Tag: باچا خان

  • باچا خان کے نظریے سے اسمبلی تک، مردوں کی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنانے والی بیگم نسیم ولی خان کی چوتھی برسی

    باچا خان کے نظریے سے اسمبلی تک، مردوں کی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنانے والی بیگم نسیم ولی خان کی چوتھی برسی

    بیگم نسیم ولی خان پاکستان کی معروف سیاسی رہنما، جمہوریت پسند شخصیت اور پشتون قوم پرست سیاست کے اہم خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے بانی رہنما خان عبدالولی خان کی اہلیہ اور باچا خان کے خاندان کی بہو تھیں۔ انہیں پاکستان کی پہلی خواتین اپوزیشن لیڈروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

    بیگم نسیم ولی خان 1936 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام نسیم شاہ تھا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، کے صاحبزادے عبدالولی خان 1948 سے 1953 تک جیل میں نظر بند رہے۔ اس دوران اُن کی پہلی اہلیہ تاج بی بی 1953 میں انتقال کر گئیں، جن سے اُن کے بیٹے اسفندیار ولی خان پیدا ہوئے۔ بعد ازاں 1954 میں ولی خان نے نسیم ولی خان سے دوسری شادی کی۔

    بیگم نسیم ولی خان سے عبدالولی خان کے ایک بیٹے سنگین ولی خان اور ایک بیٹی ڈاکٹر گلالئی ولی خان پیدا ہوئیں۔ اُن کے سگے بیٹے سنگین ولی خان کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے۔

    شادی کے بعد وہ عملی سیاست میں مزید متحرک ہوئیں اور نیشنل عوامی پارٹی، بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    جب ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی عائد کی اور ولی خان سمیت بلوچ قوم پرست رہنماؤں نواب خیر بخش مری، سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف، میر گل خان نصیر اور دیگر کو غداری اور بغاوت کے الزامات کے تحت سینٹرل جیل حیدرآباد میں قید کیا، تو 1975 میں بیگم نسیم ولی خان اپنے شوہر ولی خان کی جیل میں موجودگی کے باعث عملی سیاست میں آئیں۔

    انہوں نے نیپ، این ڈی پی اور اے این پی کے پلیٹ فارم سے ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ تین مرتبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن بھی منتخب ہوئیں۔

    1970 اور 1980 کی دہائی میں جب پاکستان میں فوجی حکومتوں اور سیاسی بحرانوں کا دور تھا، اس وقت بیگم نسیم ولی خان نے جمہوریت، پارلیمانی سیاست اور صوبائی حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک مضبوط آواز سمجھی جاتی تھیں۔

    1977 کے عام انتخابات میں بیگم نسیم ولی خان پہلی خاتون تھیں جنہوں نے سرحد صوبے سے جنرل الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کی رکن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہیں، اور اس حیثیت سے انہیں پاکستان کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

    بیگم نسیم ولی خان کو ایک باوقار، جرات مند اور اصولی سیاست دان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خواتین کی سیاسی شرکت، جمہوریت، وفاقی اکائیوں کے حقوق اور پشتون شناخت کے مسائل پر کھل کر آواز اٹھائی۔ وہ اکثر فوجی مداخلت اور غیر جمہوری اقدامات پر تنقید کرتی تھیں۔

    ان کے بیٹے اسفندیار ولی خان بھی پاکستان کے معروف سیاست دان اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر رہے۔ اس طرح بیگم نسیم ولی خان ایک ایسے سیاسی خاندان کا حصہ رہیں جس نے برصغیر اور پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا۔

    بیگم نسیم ولی خان کے اپنے سوتیلے بیٹے اسفندیار ولی خان کے ساتھ اختلافات بھی رہے۔

    بعد کے برسوں میں وہ عملی سیاست سے نسبتاً دور ہوگئیں، تاہم ان کی سیاسی اور نظریاتی حیثیت برقرار رہی۔ بیگم نسیم ولی خان کا انتقال 16 مئی 2021 کو ہوا۔ ان کی وفات کو پشتون قوم پرست سیاست اور جمہوری جدوجہد کے ایک اہم باب کا اختتام قرار دیا گیا۔