برطانیہ میں ایک خاتون کو پاکستانی نژاد شہری پر جھوٹا ریپ کا الزام لگانے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عدالت کے مطابق الزام محض اس بات پر لگایا گیا کہ پاکستانی شہری نے خاتون کو گلے لگانے سے انکار کر دیا تھا۔
پاکستانی نژاد سلیم اللہ کو اس وقت ہراسگی اور ریپ کے الزام کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ننگے پاؤں فٹ پاتھ پر بیٹھی ایک پریشان حال خاتون کی مدد کی۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق 33 سالہ سلیم اللہ نے 38 سالہ راچیل جونز کو اس وقت لفٹ دی جب وہ نشے کی حالت میں، ننگے پاؤں اور روتی ہوئی سڑک کنارے بیٹھی تھیں۔
راچیل جونز دوستوں کے ساتھ شراب نوشی کے بعد گھر واپس آ رہی تھیں کہ ٹیکسی ڈرائیور سے جھگڑے کے بعد انہیں گاڑی سے اتار دیا گیا تھا۔
سلیم اللہ نے خاتون کی حالت دیکھ کر ہمدردی کی اور انہیں گھر چھوڑنے کی پیشکش کی۔ دورانِ سفر خاتون نے سلیم اللہ کو گلے لگانے کی کوشش کی، تاہم انکار پر وہ ناراض ہو گئیں۔ گھر پہنچنے کے بعد انہوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ سلیم اللہ اور دو دیگر پاکستانی مردوں نے انہیں ایک سنسان مقام پر لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔
الزام کے بعد پولیس نے نمبر پلیٹ کی مدد سے سلیم اللہ کو اسٹوک آن ٹرینٹ، اسٹافورڈشائر میں ان کے گھر سے گرفتار کیا۔ انہیں 30 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور اس دوران توہین آمیز طبی معائنے بھی کیے گئے۔ بعد ازاں تفتیش میں پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ کسی قسم کی زیادتی کا واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔
سلیم اللہ نے تفتیش کے دوران اپنی گاڑی میں موبائل فون پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو پولیس کے حوالے کی، جس نے کیس کا رخ بدل دیا۔ برطانوی اخبار کے مطابق یہ واقعہ 18 اپریل 2022 کو پیش آیا تھا، جب راچیل جونز نے شریکِ حیات سے جھگڑے کے بعد دوستوں کے ساتھ شراب نوشی کی۔
چیسٹر کراؤن کورٹ میں راچیل جونز نے انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم کا اعتراف کیا، جس پر عدالت نے انہیں دو سال قید کی سزا سنا دی۔
اپنے بیان میں سلیم اللہ نے کہا کہ اس جھوٹے الزام نے ان کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ ان کے مطابق اس وقت ان کی اہلیہ چھ ماہ کی حاملہ تھیں اور انہیں خوف تھا کہ کہیں وہ اپنے بچے کی پیدائش کے وقت موجود نہ ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے گاڑی میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ کر لی تھی۔
عدالت میں سزا سناتے ہوئے جج اسٹیون ایورٹ نے کہا کہ سلیم اللہ نے مثالی رویہ اختیار کیا اور ایک پریشان حال خاتون کی مدد کی، جو ہر کوئی نہیں کرتا۔ جج کے مطابق ایسے واقعات کے بعد لوگ آئندہ کسی کی مدد کرنے سے ہچکچا سکتے ہیں، اس خوف سے کہ ان پر بھی سنگین الزامات نہ لگا دیے جائیں۔
جج نے کہا کہ اگر سلیم اللہ کے پاس گفتگو کی ریکارڈنگ موجود نہ ہوتی تو نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے تھے اور انہیں ایک سنگین مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
استغاثہ کے وکیل تھامس مک لافلن نے عدالت کو بتایا کہ راچیل جونز نے پولیس کو مکمل طور پر من گھڑت کہانی سنائی، جس میں تین پاکستانی مردوں کی جانب سے قتل کی دھمکیوں اور 45 منٹ تک جاری رہنے والے واقعے کی تفصیلات شامل تھیں۔
ان کے مطابق ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے کے بعد ہی ملزمہ نے اعتراف کیا کہ تمام الزامات جھوٹے تھے۔

