سندھ کے آٹھ لاکھ مزدوروں کے حقوق سے متعلق کیس دائر کرنے والے وکیل ایڈوکیٹ طارق منصور آئینی بینچ سندھ ہائیکورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد جذباتی ہو گئے۔ جب عدالت نے انہیں روسٹرم سے ہٹانے کے لیے پولیس طلب کر لی تو وہ روتے ہوئے کمرہ عدالت سے باہر آ گئے۔
ایڈوکیٹ طارق منصور نے کہا کہ انہوں نے دس برس تک بغیر کسی وقفے کے یہ کیس لڑا، مگر آج بھی ان کا موقف سنے بغیر درخواست مسترد کر دی گئی۔ ان کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ مزدور اس معاملے سے متاثر ہیں اور ان کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ متاثرہ مزدور غریب ہیں اور عدالتوں تک رسائی نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق مزدوروں کے حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل آٹھ، نو اور پچیس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ لیبر سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ایڈوکیٹ طارق منصور کے مطابق اس معاملے میں اقوام متحدہ کے قوانین اور پاکستان کی جانب سے دستخط کیے گئے بین الاقوامی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

