Tag: بین الاقوامی

  • صومالیہ، صومالی لینڈ اور اسرائیل: ایک نیا عالمی تنازع، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب

    صومالیہ، صومالی لینڈ اور اسرائیل: ایک نیا عالمی تنازع، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب

    صومالیہ مشرقی افریقہ کا ایک اہم ملک ہے۔ یہ ملک کئی برسوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ خانہ جنگی، غربت اور سیاسی عدم استحکام نے اسے کمزور کیا۔ سن 1991 میں صومالیہ کے شمالی حصے نے خود کو ایک الگ ریاست قرار دیا۔ اس علاقے کو صومالی لینڈ کہا جاتا ہے۔

    صومالی لینڈ نے اپنی حکومت بنائی۔ اپنی پارلیمان قائم کی۔ اپنی پولیس اور سکیورٹی فورس بنائی۔ مگر اس کے باوجود دنیا کے کسی بڑے ملک نے اسے آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا۔ اقوام متحدہ اور افریقی ممالک کے نزدیک صومالی لینڈ اب بھی صومالیہ کا حصہ ہے۔

    حالیہ دنوں میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ اسرائیل صومالی لینڈ کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا، مگر محض اس امکان نے شدید ردِعمل پیدا کر دیا۔

    صومالیہ کی حکومت نے اسے اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔

    صومالی لینڈ کا مسئلہ ایک پیچیدہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسرائیل کے ممکنہ فیصلے نے اسے مزید حساس بنا دیا ہے۔ مسلم دنیا کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ صومالیہ کی وحدت کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی قدم ناقابل قبول ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عالمی سیاست میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

    صومالی لینڈ کیا ہے اور تنازع کیوں پیدا ہوا؟

    صومالیہ کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ اس کی اجازت کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک خطہ الگ ہونے لگے تو ملک ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی خوف صومالیہ کو پریشان کر رہا ہے۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی دلچسپی کی وجہ مذہب نہیں بلکہ سیاست اور سکیورٹی ہے۔ صومالی لینڈ کا محلِ وقوع بہت اہم ہے۔ یہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے قریب ہے۔ یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے بڑی طاقتیں اس علاقے پر نظر رکھتی ہیں۔

    مسلم ممالک کا ردِعمل اور صومالیہ کی حمایت

    اسرائیل کے اس ممکنہ فیصلے پر مسلم دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستان سب سے پہلے ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے کھل کر صومالیہ کی حمایت کی۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ ترکیہ، سعودی عرب، ایران، قطر، مصر اور الجزائر نے بھی کھل کر صومالیہ کی حمایت کی۔ ان ممالک نے کہا کہ کسی علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کرنا ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔

    ترکیہ نے کہا کہ صومالیہ ایک خودمختار ملک ہے۔ اس کی سرحدوں کا احترام ضروری ہے۔ سعودی عرب نے اسلامی یکجہتی پر زور دیا۔ ایران نے اسرائیل کے اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ قطر، مصر اور الجزائر نے بھی صومالیہ کے مؤقف کی تائید کی۔

    کئی دیگر مسلم ممالک نے سفارتی زبان میں اسرائیل کے اقدام کی مخالفت کی۔ ان ممالک نے نرم الفاظ استعمال کیے۔ مگر مؤقف واضح رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ افریقہ میں سرحدوں کو زبردستی بدلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    ملائشیا، انڈونیشیا اور اردن جیسے ممالک نے کہا کہ صومالیہ کے مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان ممالک کے نزدیک صومالی لینڈ کو الگ ریاست تسلیم کرنا ایک غلط مثال قائم کرے گا۔

    صومالیہ کے صدر نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت صومالیہ کے لیے بہت اہم ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک سفارتی تنازع نہیں بلکہ گہری سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔

    صومالیہ کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس پیر کو طلب کرلیا ہے۔

    بین الاقوامی قانون، افریقی اصول اور اصل مسئلہ

    مسلم دنیا کی اکثریت کا مؤقف ہے کہ صومالی لینڈ، صومالیہ ہی کا حصہ ہے۔ یہی مؤقف افریقی ممالک کا بھی ہے۔ افریقہ میں ایک اہم اصول پایا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق نو آبادیاتی دور میں بنائی گئی سرحدوں کو برقرار رکھا جائے۔

    اگر اس اصول کو توڑا جائے تو کئی ممالک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ افریقہ میں پہلے ہی علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں۔ اگر ایک خطے کو آسانی سے تسلیم کر لیا جائے تو دوسرے خطے بھی یہی مطالبہ کریں گے۔

    بین الاقوامی قانون بھی ریاستوں کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں واضح ہے کہ کسی ملک کی سرحدوں کو زبردستی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا قانونی طور پر بھی متنازع سمجھا جاتا ہے۔

    مسلم ممالک کی اسرائیل پر تنقید کی ایک اور وجہ فلسطین کا مسئلہ بھی ہے۔ فلسطین کئی دہائیوں سے مسلم دنیا کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔ اسی پس منظر میں اسرائیل کے ہر اقدام کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

    تاہم اس تنازع میں اصل بات ریاستی وحدت کی ہے۔ صومالیہ ایک کمزور مگر خودمختار ملک ہے۔ اسے مزید تقسیم کرنا اس کے مسائل میں اضافہ کرے گا۔ اسی لیے مسلم دنیا اور افریقی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • پاکستان  – مراکش تعلقات: ایک خاموش مگر زندہ سفارتی تاریخ

    پاکستان  – مراکش تعلقات: ایک خاموش مگر زندہ سفارتی تاریخ

    بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں بعض ریاستی رشتے محض معاہدوں، سرکاری بیانات یا وقتی مفادات کے گرد نہیں گھومتے، بلکہ وہ اخلاقی اصولوں، نظریاتی ہم آہنگی اور مشکل وقت میں دی گئی بے لوث حمایت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔

    پاکستان اور مراکش کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک منفرد اور کم مثال رشتہ ہے۔ یہ تعلق نہ صرف دو مسلمان ممالک کے درمیان مذہبی اور ثقافتی قربت کا اظہار ہے بلکہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد اور اصولی سفارت کاری کی عملی تصویر بھی ہے۔

    پاکستان اور مراکش کے تعلقات کی جڑیں اس دور میں پیوست ہیں جب پاکستان خود ایک نوآزاد ریاست تھا اور اسے داخلی استحکام، معاشی مشکلات اور علاقائی تنازعات جیسے بڑے چیلنجز درپیش تھے۔ اس کے باوجود پاکستان نے عالمی سیاست میں ایک واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا: مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت۔ یہی اصول مراکش کی آزادی کی جدوجہد کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا۔

    مراکش کی آزادی کی جدوجہد اور عالمی خاموشی

    1950 کی دہائی میں مراکش فرانسیسی استعمار کے خلاف اپنی آزادی کی تحریک میں مصروف تھا۔ اگرچہ مراکشی عوام میں آزادی کی شدید خواہش موجود تھی، مگر عالمی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے باعث اس تحریک سے نظریں چرا رہی تھیں۔ فرانس، جو شمالی افریقہ میں ایک مضبوط نوآبادیاتی قوت تھا، ہر ممکن طریقے سے مراکش کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اسی دوران مراکش کے مقبول رہنما شاہ محمد پنجم کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے تحریکِ آزادی کو وقتی طور پر شدید دھچکا لگا۔ مراکشی قیادت عالمی فورمز تک رسائی سے محروم ہو چکی تھی اور اقوام متحدہ جیسے اداروں میں ان کی نمائندگی تقریباً ناممکن بنا دی گئی تھی۔ ایسے حالات میں کسی بھی آزاد ریاست کی جانب سے مراکش کی کھلی حمایت نہ صرف سفارتی جرات کا تقاضا کرتی تھی بلکہ بڑی طاقتوں سے اختلاف مول لینے کا حوصلہ بھی چاہتی تھی۔

    پاکستان کا اصولی مؤقف اور سفارتی جرات

    پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے مراکش کی جدوجہدِ آزادی کو محض اخلاقی ہمدردی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ پاکستان کی قیادت کا یہ مؤقف تھا کہ نوآبادیاتی نظام نہ صرف انسانی آزادی کے منافی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ یہی سوچ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنی۔

    اقوام متحدہ میں مراکش کے مسئلے پر پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت فرانس کی جانب سے مراکشی نمائندوں کو اقوام متحدہ میں بولنے کی اجازت نہ دینا ایک بڑی سفارتی رکاوٹ تھی۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ، سر ظفر اللہ خان نے ایک ایسا تاریخی قدم اٹھایا جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اصول پسند ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔

    اقوام متحدہ میں تاریخی لمحہ

    سر ظفر اللہ خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مراکش کے حقِ خودارادیت کے لیے نہ صرف بھرپور اور مدلل خطاب کرنا بلکہ مراکش کے وفد کو اپنی نشست فراہم کرنا، بظاہر ایک سادہ سفارتی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اُس دور کی عالمی سیاست میں ایسی اخلاقی جرات ایک معمول کی بات تھی؟

    حقیقت یہ ہے کہ نوآزاد ریاستیں عموماً بڑی طاقتوں کی ناراضی مول لینے سے گریز کرتی تھیں، مگر پاکستان نے اس موقع پر مفاد کے بجائے اصول کو ترجیح دی۔ یہ اقدام محض ایک علامتی اظہار نہیں تھا بلکہ عالمی نظام کے اس دوہرے معیار پر ایک خاموش سوال بھی تھا، جہاں طاقتور اقوام نوآبادیاتی تسلط کو ‘اندرونی معاملہ’ کہہ کر نظر انداز کرتی تھیں۔

    تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ عمل محض علامتی نہیں تھا، بلکہ اس نے مراکش کے مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کے بعد مراکش کی آزادی کی تحریک کو بین الاقوامی اخلاقی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔

    پاکستانی پاسپورٹ: سفارت کاری سے بڑھ کر انسانیت

    پاکستان اور مراکش کی دوستی کا ایک اور غیر معمولی اور جذباتی باب وہ ہے جب مراکشی جلاوطن رہنماؤں کے پاس سفر کے لیے کوئی قانونی دستاویز موجود نہ تھی۔ فرانسیسی دباؤ کے باعث ان کے پاسپورٹ منسوخ یا ضبط کر لیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں سے عملاً کٹ چکے تھے۔

    ایسے میں پاکستان نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی۔ حکومتِ پاکستان نے مراکش کے ممتاز رہنماؤں، جن میں احمد بلافریج جیسے اہم سیاسی قائدین شامل تھے، کو پاکستانی سفارتی پاسپورٹ جاری کیے۔ ان پاسپورٹس کے ذریعے مراکشی رہنما مختلف ممالک کا سفر کرنے، حمایت حاصل کرنے اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے قابل ہوئے۔

    یہ اقدام محض سفارتی تعاون نہیں بلکہ ایک گہری اخلاقی وابستگی کا اظہار تھا۔ ان پاکستانی پاسپورٹس نے مراکش کی آزادی کی تحریک کو نئی زندگی دی اور عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو بھی بلند کیا۔

    شہری یادداشت اور علامتی تعلقات

    پاکستان اور مراکش کے تعلقات صرف سرکاری دستاویزات یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ تعلق دونوں ممالک کی شہری یادداشت (Urban Memory) کا حصہ بھی بن چکا ہے۔ کراچی اور کاسابلانکا کی سڑکوں کے نام اس دوستی کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

    کراچی میں ‘مراکش ایونیو’ اور کاسابلانکا میں ‘Rue de Karachi’ اس بات کی علامت ہیں کہ قومیں ایک دوسرے کو محض مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مشکل وقت میں دی گئی قربانیوں کے ذریعے یاد رکھتی ہیں۔ یہ نام آنے والی نسلوں کو ایک خاموش پیغام دیتے ہیں کہ تاریخ میں بعض رشتے لفظوں سے زیادہ عمل سے بنتے ہیں۔

    آزادی کے بعد تعلقات اور باہمی اعتماد

    1956 میں مراکش کی آزادی کے فوراً بعد پاکستان نے اس کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج دفاع، تعلیم، تجارت اور سفارت کاری کے مختلف شعبوں تک پھیلتے چلے گئے۔ سرد جنگ کے دور میں بھی پاکستان اور مراکش کے تعلقات کسی بڑے بحران کا شکار نہیں ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی بنیادیں محض وقتی سیاست پر نہیں تھیں۔

    مراکش نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی، جبکہ پاکستان نے مغربی صحارا کے معاملے پر مراکش کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا۔ یہ باہمی احترام اور اعتماد اس تعلق کو دیگر بین الاقوامی رشتوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    اقدار پر مبنی سفارت کاری کی مثال

    اکیڈمک اور تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان اور مراکش کا تعلق اس تصور کی تردید کرتا ہے کہ عالمی سیاست صرف طاقت اور مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ یہ رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاقی اصول، نظریاتی وابستگی اور مشکل وقت میں دیا گیا ساتھ بھی بین الاقوامی تعلقات میں دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔

    آج بھی مراکش کے عوام اور قیادت پاکستان کے اس تاریخی کردار کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک خاموش سفارتی تاریخ ہے—جو نہ بلند دعوے کرتی ہے، نہ تشہیر کی محتاج ہے، —مگر آج بھی زندہ ہے اور دونوں قوموں کے اجتماعی شعور میں محفوظ ہے۔