Tag: بلوچ

  • دو ستمبر 2021: بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل کے انتقال کا دن

    دو ستمبر 2021: بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل کے انتقال کا دن

    سردار عطا اللہ مینگل 24 مارچ 1929 کو بلوچستان کے شہر وڈھ میں مینگل قبیلے کے سردار رسول بخش مینگل کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مینگل قبیلے کے شاہی زئی خاندان سے تھا۔

    1954 میں ان کے والد کی زندگی ہی میں انہیں مینگل قبیلے کا سردار مقرر کیا گیا۔ ملکی سیاست میں انہیں سرگرم کرنے والے میر غوث بخش بزنجو تھے۔ سردار عطا اللہ مینگل نے 1962 میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے عملی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور ایوب خان کے دور حکومت میں ون یونٹ اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے مخالف قوم پرست رہنماؤں میں شمار ہوئے۔

    ان سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں مختلف ادوار میں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    سابق فوجی آمر ایوب خان کے مارشل لا کے بعد 1958 میں نواب نوروز خان کی بغاوت کے حوالے سے بھی سردار عطا اللہ مینگل کو گرفتار کیا گیا اور وہ کئی برس تک قید رہے۔ بعد ازاں جنرل یحییٰ خان کے دور میں ون یونٹ ختم ہوا اور 1970 میں عام انتخابات ہوئے۔

    سردار عطا اللہ مینگل نے نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا۔ نیشنل عوامی پارٹی نے بلوچستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور بعد میں بلوچستان میں حکومت قائم ہوئی۔

    سردار عطا اللہ مینگل یکم مئی 1972 کو بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے اور 13 فروری 1973 تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی حکومت نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی اشتراک سے قائم ہوئی تھی، جبکہ میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کے گورنر مقرر ہوئے۔

    سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کا دور مختصر تھا، تاہم اس دوران صوبائی خودمختاری، انتظامی اصلاحات اور تعلیمی و طبی اداروں کے قیام پر توجہ دی گئی۔ بلوچستان اسمبلی نے بولان میڈیکل کالج، بلوچستان یونیورسٹی، بلوچستان تعلیمی بورڈ اور دیگر اداروں کے قیام سے متعلق اقدامات کیے۔

    ان کے دور میں صوبائی ملازمتوں اور انتظامیہ میں مقامی افراد کی نمائندگی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔

    سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔ 13 فروری 1973 کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت برطرف کردی۔ اس کے بعد بلوچستان میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مسلح مزاحمت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

    صوبائی حکومت کی برطرفی کے خلاف صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مشترکہ حکومت کے وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورت حال بالآخر ایک نئے فوجی آپریشن اور طویل سیاسی و عسکری تنازع کی صورت اختیار کرگئی۔

    بلوچستان کی حکومت کی برطرفی کے بعد سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو اور دیگر بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ ان رہنماؤں پر بغاوت اور ریاست کے خلاف سازش جیسے الزامات عائد کیے گئے اور انہیں حیدرآباد جیل میں رکھا گیا۔ 1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی گئی اور اس کے رہنماؤں کے خلاف حیدرآباد سازش کیس کے نام سے مقدمہ چلایا گیا۔

    اس مقدمے کے لیے خصوصی حیدرآباد ٹریبونل قائم کیا گیا، جس میں نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت کے متعدد اہم رہنماؤں کو نامزد کیا گیا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں سردار عطا اللہ مینگل سمیت پارٹی کے متعدد رہنما کئی برس تک قید رہے۔

    سردار عطا اللہ مینگل کے جیل میں ہونے کے دوران ان کے بیٹے اسد اللہ مینگل بھی لاپتا ہوگئے۔ 6 فروری 1975 کو اسد اللہ مینگل کو کراچی میں میر بلخ شیر مزاری کی رہائش گاہ کے قریب ان کے دوست احمد شاہ کرد کے ہمراہ اغوا کیا گیا۔ دونوں کا بعد میں کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    اسد اللہ مینگل کی گمشدگی کا معاملہ سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی زندگی کا ایک انتہائی اہم اور تکلیف دہ واقعہ بن گیا۔ بعد کے برسوں میں اس معاملے کے حوالے سے مختلف دعوے اور سیاسی بیانات سامنے آتے رہے، تاہم ان کی گمشدگی اور مبینہ قتل کے تمام پہلو آج بھی متنازع اور مکمل طور پر حل طلب رہے ہیں۔

    5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کرکے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی۔ اس کے بعد حیدرآباد سازش کیس میں قید نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں کے مقدمات اور ٹریبونل کا معاملہ بھی ختم کیا گیا اور قیدی رہنماؤں کو رہا کردیا گیا۔ سردار عطا اللہ مینگل سمیت بلوچ اور پشتون قوم پرست رہنما 1977 کے بعد جیل سے باہر آئے۔

    سردار عطا اللہ مینگل نے فوجی آمر ضیا کے دور میں برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی اور کئی برس لندن میں مقیم رہے۔

    سردار عطا اللہ مینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل کی گمشدگی کا معاملہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی سامنے آیا۔ مختلف روایات کے مطابق جنرل ضیاء نے سردار عطا اللہ مینگل کو اس معاملے میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی پیشکش کی، تاہم سردار عطا اللہ مینگل نے اسے قبول نہیں کیا۔

    ان کے بارے میں بعد کی تحریروں اور انٹرویوز میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ انہوں نے ذاتی انتقام کے بجائے بلوچستان میں فوجی کارروائیوں اور بلوچوں کی ہلاکتوں کے وسیع تر معاملے کی طرف توجہ دلائی۔

    لندن میں قیام کے دوران سردار عطا اللہ مینگل نے دیگر قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ سیاسی رابطے جاری رکھے۔ 1980 کی دہائی میں انہوں نے سندھی، بلوچ اور پشتون قوم پرست قوتوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوششوں میں بھی حصہ لیا۔ 1990 کی دہائی میں وہ پاکستان واپس آئے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ جماعت بعد میں بلوچستان کی اہم قوم پرست سیاسی جماعتوں میں شمار ہونے لگی۔

    1997 کے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے صوبے میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور سردار عطا اللہ مینگل کے بیٹے سردار اختر مینگل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بنے۔ سردار عطا اللہ مینگل بعد کے برسوں میں بھی بلوچستان اور صوبائی خودمختاری کے معاملات پر سیاسی طور پر سرگرم رہے۔ وہ پاکستان کی مظلوم قوموں کی تحریک، پونم، سے بھی وابستہ رہے اور اس کی قیادت کی۔

    سردار عطا اللہ مینگل تقریباً چھ دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی کے دوران بلوچستان کی قوم پرست سیاست کی ایک نمایاں شخصیت رہے۔ میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری اور دیگر بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ ان کا نام بلوچستان کی جدید سیاسی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی سیاست کا مرکزی محور صوبائی خودمختاری، بلوچ قومی حقوق اور وفاقی نظام میں صوبوں کے اختیارات کا سوال رہا۔

    سردار عطا اللہ مینگل 2 ستمبر 2021 کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کی وفات کی تصدیق بلوچستان نیشنل پارٹی کی قیادت نے کی۔ انہیں بلوچستان کی قوم پرست سیاست کی ایک اہم اور بااثر شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا۔

    سردار عطا اللہ مینگل کے خاندانی رشتے

    سردار عطا اللہ مینگل کے خاندان کے سیاسی اور قبائلی تعلقات بلوچستان اور سندھ کے کئی بااثر خاندانوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے والد سردار رسول بخش مینگل کی تین شادیاں ہوئی تھیں۔ سردار عطا اللہ مینگل کی والدہ سردار بلوچ خان حسنی کی بہن تھیں، جبکہ سردار بلوچ خان حسنی کی اہلیہ خان آف قلات میر احمد یار خان کی بہن تھیں۔

    سردار رسول بخش مینگل کی دوسری اہلیہ، سردار عطا اللہ مینگل کی سوتیلی والدہ، جام آف لسبیلہ میر غلام قادر کی بہن تھیں۔

    سردار عطا اللہ مینگل کے اپنے خاندان کے بھی مختلف قبائلی خاندانوں سے رشتے قائم ہوئے۔ ان کی ایک اہلیہ سردار اسلم خان گچکی کی بہن تھیں، جن سے میر جاوید مینگل پیدا ہوئے، جبکہ ان کی دوسری اہلیہ سردار صالح بھوتانی اور سردار اسلم بھوتانی کی بہن تھیں، جن سے سردار اختر مینگل پیدا ہوئے۔ سردار عطا اللہ مینگل کی ایک بہن کی شادی بھی بھوتانی خاندان میں ہوئی تھی۔

    مینگل، مری، گچکی اور بھوتانی خاندانوں کے درمیان بھی متعدد رشتے قائم رہے۔ نواب خیر بخش مری کی ایک بیٹی سردار عطا اللہ مینگل کے بیٹے میر جاوید مینگل کی اہلیہ تھیں۔ اسی طرح گچکی اور بھوتانی خاندانوں کے مختلف افراد کے درمیان بھی رشتہ داریاں موجود رہیں۔

    سندھ کے چانڈیو خاندان سے بھی ان رشتوں کا ایک سلسلہ جڑا ہوا تھا۔ خان آف قلات میر احمد یار خان کی نواسی اور نواب بھائی خان گچکی کی بیٹی کی شادی چانڈیو قبیلے کے سردار نواب احمد سلطان چانڈیو سے ہوئی تھی۔ نواب احمد سلطان چانڈیو کی دوسری اہلیہ قمبر تعلقے کے خیرپور جوسو کے میر حسن علی خان اسراں کی بیٹی تھیں۔ چانڈیو خاندان کی بعض شادیاں رانی پور کے پیر خاندانوں میں بھی ہوئیں۔

    اسی خاندانی سلسلے میں نواب شبیر احمد چانڈیو کی اہلیہ اور چانڈیو قبیلے کے موجودہ سردار نواب غیبی سردار خان چانڈیو کی والدہ خان آف قلات کی نواسی اور نواب سلیم جان خان نوشیروانی کی بیٹی تھیں۔ نواب غیبی سردار خان چانڈیو کی شادی بھی گچکی سرداروں کے خاندان میں ہوئی۔

    چانڈیو اور بھوتانی خاندانوں کے درمیان بھی رشتے قائم ہوئے۔ نوابزادہ ریحان خان چانڈیو کی شادی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم جام یوسف کی بیٹی سے ہوئی، جو موجودہ سیاسی رہنما جام کمال کی بہن ہیں۔ اسی خاندان میں جام کمال کی بیٹی کی شادی میر عامر مگسی کے بیٹے زرین خان مگسی سے ہوئی۔

    بلوچستان کے محمد حسنی سردار کے خاندان اور چانڈیو و مری خاندانوں کے درمیان بھی رشتے قائم رہے۔ محمد حسنی سردار کی دو بیٹیاں نواب احمد سلطان چانڈیو کے بیٹوں کی اہلیہ بنیں، جبکہ ان کی ایک بیٹی سردار بلخ شیر مری کی بہو تھیں۔ اسی طرح نواب احمد سلطان چانڈیو کی ایک بیٹی سردار دودا خان کے بیٹے میر علی محمد زرک زئی کی اہلیہ تھیں، جبکہ میر علی احمد زرک زئی کی بیٹی کی شادی نواب احمد سلطان چانڈیو کے بیٹے میر وحید خان چانڈیو سے ہوئی۔

    سردار عطا اللہ مینگل کے داماد سردار رحیم مینگل کے بھائی کی شادی بھی میر غوث بخش بزنجو کی بیٹی سے ہوئی تھی۔ یوں سردار عطا اللہ مینگل کا خاندان صرف مینگل قبیلے تک محدود نہیں رہا بلکہ بلوچستان اور سندھ کے متعدد بااثر قبائلی اور سیاسی خاندانوں کے ساتھ رشتہ داریوں کے ایک وسیع سلسلے میں منسلک رہا۔