Tag: بوٹار جھیل

  • سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کی بوٹار جھیل سمیت اچھڑو تھر کے ریت کے ٹیلوں کے درمیاں وسیع صحرائی جھیلیں کیسی دکھتی ہیں؟

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کی بوٹار جھیل سمیت اچھڑو تھر کے ریت کے ٹیلوں کے درمیاں وسیع صحرائی جھیلیں کیسی دکھتی ہیں؟

    بوٹار جھیل سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو میں واقع ہے۔ یہ جھیل انڈیا کی سرحد تک پھیلے وسیع سفید صحرا، جسے مقامی طور پر اچھڑو تھر یا وائٹ ڈیزرٹ کہا جاتا ہے، کے عین درمیان کئی کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

    یہ خطہ بظاہر ایک خشک اور بے آب و گیاہ صحرا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے بیچ موجود بوٹار جھیل اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ یہاں ریت کے درمیان پانی ہے، جھیلوں کے کنارے زندگی سانس لیتی ہے، اور صحرا کے وسط میں ماہی گیری اور چرندوں کے چرنے کے مناظر نظر آتے ہیں۔

    اچھڑو تھر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں درجنوں صحرائی آب گاہیں موجود ہیں۔ بوٹار جھیل، بکر جھیل، کلانکر جھیل اور ان جیسی کئی دیگر جھیلیں مل کر ایک منفرد صحرائی آبی نظام تشکیل دیتی ہیں۔ یہ جھیلیں کسی دریا، نہر یا ساحلی پٹی سے وابستہ نہیں بلکہ خالص صحرائی خطے میں واقع ہیں، جو انہیں غیر معمولی بناتی ہیں۔

    دنیا کے مختلف حصوں میں صحرائی آب گاہیں پائی جاتی ہیں، لیکن زیادہ تر عارضی ہوتی ہیں۔ بارش کے بعد پانی جمع ہوتا ہے، چند ہفتوں یا مہینوں میں جھیل بن جاتی ہے، اور پھر آہستہ آہستہ خشک ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس وائٹ ڈیزرٹ کی یہ جھیلیں مستقل ہیں۔ یہاں صدیوں سے پانی موجود ہے اور موسموں کی تبدیلی کے باوجود یہ آب گاہیں ختم نہیں ہوتیں۔

    مقامی لوگوں کے درمیان ایک قدیم عقیدہ پایا جاتا ہے کہ یہ جھیلیں سرسوتی دریا سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ دریا جو بظاہر صدیوں پہلے ختم ہو چکا، مگر مقامی روایت کے مطابق اب بھی زمین کے نیچے بہہ رہا ہے اور یہی زیر زمین بہاؤ ان جھیلوں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ سائنس اس نظریے پر مزید تحقیق کی ضرورت بتاتی ہے، مگر ایک حقیقت واضح ہے کہ صحرا کے بیچ یہ جھیلیں آج بھی زندہ ہیں۔

    بوٹار جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر منظر کچھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرا میں ماہی گیری ہو رہی ہو۔ ایک طرف کھارا پانی پھیلا ہوتا ہے اور دوسری طرف سفید ریت۔ جھیل کے اطراف چرندے اور مویشی چر رہے ہوتے ہیں، جو اس علاقے کے روایتی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

    اگرچہ جھیل کا پانی کھارا ہے، مگر یہاں ایک اور حیرت بھی موجود ہے۔ مقامی لوگ جھیل کے کنارے چھوٹے گڑھے کھودتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں زمین سے رسنے والا پانی پینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ آج بھی مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے اور صدیوں سے آزمایا جا رہا ہے۔

    یہ جھیلیں صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ چرواہوں، مویشیوں اور مقامی معیشت کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔ ماہرین کے مطابق وائٹ ڈیزرٹ کی یہ آب گاہیں دنیا کے نایاب صحرائی ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ خطہ تحقیق، دستاویزات اور تحفظ کی سنجیدہ توجہ سے محروم ہے۔

    اگر یہ جھیلیں ختم ہو گئیں تو صرف پانی ہی ضائع نہیں ہوگا بلکہ صدیوں پرانا ایک قدرتی راز بھی ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔ بوٹار جھیل اور اس جیسے دیگر صحرائی تالاب ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ قدرت بعض اوقات وہاں بھی زندگی کو جنم دے دیتی ہے جہاں انسان اس کا تصور تک نہیں کرتا۔

    صحرا کے بیچ پانی اور پانی کے کنارے زندگی۔ یہی سندھ کے وائٹ ڈیزرٹ کی خاموش مگر حیرت انگیز کہانی ہے۔