Tag: بوسنیا

  • امریکا نے بوسنیا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے میں جگہ بنا لی

    امریکا نے بوسنیا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے آخری 16 مرحلے میں جگہ بنا لی

    مشترکہ میزبان امریکا نے شاندار اور جرات مندانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بوسنیا کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آخری 16 مرحلے میں رسائی حاصل کر لی۔ یہ ناک آؤٹ مرحلے میں امریکا کی گزشتہ 24 برسوں کے دوران پہلی کامیابی ہے، جس کے بعد میزبان ٹیم کے عالمی کپ میں مزید آگے بڑھنے کی امیدیں بھی روشن ہو گئی ہیں۔ (

    سان فرانسسکو بے ایریا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں امریکا نے آغاز ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ ریفری کو متعدد مواقع پر ویڈیو معاون نظام (وی اے آر) سے بھی مدد لینا پڑی۔ امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن اور کرسچین پولیسک کے ایک ایک گول آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیے گئے، تاہم امریکی ٹیم نے دباؤ برقرار رکھا۔

    میچ کے پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں فولارین بالوگن نے شاندار انداز میں گیند جال میں پہنچا کر امریکا کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔ یہ گول امریکی شائقین کے لیے خوشی کا باعث بنا اور ٹیم پہلے ہاف کا اختتام برتری کے ساتھ کرنے میں کامیاب رہی۔

    دوسرے ہاف میں میچ نے ڈرامائی رخ اختیار کیا جب وی اے آر جائزے کے بعد فولارین بالوگن کو بوسنیا کے مدافع طارق محرمووچ کے خلاف فاؤل پر سرخ کارڈ دکھا دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد امریکا کو تقریباً آدھا گھنٹہ صرف دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا، لیکن اس کے باوجود ٹیم نے نظم و ضبط اور مضبوط دفاع کا مظاہرہ کیا۔  

    ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود امریکی دفاع نے بوسنیا کو گول کرنے کا کوئی واضح موقع نہیں دیا۔ بوسنیا نے برابری کے لیے کئی حملے کیے، مگر امریکی دفاع اور گول کیپر نے ہر کوشش ناکام بنا دی۔ میچ کے 82ویں منٹ میں مالک ٹل مین نے ایک خوبصورت فری کک پر گول کر کے اسکور دو صفر کر دیا اور امریکی فتح یقینی بنا دی۔

    میچ کے بعد امریکی کپتان کرسچین پولیسک نے کہا کہ ٹیم نے غیر معمولی اتحاد اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود تمام کھلاڑی ایک دوسرے کے لیے لڑتے رہے اور یہی کامیابی کی اصل وجہ بنی۔ دوسری جانب مالک ٹل مین نے کہا کہ ان کا فری کک پر کیا گیا گول مسلسل مشق کا نتیجہ تھا۔

    امریکی کوچ موریسیو پوچیٹینو نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ تاہم انہوں نے فولارین بالوگن کو دکھائے گئے سرخ کارڈ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ فیصلہ سخت تھا کیونکہ فاؤل غیر ارادی تھا۔

    اس کامیابی کے ساتھ امریکا نے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے جہاں اس کا مقابلہ بیلجیم سے ہوگا، جس نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں سینیگال کو تین کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کی۔ تاہم امریکا کو اس اہم میچ میں فولارین بالوگن کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی کیونکہ وہ سرخ کارڈ کے باعث معطل ہو چکے ہیں۔