Tag: بعل

  • کراچی میں تین ہزار سال پرانے دیوتا ‘بعل’ کا شیطانی مجسمے کے چرچے، بعل کے بارے میں قرآن پاک میں کیا کہا گیا؟

    کراچی میں تین ہزار سال پرانے دیوتا ‘بعل’ کا شیطانی مجسمے کے چرچے، بعل کے بارے میں قرآن پاک میں کیا کہا گیا؟

    کراچی کے علاقے کورنگی میں کچھ دن قبل سینگ والے بکرے کی شکل کے ایک مجسمے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جسے سوشل میڈیا صارفین شیطان کا مجسمہ قرار دے رہے تھے۔

    تقریباً 10 فٹ اونچے اس مجسمے کو تھرموپول سے بنایا گیا تھا، جو بظاہر ایک مختلف اور عجیب شکل کا تھا، اس لیے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں۔

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ‘بعل’ کا مجسمہ ہے، جو ایک ایسا دیوتا تھا جسے بارش، زرخیزی اور دولت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر یہ خود ساختہ خدا بعل تین ہزار برس بعد بھی کیوں زیرِ بحث ہے؟

    آج کل جدید فیشن شوز، کنسرٹس اور ماڈلنگ میں بھی بعل جیسی شکل کیوں دکھائی جا رہی ہے؟ کسی کو شیطان کی علامت ظاہر کرنی ہو تو اکثر بعل جیسی شکل استعمال کی جاتی ہے۔

    کورنگی میں جس مجسمے کی ویڈیو وائرل ہوئی، اس کے بارے میں پولیس نے وضاحت دی کہ ایک مذہبی تنظیم نے اسے شیطانی مجسمے کو علامتی طور پر نذرِ آتش کرنے کے لیے بنوایا تھا۔

    ‘بعل’ کے بارے میں قرآن پاک اور دیگر مقدس کتابوں میں کیا ذکر ہے؟

    1928 اور 1929 کے دوران شام کے شمالی علاقے ‘راس شمرا’ کے قریب کھدائی کے دوران کچھ نوادرات اور تختیاں برآمد ہوئیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دو ہزار قبل مسیح کے زمانے کی بعل کی عبادت گاہوں کی باقیات ہیں، جہاں کنعانی قوم آباد تھی۔

    کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب بنی اسرائیل دین سے بھٹکنے لگے۔ کچھ قبائل نے نقل مکانی کی اور فلسطین و اطراف سے نکل کر شام، لبنان اور اردن کے علاقوں میں پھیل گئے۔

    ان پر ماضی کی بت پرستی کی روایات کا اثر پڑا اور کنعانی قوم گمراہ ہو چکی تھی۔ بائبل اور عبرانی صحائف میں بھی اس قوم کے انحراف کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے۔

    تقریباً 874 سے 853 قبل مسیح کے دوران بادشاہ احاب اور اس کی اہلیہ نے بعل کی عبادت کو سرکاری مذہب کا درجہ دے دیا۔ ایک وقت آیا کہ بت پرستی صرف عبادت نہیں رہی بلکہ طاقت کا نظام بن گئی۔

    حکمرانوں نے لوگوں کو خوفزدہ کیا کہ اگر بعل ناراض ہوا تو بارش نہیں ہوگی، فصلیں نہیں اگیں گی اور زرخیزی ختم ہو جائے گی۔ اس طرح ایک خوف کا نظام قائم کر کے قوم کو تابع بنایا گیا۔

    یہی وہ دور تھا جسے حضرت الیاس علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں سورہ الصفات میں ذکر ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:

    ‘کیا تم اپنے خالق کو چھوڑ کر بعل کی عبادت کرتے ہو؟’

    گزشتہ ایک صدی کے دوران بھی بعل سے متعلق مختلف حوالوں میں ذکر ملتا ہے۔

    1969 میں اینٹن لاوی نامی شخص نے ‘دی سیٹانک بائبل’ لکھی اور چرچ آف سیٹن نامی تنظیم قائم کی، جس کے لوگو میں بکرے کی شکل والے شیطانی تصور کو متعارف کرایا گیا۔

    2015 میں امریکی ریاست آرکنسا میں بعل کے مجسمے کی تنصیب پر تنازع سامنے آیا۔ ایسے واقعات بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں، یہ ایک سوال ہے جس پر بحث جاری ہے۔

    حالیہ برسوں میں ایپسٹین فائلز کے حوالے سے بھی مختلف دعوے کیے گئے، تاہم اب تک سامنے آنے والی دستاویزات میں بعل یا اس کے پیروکاروں سے متعلق کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ملا۔

    البتہ خانہ کعبہ کے غلاف، کسوہ، کے کچھ حصوں کے پارسل کا ذکر آیا، جسے بعض لوگ مختلف قیاس آرائیوں سے جوڑتے ہیں۔

    کسوہ کا تعلق روحانیت سے ہے، اور اس کے بارے میں مختلف دعووں کو محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    اس حوالے سے مزید تحقیق ہی حقائق کو واضح کر سکتی ہے۔