Tag: بشریٰ زیدی

  • 15 اپریل 1985: کراچی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب جب طالبہ بشریٰ زیدی کی حادثاتی موت کے بعد فسادات کا آغاز ہوا

    15 اپریل 1985: کراچی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب جب طالبہ بشریٰ زیدی کی حادثاتی موت کے بعد فسادات کا آغاز ہوا

    یہ 15 اپریل 1985 کا دن تھا۔ جنرل ضیاء کی غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیراعظم اور سید غوث علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ بنے تھے، ابھی ایک مہینہ بھی مشکل سے گزرا تھا کہ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ دن کراچی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن جائے گا۔

    اس دن صبح معمول کے مطابق کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک اردو بولنے والے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں، بشریٰ زیدی اور نجمہ زیدی، جو سراج الدولہ کالج کی طالبات تھیں، ایک منی بس کے ذریعے اپنے کالج جا رہی تھیں۔ جب بس ناظم آباد چورنگی (گولیمار کے قریب) پہنچی تو انہوں نے سر سید گرلز کالج کے اسٹاپ پر اترنے کا فیصلہ کیا۔

    بس ابھی چل رہی تھی مگر کنڈکٹر نے انہیں جلدی اترنے کو کہا اور بس مکمل روکنے سے انکار کر دیا۔ جیسے ہی دونوں بہنیں نیچے اتریں، پیچھے سے تیزی سے آنے والی ایک اور بس نے ان کی منی بس کو زور سے ٹکر ماری۔ نتیجتاً دونوں بہنیں نیچے گر گئیں۔

    20 سالہ بشریٰ زیدی بس کے پہیوں کے نیچے آ گئی جبکہ نجمہ زیدی کی ٹانگوں کے اوپر سے منی بس گزر گئی۔ دونوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں نجمہ زیدی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئیں جبکہ بشریٰ زیدی کی موت واقع ہوگئی۔ اتفاق سے دونوں بسوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹر پشتو بولنے والے تھے۔

    جیسے ہی اس حادثے کی خبر قریب موجود سر سید کالج کی طالبات تک پہنچی، وہ بڑی تعداد میں باہر نکل آئیں۔ ان کی حمایت میں ناظم آباد بوائز کالج کے طلبہ بھی پہنچ گئے اور شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ مشتعل طلبہ نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور کئی منی بسوں کو آگ لگا دی۔

    پولیس کے پہنچنے تک پورے کراچی میں فسادات پھیل چکے تھے اور صورتحال قابو سے باہر ہو گئی تھی۔ بشریٰ زیدی کی موت کی خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ احتجاج کا دائرہ گولیمار، ناظم آباد، لیاقت آباد، اورنگی اور بنارس کالونی تک پھیل گیا۔

    شہر میں یہ بات عام ہو گئی کہ بشریٰ زیدی کو جان بوجھ کر پشتون کنڈکٹر نے دھکا دے کر قتل کیا ہے، جس کے بعد فسادات نے فوری طور پر لسانی رنگ اختیار کر لیا۔ اردو اور پشتو بولنے والی آبادیوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور شہر میں بڑے پیمانے پر تشدد اور فساد شروع ہو گئے، جس سے کاروباری زندگی مفلوج ہو گئی۔

    پورا کراچی تشدد کی لپیٹ میں آ گیا اور بلوائیوں نے لوٹ مار اور پرتشدد کارروائیاں کیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوج طلب کی گئی اور شہر کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ جب بھی کرفیو میں نرمی کی جاتی، فسادات دوبارہ شروع ہو جاتے۔

    اس وقت کی سندھ حکومت، جس کی سربراہی سید غوث علی شاہ کر رہے تھے، امن قائم کرنے میں ناکام رہی۔ طویل کرفیو کے باعث شہر میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ شہر مکمل طور پر اردو بولنے والے مہاجروں اور پشتونوں کے تصادم کی زد میں آ گیا۔

    بشریٰ زیدی کے واقعے کو مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے سیاسی فائدے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اردو بولنے والے متوسط طبقے میں یہ احساس پیدا کیا کہ ان کا کوئی سیاسی نمائندہ نہیں ہے۔ الطاف حسین نے 1978 میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کی بنیاد رکھی، جو 18 مارچ 1984 کو مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بن گئی۔

    ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے کراچی کی اردو آبادی کی اکثریت مولانا شاہ احمد نورانی، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں تقسیم تھی۔ ایم کیو ایم نے ‘مہاجر قومیت’ اور ‘متوسط طبقے کی حکمرانی’ کا نعرہ لگایا۔ کوٹہ سسٹم اور روزگار کی کمی نے مہاجر نوجوانوں کو اس جماعت کی طرف راغب کیا۔

    آٹھ اگست 1986 کو نشتر پارک میں الطاف حسین کے جلسے میں ہزاروں افراد کی شرکت نے ایم کیو ایم کو مزید مضبوط کیا۔

    دسمبر 1986 میں حکومت نے سہراب گوٹھ میں منشیات کے اڈوں کے خلاف ‘آپریشن کلین اپ’ شروع کیا، مگر اس کا ردعمل انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ 14 دسمبر 1986 کو اس کے ردعمل میں مسلح پختون گروہوں نے علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی پر حملہ کر دیا۔

    وہاں رہنے والوں پر جدید خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے گئے اور شہریوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 150 سے زائد افراد مارے گئے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ کئی گھنٹوں تک جاری اس خونریزی کے دوران پولیس اور انتظامیہ غائب رہی۔

    اورنگی ٹاؤن، جو مختلف لسانی گروہوں کا مسکن تھا، ان فسادات کا اگلا نشانہ بنا۔ 1986 کے آخر میں یہاں ہونے والا قتل عام انسانیت کو ہلا دینے والا تھا۔

    شہر مکمل طور پر مہاجر اور پشتون تصادم کی لپیٹ میں آ گیا۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کی آبادیوں پر حملے کرتے رہے۔ تنگ گلیوں اور گنجان آبادی کے باعث اورنگی ٹاؤن میں جانی نقصان بہت زیادہ ہوا۔

    لسانی بنیادوں پر ایسی تقسیم پیدا ہوئی کہ پڑوسی، پڑوسی کا دشمن بن گیا۔

    اسی کی دہائی کے ان واقعات نے کراچی کے مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے: شہر میں اسلحے کی دوڑ شروع ہو گئی،’ونگ کلچر’ اور ‘بھتہ خوری’ کو فروغ ملا، شہر لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو گیا، لوگ اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہو گئے اور سیاست میں تشدد ایک لازمی عنصر بن گیا۔

    روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی بدامنی اور کرفیو کے باعث معاشی طور پر پیچھے رہ گیا۔