Tag: بندر

  • بھوپال کے بندروں کی کہانی سے اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا سبق سیکھیں

    بھوپال کے بندروں کی کہانی سے اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا سبق سیکھیں

    کبھی کبھی پیچیدہ معاشی نظام کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی کہانی بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ بھی بظاہر ایک مشکل اور پراسرار دنیا لگتی ہے، مگر اگر اسے ایک دلچسپ واقعے کے ذریعے سمجھایا جائے تو بات فوراً ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ بھوپال کے بندروں کی یہ کہانی اسی طرح کی ایک مثال ہے۔

    کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں بھوپال کے ایک علاقے میں بندروں کی بہتات تھی۔ بندر اتنے زیادہ تھے کہ لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔ کبھی چھتوں پر کودتے، کبھی باغوں سے پھل توڑ لے جاتے اور کبھی گھروں میں گھس آتے۔ لوگ اس مصیبت سے نجات کا کوئی راستہ ڈھونڈ رہے تھے مگر انہیں کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔

    اسی دوران ایک دن چند چالاک بیوپاری شہر میں آئے۔ انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا اور فوراً ایک منصوبہ بنا لیا۔ انہوں نے خود کو دو گروپوں میں تقسیم کر لیا۔ ایک گروپ شہر سے باہر ایک ویران جگہ پر جا کر ٹھہر گیا جبکہ دوسرا گروپ شہر کے اندر آیا۔

    شہر میں آنے والے گروپ نے منادی کروا دی کہ وہ بندروں کے بیوپاری ہیں اور ہر بندر ایک روپے میں خریدیں گے۔ یہ سن کر لوگوں کو حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی، کیونکہ جس جانور سے وہ تنگ تھے اب وہی ان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بننے والا تھا۔

    پھر کیا تھا۔ لوگ جال، رسیاں اور طرح طرح کے طریقے استعمال کر کے بندر پکڑنے لگے۔ جو بندر ہاتھ آتا، وہ بیوپاریوں کے پاس لے جاتے اور ایک روپیہ وصول کر لیتے۔ بیوپاری وہ بندر لے کر شہر سے باہر اپنے دوسرے گروپ کے حوالے کر دیتے۔

    اگلے دن انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ ایک بندر دو روپے میں خریدیں گے۔ لوگوں کا جوش مزید بڑھ گیا۔ اب بندر پکڑنے کی دوڑ اور تیز ہو گئی۔ پھر قیمت چار روپے کر دی گئی۔ اس کے بعد آٹھ روپے، سولہ روپے، بتیس روپے اور اسی طرح ہر روز قیمت دگنی ہوتی چلی گئی۔

    چند ہی دنوں میں بندر کی قیمت اتنی بڑھ گئی کہ وہ سینکڑوں روپے تک پہنچ گئی۔ آخرکار یہ قیمت بڑھتے بڑھتے فی بندر پانچ سو بارہ روپے تک جا پہنچی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ شہر کے زیادہ تر بندر پکڑے جا چکے تھے اور نئے بندر ملنا مشکل ہو گیا تھا۔

    پھر ایک دن بیوپاریوں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے روز واپس آئیں گے اور اس سے بھی دگنی قیمت یعنی ایک ہزار چوبیس روپے فی بندر کے حساب سے بندر خریدیں گے۔ یہ سن کر لوگوں میں ایک نئی امید جاگ گئی، مگر اسی شام بیوپاری کسی کام کا بہانہ بنا کر شہر سے چلے گئے۔

    لوگ پریشان ہو گئے کہ اگر کل وہ واپس آئے اور بندر نہ ہوئے تو اتنا بڑا فائدہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔

    اسی دوران کچھ لوگوں کو شہر کے آخری کنارے پر ایک خیمہ نظر آیا۔ وہاں بیوپاریوں کا دوسرا گروپ بیٹھا تھا اور وہی بندر پانچ سو بارہ روپے فی بندر کے حساب سے فروخت کر رہا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اگر تم چاہو تو یہ بندر خرید لو، کل جب بیوپاری آئیں گے تو وہی بندر تم سے ایک ہزار چوبیس روپے میں خرید لیں گے۔

    لوگوں کو یہ سودا بہت فائدے کا لگا۔ انہوں نے سوچا کہ آج پانچ سو بارہ میں خریدیں گے اور کل دگنی قیمت میں بیچ دیں گے۔ چنانچہ شہر والوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر وہ سارے بندر خرید لیے۔

    مگر جب اگلا دن آیا تو نہ پہلا گروپ واپس آیا اور نہ ہی دوسرا گروپ کہیں نظر آیا۔ دونوں گروپ راتوں رات غائب ہو چکے تھے۔

    اب شہر کے لوگوں کے پاس سینکڑوں بندر تو تھے مگر انہیں خریدنے والا کوئی نہیں تھا۔

    اسی جگہ سے یہ کہانی ایک سبق بن جاتی ہے۔

    اسٹاک مارکیٹ میں بھی اکثر کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ابتدا میں کچھ چالاک سرمایہ کار کسی کمپنی کے حصص بڑی تعداد میں خرید لیتے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کمپنی کے حصص کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ آہستہ آہستہ قیمتیں اوپر جانے لگتی ہیں۔

    جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو عام لوگ بھی لالچ میں آ کر خریداری شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر آج مہنگا خریدیں گے تو کل اور زیادہ مہنگا بیچ سکیں گے۔ قیمتیں مزید اوپر جاتی ہیں اور جو لوگ پہلے سے حصص خرید کر بیٹھے ہوتے ہیں وہ مناسب موقع پر اپنے حصص فروخت کر دیتے ہیں۔

    پھر اچانک مارکیٹ کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ قیمتیں گرنے لگتی ہیں اور آخر میں وہی لوگ پھنس جاتے ہیں جنہوں نے سب سے مہنگے داموں پر خریداری کی ہوتی ہے۔

    بھوپال کے لوگوں کے ہاتھ میں آخرکار بندر رہ گئے تھے۔ اور اسٹاک مارکیٹ میں بعض اوقات لوگوں کے ہاتھ میں ایسے حصص رہ جاتے ہیں جنہیں خریدنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

    اسی لیے پرانے سرمایہ کار ایک بات ہمیشہ کہتے ہیں:
    ‘مارکیٹ میں داخل ہونا آسان ہے، مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کہیں آپ بھی بندروں والی کہانی کا حصہ تو نہیں بن رہے۔’

    نوٹ: اس مضمون کا مرکزی خیال اسلام آباد اسٹاک مارکیٹ کے سابق سیکریٹری منظر نقوی کی ایک تحریر سے لیا گیا ہے