Tag: ایڈہاک ازم

  • زاویہ: ایڈہاک ازم کی موت اور پاکستان کا انرجی بحران: متبادل راستوں کی تزویراتی ضرورت، اب نہیں تو کبھی نہیں

    زاویہ: ایڈہاک ازم کی موت اور پاکستان کا انرجی بحران: متبادل راستوں کی تزویراتی ضرورت، اب نہیں تو کبھی نہیں

    اگر آپ کو بین الاقوامی تعلقات اور جغرافیائی سیاست کی تاریخ میں یہ سمجھنا ہو کہ کوئی تزویراتی طور پر انتہائی اہم، ایٹمی صلاحیت سے لیس اور چوبیس کروڑ کی آبادی والا ملک کس طرح بیرونی حملوں کے بغیر، محض اپنے ہی فیصلوں اور مجرمانہ پالیسیوں کے ذریعے خود کو معاشی طور پر مفلوج کر سکتا ہے، تو آپ کو کسی اور ملک کی نہیں بلکہ پاکستان کی انرجی پالیسی کی پچھلی ستر سالہ تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔

    جولائی 2026 کا یہ تپتا ہوا، سسکتا ہوا مہینہ جہاں ایک طرف ملکی معیشت کے پھیپھڑوں سے آخری سانسیں نچوڑ رہا ہے، وہیں دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بھڑکنے والی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ تہران پر امریکی بمباری کے شعلے اور خلیجِ فارس میں بحری ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کو چھو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی محض 15 روزہ سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے سسکیاں لی جا رہی ہیں۔

    لیکن افسوسناک اور شرمناک امر یہ ہے کہ اس انتہائی ہنگامی حالت اور وجودی خطرے کے دوران بھی ہماری مقتدرہ، مصلحت پسند اشرافیہ اور کٹھ پتلی حکمران طویل مدتی حل تلاش کرنے کے بجائے ‘ڈے ٹو ڈے’، روزمرہ، کے عارضی فیصلوں، فائر فائٹنگ اور اشتہاری تسلیوں میں مصروف ہیں۔

    مجرمانہ تضاد اور موقع پرستی کا لامتناہی چکر

    پاکستان کا انرجی سیکٹر گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک سنگین اور مجرمانہ تضاد کا شکار رہا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو ہر چند سال بعد خود کو دہراتا ہے، لیکن ہماری مقتدر قوتیں اس سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ جب بھی عالمی منڈی میں کسی بحران کے باعث پٹرول اور بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور ملکی عوام سڑکوں پر آنے لگتے ہیں، تو حکمران طبقے کی جانب سے یکدم انقلابی بیانیے داغے جاتے ہیں۔

    روس سے سستا خام تیل منگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، وسطی ایشیا کے قدرتی خزانوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ‘تاپی’، ٹی اے پی آئی، گیس پائپ لائن کو گیم چینجر قرار دیا جاتا ہے، اور پڑوسی ملک ایران سے سستی بجلی اور گیس درآمد کرنے کے غلغلے بلند کر کے عوام کو لوریاں دی جاتی ہیں۔

    لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جوں ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں عارضی طور پر چند ڈالر نیچے آتی ہیں، مقتدر حلقے اور بیوروکریسی سکھ کا سانس لے کر ان تمام طویل مدتی اور سستے منصوبوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ دوبارہ اسی مہنگے خلیجی تیل اور ایل این جی، ایل این جی، پر انحصار شروع کر دیتے ہیں جو ہماری معیشت کا دم نکال رہا ہے۔

    اس تزویراتی سستی، ذہنی غلامی اور مجرمانہ غفلت کے پیچھے کوئی اتفاقی عوامل نہیں ہیں، بلکہ دو انتہائی طاقتور اور بااثر مہروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ ایک طرف عالمی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف، اور واشنگٹن کا سفارتی و سیاسی دباؤ ہے، اور دوسری طرف ملک کے اندر جڑیں جمائے بیٹھا وہ طاقتور ‘آئل کارٹل اور ریفائنری مافیا’ ہے جو ملکی بقا پر اپنے ذاتی منافع کو ترجیح دیتا ہے۔

    واشنگٹن کی ڈکٹیشن اور آئی ایم ایف کا طوق

    اس خطرناک گٹھ جوڑ کا پہلا اور سب سے بڑا مہرہ آئی ایم ایف اور اس کے پیچھے کھڑے مغربی سرپرست ہیں۔ پاکستان کی معیشت چونکہ دہائیوں سے قرضوں کے وینٹی لیٹر پر ہے اور ہمارا پورا مالیاتی نظام آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگراموں کے رحم و کرم پر چل رہا ہے، اس لیے واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد کے مقتدر حلقوں کو ہمیشہ یہ غیر تحریری لیکن انتہائی سخت ڈکٹیشن دی جاتی ہے کہ وہ روس، ایران یا کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ طویل مدتی تزویراتی تجارتی روابط استوار نہ کریں جو امریکہ کے عالمی نقشے پر حریف تصور کیے جاتے ہیں۔

    یوکرین جنگ کے بعد روس پر عائد کی جانے والی مغربی پابندیوں کا طوق پاکستان کے گلے میں اس طرح ڈالا گیا کہ ہم نے روس سے سستا تیل منگوانے کے چند علامتی، نمائشی اور ‘فوٹو سیشن’ نما تجربات تو کیے، لیکن آئی ایم ایف اور واشنگٹن کی ناراضگی کے خوف سے اسے کبھی ایک مستقل، قانونی، سستی اور سب سے بڑھ کر ایک وسیع سپلائی لائن میں تبدیل کرنے کی تزویراتی جرات نہیں دکھائی۔

    جب کسی ریاست کی معاشی اور تجارتی پالیسیاں اس کے اپنے پچیس کروڑ عوام کے مفاد کے بجائے واشنگٹن اور برسلز کے تزویراتی اشاروں پر مرتب کی جائیں گی، تو اس ملک کا انرجی سیکٹر اسی طرح مفلوج رہے گا اور عوام مہنگی بجلی کے بلوں کی شکل میں اس غلامی کا تاوان بھرتے رہیں گے۔

    اندرونی آئل کارٹل اور بوسیدہ ریفائنریز کی بلیک میلنگ

    اس گٹھ جوڑ کا دوسرا، زیادہ سفاک اور مہلک مہرہ ملک کا داخلی آئل کارٹل اور درآمدی مافیا ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی آئل ریفائنریز کا تکنیکی ڈھانچہ دہائیوں پرانا اور فرسودہ ہو چکا ہے، جو صرف خلیجی ممالک، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، سے آنے والے ہلکے خام تیل، لائٹ کروڈ، کو صاف کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    اس کے برعکس، روس کا خام تیل نسبتاً بھاری، ہیوی کروڈ، ہوتا ہے، جسے صاف کرنے اور اس سے زیادہ مقدار میں پٹرول اور ڈیزل نکالنے کے لیے ان ریفائنریز کو جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے فوری طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

    لیکن ملکی آئل مافیا، درآمد کنندگان اور وہ مڈل مین جو خلیجی تیل کی درآمد کے سودوں میں اربوں روپے کا خفیہ کمیشن، کِک بیکس اور منافع کماتے ہیں، اس اپ گریڈیشن پر اپنی جیب سے ایک ٹکا لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ مقتدرہ اور حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر روسی تیل مستقل بنیادوں پر لایا گیا تو ملکی ریفائنریز بند ہو جائیں گی اور ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

    نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان مافیاز کی تجوریاں روز بروز بھرتی رہتی ہیں اور ان کی فرسودگی کا پورا بوجھ نیپرا اور اوگرا کے ذریعے بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں غریب عوام کی جیبوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

    وسطی ایشیا کا خواب اور ناقص افغان پالیسی کی قربانی

    انرجی سیکیورٹی کا دوسرا بڑا متبادل وسطی ایشیا کا تزویراتی روٹ ہے، جو بدقسمتی سے ہماری ناقص، غیر مستحکم اور مصلحت پسند خارجہ و دفاعی پالیسی کی نذر ہو چکا ہے۔ ترکمانستان، قازقستان اور ازبکستان کے پاس دنیا کے امیر ترین قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کو انتہائی سستے داموں فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے افغانستان کا پرامن اور مستحکم ہونا، اور اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کا خوشگوار ہونا پہلی اور بنیادی شرط ہے۔

    سفارتی محاذ پر ہماری مقتدرہ نے ہمیشہ طویل مدتی پالیسی کے بجائے ‘ڈے ٹو ڈے’ کی بنیاد پر افغان سرحد سے متعلق حکمتِ عملی بدلی، جس کا خمیازہ آج ہمیں کابل اور اسلام آباد کے مابین شدید سرد مہری، سیکیورٹی تلخی اور بنوں جیسے سرحد پار دہشت گردی کے پے در پے حملوں کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    جب تک ہماری مغربی سرحد پر بندوقیں خاموش نہیں ہوں گی اور ہم کابل کے ساتھ ایک پائیدار سیکیورٹی معاہدہ قائم نہیں کریں گے، تب تک دنیا کا کوئی بھی بڑا بین الاقوامی مالیاتی ادارہ وسطی ایشیا سے پاکستان تک آنے والے اربوں ڈالر کے انرجی اور پائپ لائن منصوبوں میں ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا رسک بھی نہیں لے گا۔

    اب نہیں تو کبھی نہیں

    مشرقِ وسطیٰ میں چھڑنے والی ایران، امریکہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے پاس ‘ایڈہاک ازم’، عارضی اقدامات اور مصلحت پسندی کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی روایتی اسٹیٹس کو، اسٹیٹس کو، کے تحت اسی تساہل اور غلامانہ رویے کو برقرار رکھا گیا، تو خلیجی سپلائی لائن میں ذرا سا تعطل اور بجلی کے بلوں کا حالیہ بحران مل کر ملک کے طول و عرض میں ایک ایسی سویلین انارکی، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کو جنم دے گا، جسے سنبھالنا پھر کسی بھی سیکیورٹی فورس یا ادارے کے بس میں نہیں رہے گا۔

    اس ہولناک دلدل سے نکلنے کا واحد، حتمی اور تزویراتی حل یہ ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ ‘خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل’، ایس آئی ایف سی، کے بااختیار فورم کا فائدہ اٹھائے۔ روزمرہ کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، مقدمات اور عارضی لڑائیوں سے باہر نکل کر ملک کی بقا کا ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ کیا جائے۔

    آئی ایم ایف اور واشنگٹن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے انہیں یہ دوٹوک اور غیر مبہم پیغام دیا جائے کہ روس، ایران اور وسطی ایشیا سے سستا ایندھن لانا اب پاکستان کی جغرافیائی اور معاشی بقا کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی، ملکی آئل ریفائنریز پر ریاست کی رِٹ، رٹ، قائم کی جائے اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر روسی اور دیگر سستے خام تیل کو صاف کرنے کے قابل بنانے کے لیے الٹی میٹم دیا جائے۔

    اگر مقتدرہ نے اب بھی اس جرات کا مظاہرہ نہ کیا، تو روزمرہ کی بنیاد پر لگی چھوٹی موٹی آگ بجھاتے بجھاتے ایک دن یہ پورا نظام ہی اس انرجی بحران کی ہولناک آگ کی نذر ہو جائے گا، اور تاریخ کے صفحات پر اس مجرمانہ غفلت کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔