دانوں کے اشتراک سے مکمل کی گئی، جبکہ نتائج دنیا کے معروف سائنسی جریدے ‘نیچر’ میں شائع کیے گئے ہیں۔

  • موسم بدلتے ہی مردانہ زرخیزی کیوں بدل جاتی ہے؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    موسم بدلتے ہی مردانہ زرخیزی کیوں بدل جاتی ہے؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کو عموماً انسانی مزاج، نیند، خوراک یا بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اب سائنسدانوں نے انسانی تولیدی صحت سے متعلق بھی ایک دلچسپ پہلو سامنے رکھا ہے۔ نئی طبی تحقیق کے مطابق مردوں میں نطفے کی کارکردگی سال کے مختلف مہینوں میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، اور حیران کن طور پر گرم مہینوں میں اس کی کارکردگی نسبتاً بہتر دیکھی گئی ہے۔

    برطانیہ، کینیڈا اور ڈنمارک کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں پندرہ ہزار سے زائد مردوں کے سیمین سیمپلز کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا موسم اور درجہ حرارت انسانی تولیدی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔

    ماہرین نے پایا کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں نطفے کی حرکت کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ طبی زبان میں اسے ‘موٹیلٹی’ کہا جاتا ہے، اور یہی خصوصیت نطفے کو بارآوری کے قابل بناتی ہے۔ اگر سپرم مناسب انداز میں حرکت نہ کرسکے تو حمل کے امکانات کم ہوسکتے ہیں، چاہے نطفوں کی تعداد نارمل ہی کیوں نہ ہو۔

    تحقیق کے مطابق دلچسپ بات یہ رہی کہ سپرم کی تعداد میں زیادہ فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا، البتہ ان کی حرکت اور فعالیت موسم کے ساتھ واضح طور پر تبدیل ہوتی رہی۔ سردیوں کے مہینوں، خاص طور پر دسمبر اور جنوری میں، یہ صلاحیت کم ترین سطح پر دیکھی گئی۔

    ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا تولیدی نظام درجہ حرارت کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ مردانہ خصیے جسم کے بیرونی حصے میں اس لیے موجود ہوتے ہیں تاکہ ان کا درجہ حرارت باقی جسم سے قدرے کم رہ سکے۔ عام انسانی جسم تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ پر کام کرتا ہے، جبکہ خصیوں کا درجہ حرارت اس سے دو سے چار ڈگری کم ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ قدرتی توازن متاثر ہو تو سپرم کی ساخت، حرکت اور مجموعی معیار متاثر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ گرمی، تنگ لباس، مسلسل بیٹھے رہنے یا لیپ ٹاپ کو گود میں استعمال کرنے جیسے عوامل کو بھی بعض اوقات مردانہ زرخیزی میں کمی سے جوڑا جاتا ہے۔

    تحقیق میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ مختلف خطوں میں رہنے والے مردوں میں بھی تقریباً ایک جیسا موسمی پیٹرن دیکھا گیا۔ یعنی سرد ممالک ہوں یا گرم، دونوں میں سپرم کی حرکت موسم کے ساتھ بدلتی رہی۔

    یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر ایلن پیسی، جو اس تحقیق کا حصہ تھے، کے مطابق انہیں توقع تھی کہ گرم علاقوں میں نتائج مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن فلوریڈا جیسے خطوں میں بھی وہی رجحان دیکھا گیا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ معاملہ صرف بیرونی درجہ حرارت کا نہیں بلکہ جسم کے اندر ہونے والی موسمی حیاتیاتی تبدیلیوں کا بھی ہوسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں ہارمونز، نیند، دھوپ کے دورانیے اور روزمرہ سرگرمیوں میں موسمی تبدیلیاں بھی تولیدی نظام پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ کچھ سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سورج کی روشنی اور وٹامن ڈی کی مقدار بالواسطہ طور پر سپرم کی کارکردگی سے جڑی ہوسکتی ہے، اگرچہ اس پہلو پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے بانجھ پن کے علاج اور فرٹیلٹی ٹیسٹس کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے ٹیسٹنگ یا علاج کے اوقات کا تعین بھی موسمی عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔

    ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ انسانی جسم فطرت اور موسم سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ موسم صرف درجہ حرارت یا لباس تبدیل نہیں کرتا بلکہ یہ انسانی جسم کے اندر خاموشی سے چلنے والے کئی اہم نظاموں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔