سورمی ڈھِجانی نظاماني، فقیر فتح محمد نظاماني کی اہلیہ اور فقیر عبدالقادر نظاماني کی والدہ تھیں۔ حر تحریک کے دوران وہ برطانوی سامراج کے خلاف گوریلا جدوجہد میں عملی طور پر شریک رہیں۔ اماں ڈھِجانی نظاماني نے حر مجاہدین کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف متعدد چھاپہ مار اور گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیا۔ بالآخر برطانوی افواج نے انہیں سانگھڑ سے گرفتار کر لیا۔
اماں ڈھِجانی نظاماني نے اپنی زندگی کے تقریباً دس سال سینٹرل جیل حیدرآباد، سینٹرل جیل سکھر اور مختلف عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ چند سال قبل وہ تقریباً پچانوے برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں۔ سندھ آج بھی ان کی بہادری اور جرأت کو سلام پیش کرتا ہے۔
اسی طرح مَکھی کے علاقے، گھِجھر پٹ کے گاؤں محمد بخش ہنگور کے بہادر حریانی گاؤں میں، جب مرد موجود نہیں تھے، تو گاؤں کی تمام عورتوں نے مل کر مورچہ بندی کی اور حریانی مسمات شاہل کی قیادت میں انگریز فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں مسمات شاہل نے جامِ شہادت نوش کیا۔

سنجهوري کے گاؤں بھڑی کی سُکھی خاصخيلي بھی حر تحریک کی جدوجہد کے دوران برطانوی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے گرفتار ہوئیں اور انہوں نے اپنی جوانی کے قیمتی سال سینٹرل جیل سکھر میں گزارے۔ اسی واقعے میں ان کی تیرہ سالہ رشتہ دار بچی بختاور خاصخيلي انگریز فوج کے ہاتھوں شہید ہوئی۔
گاؤں گلشير وسان کی حریانی مسمات حاکم زادی کو بھی حر گوریلوں کا ساتھ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال سینٹرل جیل حیدرآباد اور سینٹرل جیل سکھر میں گزارے، جبکہ کچھ عرصہ سخت مشقت کے ساتھ عقوبت خانوں میں بھی قید رہیں۔
مکھی کے گاؤں کھکارو پٹ کی حریانی مائی قائماں ملاني نے دیگر ساتھی خواتین کے ساتھ مل کر انگریز فوجی دستوں کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ بالآخر وہ گرفتار ہوئیں اور طویل قید کاٹی۔
جھول کی غلام فاطمہ کیریو، المعروف کرڑی کیرانی نے تو ایک مسلح دستہ تک منظم کیا تھا، جو اکثر رات کے وقت انگریز فوجی چوکیوں پر حملہ کرتا، فوجیوں کو ہلاک کرتا اور ان کا اسلحہ و گولہ بارود چھین کر لے جاتا تھا۔ انہی اچانک اور جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے انہیں کرڑی کیریانی کہا جانے لگا۔ آخرکار وہ بھی گرفتار ہوئیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارا۔
اسی طرح وطن کی آزادی کے لیے “آزادی یا موت” اور “وطن یا کفن” کے نعرے کے تحت جدوجہد کرنے والی حریانی سون بائي بهن کو بھی سندھ کی ایک عظیم خاتون گوریلا قائد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 1888 سے 1896 کے دوران جب حر تحریک کا آغاز ہوا تو حر گوریلا کارروائیوں میں مائی سون بائي بهن کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔
مائی سون بائي بهن، حر کمانڈر محبت فقیر بهن کی بہن اور عظیم مجاہد وريام فقير خاصخيلي (رلي وارو) کی اہلیہ تھیں۔ ان کے دو بیٹے بچو بادشاہ خاصخيلي اور پير بخش فقير خاصخيلي تھے، جن میں پير بخش فقير خاصخيلي نار وارو فقير کے نام سے مشہور ہوئے۔
شہید بچو بادشاہ کی شادی مائی سعيدان خاصخيلی سے ہوئی جبکہ ان کے بھائی پير بخش فقير کی شادی مائی بيگم بهن سے ہوئی۔ جب بچو بادشاہ نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور گوریلا جنگ کا آغاز ہوا تو اگر ان کارروائیوں میں مائی سون بائی بهن کا ذکر نہ ہو تو حر تحریک کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔

مائی سون بائي بهن نہ صرف اپنے بیٹوں کے ساتھ گوریلا کارروائیوں میں شریک رہیں بلکہ ان کی دونوں بہوئیں، مائی سعيدان اور مائی بيگم بهن بھی ان معرکوں میں برابر کی شریک تھیں۔ مائی سون بائي بهن کے بھائی محبت فقير بهن اور پير بخش وسان المعروف پيرو وزير بچو بادشاہ کے گوریلا دستے کے کمانڈر تھے۔
بچو بادشاہ کی قیادت میں حر مجاہدین نے انگریزوں کا جینا دوبھر کر دیا اور ایک متبادل حکومت قائم کر لی، جس کا دائرہ سانگھڑ، میرپورخاص اور تھرپارکر تک پھیلا ہوا تھا۔ مکھی ٻيلي سے مٹھڑاؤ اور شہدادپور تک کا پورا علاقہ انگریز فوج کے خلاف شدید مزاحمت کا مرکز بنا رہا۔
بعد ازاں ایک سازش کے تحت بچو بادشاہ، عيسو فقير ڏاهري اور دیگر حر مجاہدین گرفتار ہوئے اور انہیں سانگھڑ شہر کے چوک میں سرِعام پھانسی دے دی گئی۔ پير بخش وسان عرف پيرو وزير انگریز فوج سے مقابلے میں شہید ہوئے۔
ان پھانسیوں کے بعد مائی سون بائي بهن اور ان کی دونوں بہوئیں بھی گرفتار ہوئیں اور انہیں عمر قید کی سزا دے کر کالا پانی (جيسلمير جیل) بھیج دیا گیا۔ اسی طرح سینکڑوں حر مرد و خواتین کو عقوبت خانوں میں قید رکھا گیا۔ طویل اسیری کے بعد جب برطانوی حکومت برصغیر سے ختم ہوئی تو ان بہادر حریانی خواتین کو آزادی نصیب ہوئی۔
حر تحریک کی ان خواتین میں سعدان خاصخيلن، مريم خاصخيلن، بصران خاصخيلن، مرادان خاصخيلن، فريدان خاصخيلن، زهران خاصخيلن، عاقلان خاصخيلن، مائی بھان خاصخيلن، ہوندل خاصخيلن، مرکان خاصخيلن، لال خاتون خاصخيلن، سرندي خاصخيلن، ہول خاتون خاصخيلن، جادو خاصخيلن سمیت بے شمار گمنام حریانی خواتین شامل تھیں، جنہوں نے سندھ وطن کے لیے جدوجہد کی، شہادتیں دیں، جیلیں کاٹیں، عقوبتیں برداشت کیں اور روپوشی کی زندگی گزاری۔

