Tag: بینظیر انکم سپورٹ

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنا رہا ہے؟

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنا رہا ہے؟

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس پروگرام نے لوگوں کو خود کفیل بنانے کے بجائے انہیں ’بھکاری‘ بنا دیا ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں بی آئی ایس پی کا ریکارڈ درست نہیں اور پروگرام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر صوبے چاہیں تو اس پروگرام کو جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم ان کی نظر میں اس سے کوئی نمایاں اور دیرپا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

    رانا ثناء اللہ کے مطابق سماجی بہبود کے پروگراموں سمیت مختلف فلاحی منصوبوں کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کو خود اٹھانی چاہیے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما کے اس بیان پر متعدد سیاستدانوں اور معاشی ماہرین نے سخت تنقید کی ہے۔

    بی آئی ایس پی کے بانی اور سندھ و بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کے سابق مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی سے جب اس بیان پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا:

    ’جو لوگ کہتے ہیں کہ بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری بناتی ہے، ان سے کہا جانا چاہیے کہ وہ خود چار ہزار روپے ماہانہ میں گزارہ کر کے دکھائیں اور اپنی باقی ضروریات پوری کرنے کے لیے سڑکوں پر مانگ کر دیکھیں۔‘

    انہوں نے مزید کہا: ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص (تقریباً) 800 ارب روپے لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کی بیوروکریسی کو کھٹکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور خاص طور پر بعض افراد کو ’بینظیر‘ کے نام سے ایک طرح کی شدید اور دائمی نفرت ہے۔‘

    ایک بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ

    یہ بھی حقیقت ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے، جس کا آغاز 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے کیا تھا۔

    اس پروگرام کے تحت لاکھوں مستحق خاندانوں، خصوصاً خواتین، کو نقد مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ بی آئی ایس پی کے تحت تعلیم، صحت اور غذائی ضروریات سے متعلق مختلف اقدامات بھی جاری ہیں، جن کا مقصد غریب اور کمزور طبقات کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔

    دوسری جانب مختلف حکومتی اور بین الاقوامی ادارے ماضی میں بی آئی ایس پی کی کارکردگی کو سراہتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک نہ صرف اس پروگرام کی تعریف کر چکے ہیں بلکہ اس کے لیے مختص فنڈز میں اضافے کی بھی حمایت کرتے رہے ہیں۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) متعدد مواقع پر پاکستان پر زور دیتا رہا ہے کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے اثرات سے غریب طبقے کو بچانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز اور مستحقین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 2024-25 میں بی آئی ایس پی کے بجٹ کو ملکی جی ڈی پی کے 0.5 فیصد تک بڑھانے کی حمایت کی تھی، جبکہ 2024 کے بجٹ سے قبل بھی پروگرام کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے پر زور دیا تھا۔

    بی آئی ایس پی غربت کے خاتمے کا پروگرام نہیں

    سابق چیئرپرسنز اور پروگرام سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی منصوبے نے لاکھوں خاندانوں کو مہنگائی اور غربت کے اثرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ غربت مکاؤ پروگرام نہیں ہے۔ اس پروگرام سے وابستہ ایک سورس نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہ صرف ایک سپورٹ پروگرام ہے اور اس کا مقصد غربت کا خاتمہ نہیں ہے۔

    ’مستحق خواتین کو اتنی تھوڑی سی رقم ملتی ہے کہ اس سے پورا مہینہ گھر نہیں چلایا جا سکتا۔‘

    انہوں نے بتایا کہ ایک ذاتی مشاہدے اور معلومات کے مطابق، اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے 95 فیصد سے زائد لوگ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔ انٹرنیشنل ایجنسیوں اور ورلڈ بینک نے بھی مستحقین کے انتخابی طریقہ کار کو معتبر (credible) قرار دیا ہے۔

    عام طور پر اس پروگرام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے لوگوں کو بھکاری بنا دیا ہے یا لوگ اب کام نہیں کرتے اور صرف اس وظیفے پر گزارا کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ 5 یا 7 ہزار روپے ماہانہ میں 6، 7 افراد کا خاندان کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ یہ تمام لوگ پہلے ہی کچھ نہ کچھ کما رہے ہیں۔ کوئی 15 ہزار، کوئی 20 ہزار، کوئی 30 یا 40 ہزار ویسے ہی کما رہے ہوتے ہیں۔ اس رقم کا مقصد ان کے معیارِ زندگی کو تھوڑا سا بہتر بنانا ہے۔

    ان کے مطابق ’غریبوں کو کچھ سپورٹ تو ملنی چاہیے۔ کیا ملک میں سب کچھ صرف اشرافیہ کو ہی دیا جائے گا؟‘

    اشرافیہ کو جو پیسہ ملتا ہے، وہ اکثر ملک سے باہر چلا جاتا ہے یا دیگر جگہوں پر انویسٹ ہوتا ہے۔ لیکن غریب خاندانوں کو ملنے والا یہ 600 یا 700 ارب روپیہ پاکستان کی معیشت کے اندر ہی گردش کرتا ہے۔

    اس رقم سے غریب لوگ دوا، کھانا، چاول، آٹا یا گھر کی دیگر ضروریات خریدتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ اس رقم سے سگریٹ بھی خریدیں گے، تو حکومت کو اس پر ٹیکس ملتا ہے۔ غریب لوگ عام طور پر بچت نہیں کرتے، وہ رقم ملتے ہی اسے اپنی ضروریات پر خرچ کر دیتے ہیں، جس سے یہ پیسہ گھوم پھر کر دوبارہ ریاست کے ٹیکس بریکٹ میں شامل ہو جاتا ہے۔

    بیانیے کی تبدیلی کی ضرورت

    مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس پروگرام کا بجٹ بہت زیادہ ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے وسائل کم ہیں۔ ہمیں اپنے وسائل بڑھانے ہوں گے، کرپشن روکنی ہوگی، ٹیکس کا نظام بہتر کرنا ہوگا اور گڈ گورننس لانی ہوگی۔ اس پروگرام کا بیانیہ درست طریقے سے پیش نہیں کیا جاتا۔ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ ہم ان ایک کروڑ خاندانوں کے ساتھ محبت اور بھائی چارے کا اظہار کر رہے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو اسٹنٹنگ یا غذائی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    غربت صرف ان پیسوں سے ختم نہیں ہوگی۔ اس کے لیے مالیاتی رسائی، کاروبار کے لیے قرضے، ہنر، معیاری تعلیم، بہتر صحت، زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی، انڈسٹریلائزیشن اور فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ یہ سب کام بیک وقت ہونے چاہئیں۔ یہ پروگرام ہمدردی، انسانیت اور ویلفیئر کے تناظر میں ایک بہترین اور انتہائی مفید پروگرام ہے۔

    پی ٹی آئی کے دورِ حکومت نے تقریباً 6 سے 7 لاکھ افراد کو مستحقین کی فہرست سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ درحقیقت وہ مستحق ہی تھے، مگر غلط بیانی یا غلط اندراج کے باعث ان کو نکالا گیا تھا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی متعدد مواقع پر بی آئی ایس پی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ پروگرام غریب خواتین کو بااختیار بنانے اور ضرورت مند خاندانوں کو بنیادی سہارا فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی سطح پر بدعنوانی یا انتظامی خامیاں موجود ہیں تو انہیں دور کیا جانا چاہیے، تاہم پورے پروگرام کو ناکام قرار دینا مناسب نہیں۔

    مستحق یا بھکاری؟

    سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے رانا ثناء اللہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی آئی ایس پی انتہائی غریب خاندانوں کو تھوڑی سی معاونت فراہم کر رہا ہے، مگر کچھ لوگوں کو یہ بھی منظور نہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت ہر سال مختلف صنعتوں کو اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کرتی ہے، حالانکہ وہ پہلے ہی بھاری منافع کما رہی ہوتی ہیں۔

    انہوں نے خاص طور پر چینی اور فرٹیلائزر صنعتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال شگر ملز کو ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں ملک میں چینی کی قیمت میں تقریباً 50 روپے فی کلو اضافہ ہوا، جس کا بوجھ عوام نے برداشت کیا۔ ان کے بقول برآمدات سے حاصل ہونے والے ڈالرز کے علاوہ شگر مل مالکان نے مقامی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی کروڑوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل کی۔

    اسی طرح انہوں نے کہا کہ کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے نام پر حکومت نے فرٹیلائزر صنعت کو 400 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی فراہم کی۔

    مفتاح اسماعیل نے جمعرات کو کراچی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’اس ساری سبسڈی پر تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ حکومت نے شگر یا فرٹیلائزر کمپنیوں کو بھکاری بنا دیا ہے۔‘

    انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی دراصل لاکھوں غریب خاندانوں کو ایک محدود مالی سہارا فراہم کرتا ہے، لیکن بظاہر یہی امداد بعض حلقوں کو قابل قبول نہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ سال بجٹ تقریر کے دوران بتایا تھا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے بی آئی ایس پی کے بجٹ کو مالی سال 2024-25 کے 598.71 ارب روپے سے بڑھا کر 716 ارب روپے کر دیا جائے گا، جو تقریباً 117 ارب روپے کا اضافہ بنتا ہے۔ یہ رقم ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.5 فیصد کے برابر ہے۔

    جنوری 2026 سے مستحق خاندانوں کو دی جانے والی سہ ماہی مالی امداد 13 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 14 ہزار 500 روپے کر دی گئی ہے۔

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جو ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

    بی آئی ایس پی کے تحت بینظیر کفالت، تعلیمی وظائف، ہنرمند پروگرام اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ بینظیر نشوونما پروگرام سمیت متعدد اقدامات جاری ہیں۔ بینظیر نشوونما پروگرام سے اب تک 39 لاکھ ماؤں اور بچوں نے فائدہ اٹھایا ہے، جنہیں غذائی معاونت، صحت کی سہولیات اور آگاہی و رویوں میں مثبت تبدیلی کے لیے رہنمائی فراہم کی گئی۔

    اسی طرح بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت ملک بھر میں 95 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے وظائف دیے جا چکے ہیں۔