Tag: بدھا

  • فاقہ کش بدھا، لاہور میوزیم میں محفوظ، گندھارا تہذیب کا حیرت انگیز فن پارہ، جسے دنیا بھر سے بُدھ دیکھنے آتے ہیں

    فاقہ کش بدھا، لاہور میوزیم میں محفوظ، گندھارا تہذیب کا حیرت انگیز فن پارہ، جسے دنیا بھر سے بُدھ دیکھنے آتے ہیں

    فاسٹنگ بدھا یا فاقہ کش بدھا کا مجسمہ بدھ مت کے بانی Siddhartha Gautama کی زندگی کے ایک انتہائی اہم مرحلے کو دکھاتا ہے۔ وہ وقت جب انہوں نے روحانی بیداری کی تلاش میں سخت ریاضت اختیار کی تھی۔

    کہا جاتا ہے کہ اس دوران وہ کئی سال تک انتہائی کم خوراک پر زندہ رہے۔ بعض روایات کے مطابق ایسے دن بھی آتے تھے جب وہ صرف ایک دانہ چاول کھاتے تھے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جسے اس مجسمے میں پتھر پر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

    حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مجسمہ کسی بدھ مت اکثریتی ملک میں نہیں بلکہ پاکستان میں محفوظ ہے۔

    جی ہاں۔ یہ مجسمہ Lahore Museum میں رکھا ہوا ہے، اور دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اسے بدھ مت کے فن کا ایک شاہکار قرار دیتے ہیں۔

    یہ صرف روحانیت کی کہانی نہیں سناتا بلکہ انسانی جسم کی انتہائی حقیقت پسندانہ نقش گری بھی دکھاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ تقریباً دوسری سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان گندھارا تہذیب کے دور میں بنایا گیا تھا۔ اسے باریک دانے والے نیلے مائل سرمئی پتھر، یعنی شِسٹ، سے تراشا گیا ہے اور اس کی اونچائی تقریباً 84 سینٹی میٹر ہے۔

    لیکن اس فن پارے کی اصل حیرت اس کی کاریگری میں چھپی ہے۔

    مجسمے میں بدھا کے جسم کی ہڈیاں، پسلیاں اور رگیں اس قدر حقیقت پسندانہ انداز میں دکھائی گئی ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پتھر نہیں بلکہ ایک زندہ جسم سامنے کھڑا ہو۔

    یہ انداز دراصل قدیم یونانی یا ہیلینسٹک فن اور مقامی گندھارا طرز کا امتزاج ہے۔ یعنی یونانی فن کی جسمانی حقیقت نگاری اور برصغیر کی روحانی علامت نگاری ایک ہی مجسمے میں سمٹ آئی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مجسمہ لاہور میں نہیں بنایا گیا تھا۔

    اسے 1894 میں خیبر پختونخوا کے علاقے مردان کے قریب سِکری نامی مقام سے کھدائی کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں یہ آج تک محفوظ ہے۔

    گندھارا تہذیب موجودہ پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ یہ خطہ قدیم زمانے میں بدھ مت کی تعلیمات اور فن کا ایک بڑا مرکز تھا۔

    Taxila، Peshawar اور Swat جیسے علاقوں میں بدھ مت کے ہزاروں آثار دریافت ہو چکے ہیں۔

    لیکن ان سب میں فاسٹنگ بدھا کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔

    یہ مجسمہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بدھ مت کے نادر ترین آثار میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1984 میں اسے خصوصی نمائش کے لیے جاپان بھیجا گیا تھا، جہاں اسے دیکھنے کے لیے روزانہ ہزاروں لوگ میوزیم آتے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ مجسمہ شدید کمزوری کی حالت دکھاتا ہے، مگر بدھا کے چہرے پر سکون اور اطمینان واضح نظر آتا ہے۔

    شاید یہی تضاد اس فن پارے کو روحانیت اور فن کا غیر معمولی امتزاج بنا دیتا ہے۔

    یہ مجسمہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ گندھارا کی سرزمین صرف تہذیبوں کا سنگم ہی نہیں تھی بلکہ یہاں انسانی فکر، فلسفہ اور فن نے بھی ایک نئی شکل اختیار کی۔

    لاہور میوزیم میں محفوظ یہ مجسمہ آج بھی خاموشی سے ایک قدیم داستان سناتا ہے۔