Tag: این ڈی ایم اے

  • ماحولیاتی تبدیلی: شدید سیلابوں کے باعث پاکستان میں 2010 سے اب تک تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر: این ڈی ایم اے

    ماحولیاتی تبدیلی: شدید سیلابوں کے باعث پاکستان میں 2010 سے اب تک تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر: این ڈی ایم اے

    ملک میں قدرتی اور انسانی ساختہ آفات کی تیاری، بچاؤ، امدادی کارروائیوں اور بحالی کے اقدامات کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار پاکستان کے وفاقی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حالیہ رپورٹ کے مطابق 2010  سے اب تک پاکستان میں آنے والے بڑے سیلابوں سے تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان میں جاری کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2010 کے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 2 کروڑ افراد متاثر یا بے گھر ہوئے۔ اس کے بعد 2011، 2012، 2014 اور 2015 کے سیلابوں سے مجموعی طور پر مزید ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ 2022 کے تاریخی سیلاب نے اکیلے ہی تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ان تمام بڑے سیلابوں کو ملا کر 2010 سے اب تک تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی آبادی کے لحاظ سے ایک غیر معمولی تعداد ہے۔

     یہ اعداد و شمار ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درپیش بڑھتے ہوئے خطرات اور مؤثر سیلابی تحفظ، آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی موافقت کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مون سون کی بارشیں زرعی معیشت، آبی وسائل اور روزمرہ زندگی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ہر سال جون سے ستمبر کے دوران ہونے والی بارشیں دریاؤں، ڈیموں اور زیرزمین پانی کے ذخائر کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم جب یہ بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہو جائیں تو یہی نعمت ایک بڑے قدرتی بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

     گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں مون سون کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ اسی بڑے پیمانے پر ہونے والی اس نقل مکانی کو ‘مون سون سیلابی نقل مکانی’ کہا جاتا ہے۔

    پاکستان میں دریائے سندھ کا وسیع آبی نظام شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ہے، جس میں متعدد معاون دریا شامل ہیں۔ شدید مون سون بارشوں کے دوران جب ان دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے تو نشیبی علاقے زیر آب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    اس صورتحال میں نہ صرف زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں بلکہ ہزاروں دیہات اور بستیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    سن 2010 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ غیر معمولی مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں شدید طغیانی آئی، جس سے خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے وسیع علاقے زیر آب آ گئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سیلاب سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً دو ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    لاکھوں گھر تباہ ہوئے اور کروڑوں ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچا۔

    سن 2022 میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر تاریخ کے شدید ترین مون سون سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال ملک میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

    سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد اس آفت سے متاثر ہوئے، سولہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً اسی لاکھ افراد عارضی طور پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں مکانات، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں، سینکڑوں پل، تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

    شدید سیلاب کے دوران سب سے زیادہ نقصان دیہی آبادی کو پہنچتا ہے۔ جب پانی دیہات، فصلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات، سرکاری پناہ گاہوں یا شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ بہت سے خاندان مہینوں تک عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور رہتے ہیں کیونکہ ان کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

    سیلاب صرف گھروں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ زرعی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ کپاس، چاول، گندم، سبزیاں اور دیگر فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، جبکہ مویشیوں کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں کسان اپنی آمدنی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    سیلاب کے بعد صحت کے مسائل بھی شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ آلودہ پانی کے باعث ہیضہ، اسہال، ملیریا، ڈینگی اور جلدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے، جبکہ خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے مون سون بارشوں کے انداز کو مزید غیر متوازن بنا دیا ہے۔ عالمی حدت کے باعث فضا میں نمی کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختصر وقت میں انتہائی شدید بارشیں ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

    مون سون کے باعث ہونے والی نقل مکانی صرف ایک عارضی انسانی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے طویل المدتی سماجی اور معاشی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں جا پاتے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور شہری علاقوں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    اس طرح ایک قدرتی آفت آہستہ آہستہ معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

    اقوام متحدہ، عالمی بینک اور پاکستان کے قومی اداروں کے مطابق سن 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچا۔ مختلف جائزوں کے مطابق لاکھوں افراد کئی ماہ تک بے گھر رہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی میں کئی سال لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی آفات سے بچنے کے لیے سیلاب سے قبل مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط حفاظتی بند، بہتر نکاسی آب، جدید موسمی پیش گوئی، دریا کے قدرتی بہاؤ کا تحفظ، ماحول دوست ترقیاتی منصوبے اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندانوں کی بروقت بحالی، محفوظ رہائش، روزگار کی فراہمی اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔

    مون سون کی تباہ کن سیلابی آفات کے باعث ہونے والی نقل مکانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ انسانی زندگی، معیشت، خوراک، تعلیم اور سماجی استحکام کو بھی براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔

    پاکستان میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی اختیار کرنا نہ صرف لاکھوں شہریوں کے تحفظ بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔