وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر کے منظور کی ہے جبکہ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ورسائی محل میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے مختصر طور پر کہا، ‘یہ معاہدہ ہو چکا ہے، میں نے ابھی ورسائی میں اس پر دستخط کیے ہیں۔’
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ طور پر معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہاپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔
انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی دانشمندانہ قیادت اور امن کے لیے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔
شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت میں قطر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی اس عمل میں تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں، غیر معمولی لگن اور امن کے فروغ کے لیے کردار نے اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں نمایاں حصہ ڈالا۔

