Tag: بےنظیر بھٹو

  • شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، اسلامی ممالک کی پہلی خاتون وزیراعظم

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، اسلامی ممالک کی پہلی خاتون وزیراعظم

    آج پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو بھٹو کی یوم وفات منایا جا رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو بھٹو، جنہیں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل تھا، 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں شہید ہو گئیں۔ ان کی شہادت نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سیاستدانوں اور عوام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

    بے نظیر بھٹو بھٹو نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی روایت کو آگے بڑھانے سے کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی تھے اور ملک کے وزیراعظم بھی رہ چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو بھٹو نے نوجوانی میں ہی سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی پارٹی کی اہم رہنما بن گئیں۔ وہ 1988 میں وہ نہ صرف پاکستان کی پہلی بلکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک کی بھی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور 1993 تک اپنی پہلی مدت پوری کی۔ 1993 میں دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے 1996 تک اس عہدے پر فائز رہیں۔

    بے نظیر بھٹو بھٹو کی سیاست میں عوامی فلاح اور جمہوریت کی مضبوطی پر زور دیا جاتا رہا۔ وہ خواتین کے حقوق، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے سرگرم رہیں۔ ان کی قیادت میں کئی سماجی اور اقتصادی اصلاحات کی گئیں، اگرچہ ان کے دور میں بدعنوانی اور سیاسی بحران بھی زیر بحث رہے۔

    27 دسمبر 2007 کی شام، راولپنڈی کے لیاقت باغ کے جلسے کے دوران ہونے والا خودکش حملہ بے نظیر بھٹو بھٹو کی زندگی کا اختتام تھا۔ اس واقعے نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی اور عوام میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ بے نظیر بھٹو بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور تشدد کی لہر بھی محسوس کی گئی۔

    ہر سال ان کی یوم وفات پر ملک بھر میں مختلف تقریبات اور یادگاریں منعقد کی جاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان اور عوام بے نظیر بھٹو بھٹو کی سیاسی خدمات اور ان کے جمہوری اصولوں کو یاد کرتے ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں جلسے، کانفرنسز اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں ان کی قربانی اور ملک کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

    بے نظیر بھٹو بھٹو کی زندگی اور قیادت آج بھی نوجوان سیاستدانوں اور خواتین کے لیے ایک تحریک اور مثال ہے۔ ان کے اصول، جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد اور عوامی خدمت کا جذبہ آج بھی پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ان کی یاد میں آج بھی عوام ان کے نعرے اور سیاسی ورثے کو زندہ رکھتے ہیں، اور انہیں ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک مضبوط اور یادگار شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

    ۔

  • محترمہ بےنظیر بھٹو کی زندگی کے آخری 72 دن: مزاحمت کا آخری باب

    محترمہ بےنظیر بھٹو کی زندگی کے آخری 72 دن: مزاحمت کا آخری باب

    پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات وقت کی قید سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ ان کا ذکر کسی ایک دن، کسی ایک حادثے یا کسی ایک منصب تک محدود نہیں رہتا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ایسی ہی شخصیت تھیں۔ 27 دسمبر 2007 کو ان کی شہادت ایک المناک واقعہ ضرور تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک طویل، مسلسل اور بے مثال جدوجہد کا آخری باب تھا۔

    ان زندگی کے آخری 72 دن دراصل ان کی پوری زندگی کی کہانی سمیٹے ہوئے تھے، جیلوں سے لے کر جلاوطنی، اقتدار سے لے کر سازشوں، اور بالآخر شہادت تک۔
    یہ وہی جدوجہد تھی جسے حبیب جالب نے یوں سمیٹ دیا تھا:
    دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
    چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
    وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
    ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو
    میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
    حبیب جالب

    آمریت کے اندھیروں میں آنکھ کھولنے والی، ایک جری اور باوقار قیادت

    محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت کسی محفوظ ماحول میں نہیں ہوئی۔ 1977 میں سابق فوجی آمر جنرل ضیا کے مارشل لا نے پاکستان میں جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ اسی دور میں انہوں نے اپنے والد، ذوالفقار علی بھٹو، کی گرفتاری، عدالتی کارروائی اور پھر ان کی پھانسی دیکھی۔ یہ صرف ایک باپ کا قتل نہیں تھا، بلکہ جمہوریت کا قتل تھا، اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے بے نظیر بھٹو کو ایک عام سیاست دان نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت بنا دیا۔

    ضیا الحق کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے سخت ترین جیلیں کاٹیں۔ سکھر اور کراچی کی جیلوں میں قیدِ تنہائی، شدید گرمی، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، اور مسلسل نگرانی، یہ سب تاریخ کا حصہ ہیں۔ وہ ایک نوجوان خاتون تھیں، مگر آمریت کے سامنے جھکنے کو تیار نہ تھیں۔ یہی وہ دور تھا جس نے ان کے اندر وہ حوصلہ پیدا کیا جو بعد میں ان کے آخری دنوں میں پوری شدت سے سامنے آیا۔
    یہی حوصلہ محسن نقوی کے اس شعر میں بولتا دکھائی دیتا ہے:
    ہم اہلِ درد ہیں، انکار نہیں کرتے
    کہ زخم سہتے ہیں، اظہار نہیں کرتے
    محسن نقوی

    جلاوطنی،  مگر جدوجہد کا تسلسل

    ضیا دور کی جیلوں کے بعد جلاوطنی آئی، مگر خاموشی نہیں۔ جلاوطنی میں رہتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی۔ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی علامت بن گئیں۔ ان کا مؤقف واضح تھا: سیاست اقتدار کے لیے نہیں، عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے ہوتی ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار اقتدار سے نکالی گئیں، مگر سیاست سے الگ نہ ہوئیں۔

    اقتدار، رکاوٹیں اور مسلسل مزاحمت

    دو مرتبہ وزیرِاعظم بننے کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو کو کبھی مکمل سیاسی استحکام نہ مل سکا۔ منتخب حکومتوں کی برطرفی، سیاسی مخالفین کے جانب سے کردارکشی، الزامات، احتساب کے نام پر مقدمات، اور میڈیا ٹرائل، یہ سب ان کی سیاسی زندگی کا حصہ رہا۔ مگر انہوں نے کبھی غیر آئینی راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ پارلیمان، آئین اور ووٹ پر ان کا یقین آخری سانس تک قائم رہا۔
    اسی لیے وہ اقتدار سے زیادہ اصولوں کی سیاست کی علامت بن گئیں، جیسا کہ حبیب جالب نے کہا تھا:
    ظلم رہے اور امن بھی ہو
    کیا ممکن ہے تم ہی کہو
    حبیب جالب

    آخری 72 دن: موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

    18 اکتوبر 2007 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھی، بلکہ ایک جرات مندانہ اعلان تھا۔ کراچی میں ان کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد سڑکوں پر موجود تھے۔ مگر کارساز کے مقام پر ہونے والے خودکش حملوں (یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں سینکڑوں کارکنان جان سے گئے) نے یہ واضح کر دیا کہ اب ان کی جان کو حقیقی اور شدید خطرہ لاحق ہے۔
    اس کے بعد کے دن دراصل زندگی اور موت کے درمیان لکھی جانے والی ایک تحریر تھے۔

    لیاقت باغ : آخری لمحے، آخری مسکراہٹ

    دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونے والا جلسہ ان کی انتخابی مہم کا ایک اہم سنگِ میل تھا۔ جلسہ کامیاب رہا، کارکن پُرجوش تھے، اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ کی طرح جمہوریت، رواداری اور عوامی سیاست کا پیغام دیا۔
    شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عوام سے ان کی آخری ملاقات ہے، ایک ایسا لمحہ جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے منجمد ہو جانے والا تھا۔
    احمد فراز نے جیسے اس جدائی کو پہلے ہی لفظوں میں قید کر لیا تھا:
    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
    احمد فراز

    چند لمحوں بعد گولیاں چلیں، دھماکہ ہوا، اور پاکستان اپنی سب سے مضبوط جمہوری آواز سے محروم ہو گیا۔
    محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت صرف ایک منتخب رہنما کا قتل نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسے عہد کا اختتام تھا جس میں عوامی سیاست، جمہوری مزاحمت اور نظریاتی قیادت ایک ہی وجود میں سمٹ آئی تھی۔ ان کے بعد سیاست تو چلتی رہی، مگر وہ جرات، وہ فکری وضاحت اور وہ عوامی رابطہ نایاب ہوتا چلا گیا۔
    ان کی شہادت نے پاکستان میں ایک واضح سیاسی خلا پیدا کیا، ایسا خلا جسے محض انتخابات، اتحاد یا اقتدار کی تبدیلیاں پُر نہ کر سکیں۔ قیادت موجود رہی، مگر سمت کمزور پڑ گئی؛ نظام برقرار رہا، مگر نظریہ دھندلا گیا۔ عوام اور اقتدار کے درمیان جو پل وہ تھیں، وہ ٹوٹ گیا۔
    یہ خلا آج بھی محسوس ہوتا ہے، پارلیمان میں، گلیوں میں، اور عوامی اعتماد میں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی اصل وراثت کوئی ایک جماعت نہیں، بلکہ وہ جمہوری حوصلہ ہے جو خوف کے مقابل کھڑا ہو سکے۔ ان کی شہادت ہمیں یہ سوال چھوڑ گئی کہ کیا پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسی قیادت پیدا کر سکے گی جو جان دے کر بھی اصولوں سے دستبردار نہ ہو؟