Tag: بلتستان

  • بلتستان: کھیٹی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ

    بلتستان: کھیٹی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ

    بلتستان کی بلند وادیوں میں جب موسم بہار کی پہلی نرم ہوا چلتی ہے تو زمین جیسے صدیوں پرانی یادوں کو پھر سے زندہ کر دیتی ہے۔ یہاں کھیتی باڑی محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک روایت ہے، ایک ایسا اجتماعی عمل جس میں زمین، انسان اور جانور تینوں ایک ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

    آج بھی ضلع گانچھے اور اس کے آس پاس کے کئی دیہات میں دیسی ہل کے ذریعے کھیتی کی جاتی ہے۔ یہ ہل عموماً مقامی لکڑی سے تیار کیا جاتا ہے، جسے علاقے کے کاریگر ہاتھ سے بناتے ہیں۔ اس میں کوئی دھاتی پیچیدگی نہیں ہوتی، مگر اس کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ یہ سخت اور پتھریلی زمین میں بھی مؤثر انداز میں کام کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلتستان کی مٹی چونکہ پہاڑی اور معدنی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے، اس لیے ہل چلانے کا یہ روایتی طریقہ زمین کی قدرتی تہوں کو نقصان پہنچائے بغیر اسے نرم کر دیتا ہے۔

    دو بیلوں کے ساتھ ہل چلانے کی یہ روایت صرف ایک زرعی تکنیک نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام کا حصہ ہے۔ مقامی سطح پر اسے اجتماعی محنت کے تصور سے جوڑا جاتا ہے، جہاں ایک خاندان کے کھیت میں کام مکمل ہونے کے بعد پورا گاؤں دوسرے کے کھیت کی طرف بڑھتا ہے۔ اس نظام کو بعض علاقوں میں غیر رسمی طور پر ‘باری’ کے اصول پر چلایا جاتا ہے، جس میں ہر گھرانے کو برابر کا وقت اور مدد دی جاتی ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ بلتستان میں روایتی ہل چلانے کا وقت صرف موسم کے مطابق نہیں بلکہ مقامی کیلنڈر اور قدرتی اشاروں سے طے کیا جاتا ہے۔ بزرگ کسان برف کے پگھلنے کی رفتار، ہوا کی سمت اور پرندوں کی نقل و حرکت کو دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ زمین کب جوتنے کے لیے تیار ہے۔ یہ علم نسل در نسل منتقل ہوا ہے اور آج بھی کئی علاقوں میں اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

    ماحولیاتی اعتبار سے بھی یہ طریقہ حیران کن حد تک مؤثر ہے۔ جدید مشینری کے برعکس، دیسی ہل مٹی کی گہرائی میں موجود خرد حیاتیاتی نظام کو متاثر نہیں کرتا، جس سے زمین کی زرخیزی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کی پیداوار کم ہونے کے باوجود زیادہ خالص اور قدرتی سمجھی جاتی ہے۔

    یہ روایت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ترقی کا مطلب ہمیشہ پرانے طریقوں کو ترک کرنا نہیں ہوتا۔ بلتستان کے یہ دیہات اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ انسان اپنی جڑوں سے جڑا رہ کر بھی وقت کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، اور شاید یہی توازن اصل ترقی کی پہچان ہے۔