Tag: تاخیر

  • پاکستان میں فائیو جی کے نفاذ میں تاخیر ، حکومتی کمزوریاں اور عوامی نقصان

    پاکستان میں فائیو جی کے نفاذ میں تاخیر ، حکومتی کمزوریاں اور عوامی نقصان

    دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے اور فائیو جی ٹیکنالوجی جدید معیشت کی بنیاد بنتی جا رہی ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان اب تک اس دوڑ میں شامل نہیں ہو سکا۔ خود حکومتی اعتراف کے مطابق پاکستان فائیو جی کے معاملے میں کم از کم سات سال پیچھے رہ چکا ہے۔

    اس تاخیر کا سب سے زیادہ نقصان عام صارفین، کاروباری طبقے، طلبہ اور نوجوان فری لانسرز کو ہو رہا ہے، جو تیز اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کے بغیر عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پا رہے۔

    فائیو جی ٹیکنالوجی اب دنیا میں نئی نہیں رہی، بلکہ کئی ممالک اس سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔ ایلان مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے سیٹلائٹ نظام اسٹارلنک نے مواصلات کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے، لیکن پاکستان میں فائیو جی آج بھی محض ایک خواب ہی بنا ہوا ہے۔

    پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ وہ طویل قانونی تنازعات ہیں جو تیز رفتار خدمات کے لیے ضروری اہم اسپیکٹرم بینڈز پر جاری رہے ہیں۔

    خاص طور پر 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں تقریباً 140 میگا ہرٹز کا اہم حصہ، جو فائیو جی کے لیے نہایت ضروری ہے، بڑی ٹیلی کام کمپنیوں جیسے زونگ اور سن ٹی وی سے متعلق عدالتی مقدمات میں پھنسا رہا۔ ان مقدمات کی وجہ سے طویل قانونی کارروائیاں ہوئیں اور اسپیکٹرم کی نیلامی رک گئی، جس صورتحال کو کئی برسوں تک فائیو جی کے آغاز کو یرغمال بنائے رکھنے کے مترادف قرار دیا گیا۔

    ان قانونی تنازعات میں بار بار حکمِ امتناعی جاری ہوتے رہے اور ملکیت سے متعلق دعوے حل نہ ہو سکے، جس کے باعث حکومت مکمل اسپیکٹرم کو کلیئر کرنے اور اس کی نیلامی کرنے میں ناکام رہی۔ نتیجتاً فائیو جی کے مضبوط اور مؤثر نفاذ کے لیے درکار اسپیکٹرم دستیاب نہ ہو سکا۔

    جنوبی ایشیا کے تقریباً تمام ممالک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کئی برس پہلے ہی دستیاب ہو چکی تھی، جبکہ پاکستانی صارفین اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے محروم رہے ہیں۔

    ملکی معاشی حالات نے بھی فائیو جی کے خواب کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور زرمبادلہ کے بحران نے نہ صرف حکومت بلکہ نجی شعبے کو بھی کمزور کر دیا ہے۔

    فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جس میں فائبر آپٹک نیٹ ورک، نئے ٹاورز اور جدید آلات شامل ہیں۔ ایسے حالات میں جب ٹیلی کام کمپنیاں پہلے ہی بھاری ٹیکسوں اور کم آمدن کا سامنا کر رہی ہوں، فائیو جی میں سرمایہ کاری ان کے لیے ایک بڑا رسک بن چکی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی پالیسیوں اور طویل عرصے تک فائر وال نافذ کرنے کی کوششوں کے باعث بھی فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی۔

    ہر نئی حکومت ڈیجیٹل ترقی کے بڑے دعوے تو کرتی ہے، مگر عملی اقدامات یا تو سست روی کا شکار رہتے ہیں یا سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ فائیو جی سے متعلق کئی کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس بنائے گئے، رپورٹس تیار ہوئیں، مگر ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

    اس غیر یقینی ماحول نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح کیا ہے۔

    پاکستان میں بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمزوری بھی ایک حقیقت ہے۔ آج بھی ملک کے کئی علاقوں میں فور جی سروس مکمل اور معیاری نہیں، جبکہ فائبر براڈبینڈ کی رسائی محدود ہے۔

    حکومتی دعووں کے مطابق رواں سال کے دوران فائیو جی کا آغاز ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے ہو جائے گا، مگر یہ اقدام ڈیجیٹل خلیج کو مزید بڑھا دے گا۔ حکومت اکثر یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پہلے فور جی اور فائبر نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ضروری ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس سمت میں پیش رفت بھی انتہائی سست ہے۔

    ریگولیٹری مسائل اور اسپیکٹرم کی بلند قیمتیں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ماضی میں حکومت نے اسپیکٹرم نیلامیوں کو آمدن کے ذریعے کے طور پر دیکھا، جس کے باعث ریزرو پرائس بہت زیادہ رکھی گئی۔

    اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس نیٹ ورک کی بہتری کے لیے کم وسائل بچے۔ ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر فائیو جی اسپیکٹرم بھی مہنگا رکھا گیا تو اس کا بوجھ آخرکار صارفین پر پڑے گا یا پھر نیٹ ورک کی توسیع سست ہو جائے گی۔

    تاہم، تاخیر کے نقصانات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل کاروبار، آئی ٹی ایکسپورٹس، ای ہیلتھ، آن لائن تعلیم اور اسمارٹ زراعت جیسے شعبے تیز انٹرنیٹ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔

    نوجوان فری لانسرز کو بار بار انٹرنیٹ کی خرابی اور کم رفتار کا سامنا رہتا ہے، جس سے ان کی ساکھ اور آمدن متاثر ہوتی ہے۔ طلبہ آن لائن کلاسز اور تحقیقی مواد تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر پاتے، جبکہ چھوٹے کاروبار عالمی منڈی سے جڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔

    عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ایک وجہ ہمسایہ ممالک سے موازنہ بھی ہے، جہاں معاشی مسائل کے باوجود فائیو جی پر عملی پیش رفت ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بار بار کی تاخیر نے ریاستی اداروں کی صلاحیت اور سنجیدگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں فائیو جی کی تاخیر صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی ناکامی، معاشی کمزوری اور ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور ٹھوس اصلاحات نہ کیں، اسپیکٹرم پالیسی کو حقیقت پسندانہ نہ بنایا اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ترجیح نہ دی تو پاکستان مزید پیچھے رہ جائے گا۔

    ڈیجیٹل دنیا میں وقت ضائع کرنا ترقی کے مواقع گنوانے کے مترادف ہے، اور اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی پڑے گی۔