Tag: ای سی پی

  • پاکستان میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 63 لاکھ سے تجاوز، بلوچستان میں صنفی فرق سب سے زیادہ

    پاکستان میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 63 لاکھ سے تجاوز، بلوچستان میں صنفی فرق سب سے زیادہ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 13 کروڑ 63 لاکھ ہو گئی ہے۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق ووٹرز کی تعداد میں 2 لاکھ 86 ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    کمیشن کے مطابق یہ ڈیٹا 3 فروری 2025 تک اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 30 دسمبر 2024 کو جاری کیے گئے ضلعی ووٹر شماریات کے مقابلے میں سامنے آیا ہے۔

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کے تجزیے کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 28 لاکھ جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 33 لاکھ ہے۔ اس طرح مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان مجموعی صنفی فرق تقریباً 7 فیصد بنتا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے یہ اعداد و شمار جمعرات کو جاری کیے، جن میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے لحاظ سے ووٹرز کی صنفی تفصیلات شامل ہیں۔

    یہ معلومات انتخابات ایکٹ 2017 کے تحت جاری کی گئی ہیں، جس کے مطابق الیکشن کمیشن ہر سال مرد اور خواتین ووٹرز کی الگ الگ تعداد اور ان کے درمیان فرق شائع کرنے کا پابند ہے۔ اس سے قبل کمیشن نے اسی نوعیت کا ڈیٹا 4 اپریل 2024 کو جاری کیا تھا۔

    فافین کے مطابق پنجاب بدستور ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں ووٹرز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ پنجاب میں مجموعی ووٹرز 7 کروڑ 75 لاکھ ہیں جن میں 4 کروڑ 10 لاکھ مرد اور 3 کروڑ 64 لاکھ خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ سندھ میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 85 لاکھ ہے، جن میں 1 کروڑ 53 لاکھ مرد اور 1 کروڑ 31 لاکھ خواتین شامل ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 32 لاکھ ہے، جن میں 1 کروڑ 25 لاکھ مرد اور 1 کروڑ 6 لاکھ خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 57 لاکھ ہے، جن میں 32 لاکھ مرد اور 25 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 12 لاکھ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 6 لاکھ 40 ہزار مرد اور 5 لاکھ 80 ہزار خواتین شامل ہیں۔

    صنفی فرق کے لحاظ سے بلوچستان بدستور سرفہرست ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان فرق 11.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں یہ فرق 8.4 فیصد، سندھ میں 7.7 فیصد اور پنجاب میں 6 فیصد ہے، جبکہ اسلام آباد میں سب سے کم 4.4 فیصد صنفی فرق سامنے آیا ہے۔

    گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے تقابل کیا جائے تو پنجاب میں ووٹرز کی تعداد میں 1 لاکھ 37 ہزار کا اضافہ ہوا۔ سندھ میں 81 ہزار 591 نئے ووٹرز کا اندراج ہوا جبکہ خیبر پختونخوا میں 51 ہزار 906 ووٹرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد میں 20 ہزار 833 کا اضافہ ہوا، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں ووٹر لسٹ میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی جہاں 4 ہزار 979 ووٹرز کم ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ کمی ووٹر فہرستوں کی تصحیح، اندراجات کی درستگی یا بعض ناموں کے اخراج کے باعث ہو سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں اوسطاً روزانہ 216 ووٹرز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    ملک بھر میں ہفتہ وار تعطیلات کو نکال کر دیکھا جائے تو روزانہ اوسطاً 12 ہزار 434 نئے ووٹرز کا اندراج ہوا۔ پنجاب میں روزانہ اوسطاً 5 ہزار 940 ووٹرز شامل ہوئے، سندھ میں 3 ہزار 547، بلوچستان میں 2 ہزار 257 جبکہ خیبر پختونخوا میں روزانہ اوسطاً 906 نئے ووٹرز رجسٹرڈ ہوئے۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام صوبوں میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کی رفتار مردوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور آگاہی مہمات کے مثبت نتائج کی نشاندہی کرتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ جمہوری عمل کے استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق بعض صوبوں میں صنفی فرق اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جسے کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں خواتین کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔

    سب سے زیادہ اور کم ووٹرز کہاں رجسٹر ہوئے؟

    دریں اثنا فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کے ایک اور تجزیے کے مطابق سال 2025 کے دوران چاروں صوبوں میں ووٹرز کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ضلع لاہور میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں 1 لاکھ 84 ہزار 566 نئے ووٹرز کا اندراج ہوا۔ ان میں خواتین ووٹرز کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

    اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے ضلع کولائی پالس میں سب سے کم اضافہ دیکھا گیا، جہاں پورے سال میں صرف 11 نئے ووٹرز رجسٹر ہوئے۔

    پنجاب میں لاہور کے بعد فیصل آباد دوسرے نمبر پر رہا جہاں تقریباً 1 لاکھ 5 ہزار نئے ووٹرز شامل ہوئے، جبکہ راولپنڈی میں 94 ہزار سے زائد ووٹرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ میں کراچی سینٹرل سرفہرست رہا جہاں 56 ہزار سے زائد نئے ووٹرز کا اندراج ہوا، جبکہ کراچی ایسٹ اور کراچی کورنگی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    بلوچستان میں کوئٹہ میں سب سے زیادہ، یعنی 31 ہزار سے زائد ووٹرز کا اضافہ ہوا، اس کے بعد پشین اور چمن کے اضلاع رہے۔ خیبر پختونخوا میں پشاور، سوات اور مردان بالترتیب ووٹرز کے اضافے کے لحاظ سے نمایاں اضلاع رہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تقریباً 65 ہزار نئے ووٹرز رجسٹر کیے گئے۔

    دوسری جانب تین اضلاع، چترال اپر، کوہستان اپر اور سوراب میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال اپر میں ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 29 ہزار 686 سے کم ہو کر 1 لاکھ 28 ہزار 746 رہ گئی، یعنی 940 ووٹرز کم ہوئے۔

    اسی طرح کوہستان اپر میں تعداد 77 ہزار 247 سے گھٹ کر 76 ہزار 747 ہو گئی، جس سے 500 ووٹرز کی کمی ہوئی۔ جبکہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں ووٹرز کی تعداد 61 ہزار 847 سے کم ہو کر 61 ہزار 523 رہ گئی، جہاں 324 ووٹرز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔