Tag: برکس

  • برکس کی 18ویں سربراہی کانفرنس: چین اور روس کا موقف اور جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی تناظر

    برکس کی 18ویں سربراہی کانفرنس: چین اور روس کا موقف اور جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی تناظر

    اکیسویں صدی کا عالمی نظام ایک نایاب اور تاریخی موڑ سے گزر رہا ہے۔ وہ دور اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے جب دنیا کے معاشی اور سیاسی فیصلے صرف چند مغربی دارالحکومتوں میں ہوا کرتے تھے۔

    عالمی طاقت کا محور اب مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اور اس تبدیلی کی سب سے بڑی قوت ‘برکس’ ہے۔ نئی دہلی میں منعقد ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس اسی بدلتے ہوئے عالمی نظام کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن کر ابھری، جس میں عالمی سیاست، معیشت اور جنوبی ایشیائی خطے کے لیے دور رس نتائج کے حامل فیصلے کیے گئے۔

    برکس کی توسیع اور نئی دہلی اجلاس کا پس منظر

    برکس، جو کبھی صرف برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل ایک معاشی تنظیم تھی، اب ایک ہمہ گیر عالمی طاقت کا روپ دھار چکی ہے۔ مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کی مکمل رکنیت کے بعد اب یہ گروپ دنیا کی آبادی کے تقریباً نصف حصے اور عالمی معیشت کے 35 فیصد سے زائد کی نمائندگی کرتا ہے۔

    نئی دہلی کانفرنس کا مرکزی موضوع ‘مضبوطی، جدت، تعاون اور پائیداری کا قیام’ طے کیا گیا تھا۔ اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

    اس اجلاس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مغربی پابندیوں اور تنہائی کی پالیسیوں کے باوجود برکس ممالک معاشی اور سفارتی طور پر ایک دوسرے کے قریب تر ہو رہے ہیں۔

    گریٹر برکس اور چین کا موقف

    چین اور روس برکس کے موجودہ 11 رکنی توسیع شدہ گروپ کو ‘گریٹر برکس’ کا نام دیتے ہیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے ‘گریٹر برکس ممالک’ کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون بہتر بنائیں، صنعتی اور سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھیں اور ایک مربوط منڈی کے قیام کے لیے کام کریں۔

    نئی دہلی اعلامیہ: عالمی اداروں پر عدم اطمینان اور متبادل فریم ورک

    کانفرنس کے اختتام پر متفقہ طور پر ‘نئی دہلی اعلامیہ’ جاری کیا گیا، جو عالمی نظام کے لیے ایک نیا روڈ میپ پیش کرتا ہے۔ اس اعلامیے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

    اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اصلاحات

    اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کی موجودہ ساخت جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہی۔ برکس نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل میں بھارت اور برازیل جیسے اہم ترقی پذیر ممالک کو مستقل نمائندگی دی جائے۔

    یکطرفہ پابندیوں کی شدید مذمت

    امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور من مانے تجارتی محصولات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

    مقامی کرنسیوں میں تجارت

    ڈالر پر انحصار کم کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ رکن ممالک نے باہمی تجارت کے لیے اپنی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کا عزم کیا۔

    غزہ کی صورتحال پر تشویش

    مشرق وسطیٰ کی ابتر صورتحال، بالخصوص غزہ میں جاری فائرنگ اور انسانی بحران پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلارکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔

    میزبان ملک کے طور پر بھارت کے سفارتی و معاشی فوائد

    اس کانفرنس کی میزبانی بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہوئی۔ نئی دہلی نے اپنی کثیر جہتی سفارتی صف بندی کی پالیسی کو بہترین طریقے سے استعمال کیا۔

    چین کے ساتھ برف پگھل گئی

    2020 کے لداخ سرحدی تنازع کے بعد سے بھارت اور چین کے تعلقات میں جو جمود اور کشیدگی تھی، اجلاس کی سائیڈ لائنز پر نریندر مودی اور شی جن پنگ کی دوطرفہ ملاقات نے اسے توڑ دیا۔ دونوں ممالک نے سرحدوں پر پائیدار امن اور تجارتی تعطل ختم کرنے پر اتفاق کیا۔

    عالمی جنوب کی قیادت

    بھارت نے خود کو ترقی پذیر ممالک کے وکیل اور برکس کی ایک اہم آواز کے طور پر پیش کیا۔

    توانائی کی حفاظت

    روس اور ایران کے ساتھ قریبی رابطوں نے بھارت کو سستے خام تیل اور گیس کی مسلسل فراہمی کی یقین دہانی کروائی، جو اس کی بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

    پاکستان کا زاویہ نظر: ایک سفارتی چیلنج اور موقف

    اس تمام تر پیش رفت کو اسلام آباد میں انتہائی گہری نظر اور محتاط زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے نومبر 2023 میں برکس میں باقاعدہ شمولیت کی درخواست دی تھی، اور روس و چین نے اس خواہش کا کھلے دل سے خیرمقدم بھی کیا تھا۔ تاہم، بھارت کی جانب سے برکس کے ‘اتفاق رائے’ کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا راستہ روکنا ایک حقیقت بن چکا ہے۔

    پاکستان اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

    فورم کا سیاسی استعمال

    پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت برکس کو دوطرفہ تنازعات اور سیاسی عناد کی نذر کر رہا ہے، جو برکس کے بنیادی مقاصد، یعنی عالمی جنوب کے اتحاد، کی نفی ہے۔

    پارٹنر کنٹری کا درجہ اور پاکستان کا انحراف

    گزشتہ کازان سربراہی اجلاس کے بعد برکس نے 13 ممالک، جیسے ملائیشیا، ترکیہ، بیلاروس اور کیوبا وغیرہ، کو ‘پارٹنر کنٹری’ کا درجہ دیا، لیکن پاکستان نے اس درجے کو قبول نہیں کیا۔ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ وہ اپنے معاشی اور جغرافیائی قد کاٹھ کے مطابق برکس کا ‘مکمل رکن’ بننا چاہتا ہے، کسی ثانوی درجے کا نہیں۔

    اعلامیے کی زبان پر تحفظات

    اعلامیے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق جملوں کی شمولیت پر پاکستان نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ بھارت اس زبان کو اپنے یکطرفہ بیانیے کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔

    مستقبل کے امکانات: کیا پاکستان کے لیے دروازے کھلے ہیں؟

    یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا پاکستان کبھی برکس کا مکمل رکن بن سکے گا؟ اس کا قلیل مدتی جواب اگرچہ مشکل نظر آتا ہے، لیکن طویل مدتی مستقبل امید افزا ہے۔

    اگر چین اور روس کے اثر و رسوخ کے تحت برکس کے ارکان میں مزید توسیع ہوتی ہے، یا فیصلوں کے لیے ‘سو فیصد اتفاق رائے’ کے بجائے اکثریتی رائے کا نظام قائم ہوتا ہے، تو پاکستان کا راستہ فوراً ہموار ہو جائے گا۔ مزید برآں، اگر جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بیک چینل سفارت کاری کے ذریعے بہتری آتی ہے، تو بھارتی ویٹو کا موقف نرم ہو سکتا ہے۔

    18ویں برکس کانفرنس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب دنیا کو کنٹرول کرنے کے مراکز تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ کانفرنس بھارت کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط کرنے کا ذریعہ بنی، وہیں پاکستان کے لیے یہ ایک خاموش یاد دہانی ہے کہ اسے اپنی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی سفارت کاری کو تیز تر کرنا ہوگا۔

    عالمی سیاست کا نیا اصول واضح ہے: اب بلاکس کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں رہے، اور پاکستان جیسے جغرافیائی طور پر اہم ملک کو زیادہ دیر تک ان عالمی فورمز سے باہر رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔