Tag: این سی ایچ آر

  • پاکستان میں 66 لاکھ بچے زائد خطرناک نوعیت کی مزدوری پر مجبور کیوں؟ این سی ایچ آر، یونیسیف کی تازہ رپورٹ میں نئے انکشافات

    پاکستان میں 66 لاکھ بچے زائد خطرناک نوعیت کی مزدوری پر مجبور کیوں؟ این سی ایچ آر، یونیسیف کی تازہ رپورٹ میں نئے انکشافات

    پاکستان میں بچوں سے مشقت ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور یونیسیف کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 86 لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان میں سے 66 لاکھ سے زائد خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔

    ‘پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل’ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں ملک کے مختلف حصوں میں بچوں سے مشقت کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 97 لاکھ سے زائد بچے کسی نہ کسی قسم کی مشقت کرتے ہیں۔

    یہ صرف اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں بچوں کی زندگیوں، ان کے بنیادی حقوق اور مستقبل سے جڑا ایک اہم انسانی مسئلہ ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے بارے میں آخری جامع قومی سروے 1996 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پالیسی ساز ادارے اور ترقیاتی شراکت دار پرانے یا محدود اعداد و شمار پر انحصار کرتے رہے۔ نئی رپورٹ پہلی مرتبہ ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے حاصل شدہ نسبتاً جامع معلومات کو یکجا کرتی ہے جس سے مسئلے کی حقیقی شدت سامنے آئی ہے۔

    صوبوں میں بچوں سے مشقت کی صورتحال

    اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بچوں سے مشقت کے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں 60 لاکھ سے زائد بچے مزدوری کر رہے ہیں۔

    سندھ دوسرے نمبر پر ہے جہاں تقریباً 16 لاکھ بچے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سات لاکھ 45 ہزار سے زائد، بلوچستان میں دو لاکھ ایک ہزار سے زیادہ جبکہ اسلام آباد میں تقریباً 15 ہزار بچے مشقت میں مصروف پائے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بچوں کی ایک بڑی تعداد زراعت، مویشی بانی، ورکشاپس، اینٹوں کے بھٹوں، دکانوں، گھریلو ملازمت اور دیگر غیر رسمی شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ ان میں سے لاکھوں بچے ایسے کام انجام دیتے ہیں جو ان کی عمر کے لحاظ سے نہ صرف نامناسب ہیں بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ خطرناک مشقت میں کام کرنے والے بچوں کو طویل اوقات کار، شدید گرمی، دھول، کیمیکل، بھاری مشینری اور دیگر خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بچوں سے مشقت کے حوالے سے موجود قوانین میں ہر صوبے نے ان صنعتوں، پیشوں اور آلات کی نشاندہی کی ہے جن میں بچوں سے کام لینا خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ ان فہرستوں کو اعداد و شمار کی شکل میں جانچنے کے لیے پاکستان اسٹینڈرڈ انڈسٹریل کلاسیفیکیشن (پی ایس آئی سی) 2010 اور پاکستان اسٹینڈرڈ کلاسیفیکیشن آف آکوپیشنز (پی ایس سی او) 2015 کا استعمال کیا گیا۔ ان درجہ بندیوں کی مدد سے یہ معلوم کیا گیا کہ بچے کس صنعت یا پیشے میں کام کر رہے ہیں اور آیا وہ کام قانون کے مطابق خطرناک زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر صوبوں میں خطرناک صنعتوں اور پیشوں کی فہرست تقریباً یکساں ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے کچھ اضافی شعبوں کو بھی شامل کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کے کنوؤں اور رگز پر کام کو بچوں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

    اسی طرح بلوچستان میں چار اضافی شعبے شامل کیے گئے ہیں جن میں ماربل کاٹنے کا کام، بیکریوں اور تندوروں میں کام، پلاسٹک مولڈنگ اور گھریلو چائلڈ لیبر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو مزدوری کو اعداد و شمار میں شامل کرنا نسبتاً مشکل ہے کیونکہ ہر قسم کا گھریلو کام قانونی طور پر چائلڈ لیبر نہیں سمجھا جاتا، البتہ اگر یہ کام خطرناک نوعیت کا ہو تو اسے بچوں سے مشقت کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے گھریلو ملازمت کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ تاہم آئی سی ٹی میں خطرناک صنعتوں اور پیشوں کی سرکاری فہرست دیگر صوبوں کے مقابلے میں مختصر ہے، حالانکہ اس میں 2020 میں ترامیم بھی کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بچوں کے روزگار سے متعلق ایک جامع بل 2022 میں پیش کیا گیا تھا، لیکن تاحال اسے قانون کی شکل نہیں دی جا سکی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں 2016 کے ‘پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ورک ایٹ برک کلنز ایکٹ’ کے بعد اینٹوں کے بھٹوں کو بھی خطرناک صنعتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ تاہم سروے کے دوران بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کی تعداد بہت کم سامنے آئی۔ سروے میں شامل گھروں میں صرف 260 بچوں کی نشاندہی ہوئی جو اینٹوں کے بھٹوں پر کام کر رہے تھے۔

    ماہرین کے مطابق اس کم تعداد کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بھَٹوں پر کام کرنے والے بہت سے بچے اپنے خاندانوں کے ساتھ مستقل رہائشی گھروں میں نہیں رہتے بلکہ عارضی بستیوں یا کام کی جگہوں کے قریب رہائش اختیار کرتے ہیں، جبکہ سروے کا دائرہ کار صرف باقاعدہ گھریلو یونٹس تک محدود تھا۔

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بچوں کو خطرناک صنعتوں اور پیشوں سے دور رکھنے کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں سے مشقت کا براہ راست تعلق غربت، تعلیم کی کمی، کم آمدنی، بے روزگاری اور سماجی عدم مساوات سے ہے۔ ایسے خاندان جہاں آمدنی محدود ہو، وہاں بچوں کو تعلیم کے بجائے روزگار کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ گھر کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد اسکول سے باہر رہ جاتی ہے اور غربت کا یہ سلسلہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔

    این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جاویری آغا نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ بچوں سے مشقت صرف مزدوری کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ بچوں کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ سے متعلق ایک قومی چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کو اپنے بچوں کا بہتر مستقبل یقینی بنانا ہے تو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

    بین الاقوامی وعدے

    پاکستان بچوں کے حقوق اور چائلڈ لیبر کے خاتمے سے متعلق کئی اہم بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوق اطفال، عالمی ادارہ محنت کے کم از کم عمر اور بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر سے متعلق کنونشنز، اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ شامل ہیں۔

    ان تمام معاہدوں کے تحت پاکستان نے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے وعدے کر رکھے ہیں، تاہم 1996 کے بعد اس مسئلے کی پیمائش کے لیے کوئی جامع قومی سروے نہیں کیا گیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق 1996 میں ہونے والے پہلے قومی چائلڈ لیبر سروے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک میں 33 لاکھ بچے معاشی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس وقت پانچ سے 14 سال عمر کے تقریباً چار کروڑ بچوں میں سے آٹھ فیصد کسی نہ کسی شکل میں کام کر رہے تھے۔ اس سروے میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو شامل کیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے قومی سروے کا باقاعدہ آغاز مارچ 2019 میں اس وقت کے صدر پاکستان نے کیا تھا۔ اگرچہ اس کی منصوبہ بندی اور ابتدائی تیاری کا عمل 2016 میں شروع ہو چکا تھا، تاہم مختلف صوبوں میں سروے مرحلہ وار مکمل کیے گئے۔

    پنجاب میں سروے 2019-20، خیبر پختونخوا میں 2022 جبکہ سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 2023-24 کے دوران کیا گیا۔ سروے کا مجموعی عمل 2025 میں مکمل ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق ان سرویز کے نتائج پاکستان کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، خصوصاً ہدف 8.7 کے حصول میں مدد فراہم کریں گے، جس کے تحت دنیا بھر میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام صوبائی سرویز عالمی ادارہ محنت کے شماریاتی پروگرام ‘سمپوک’ کے فریم ورک کے مطابق کیے گئے ہیں۔ اس طریقہ کار میں بچوں سے مشقت کی تعریف بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جاتی ہے، تاہم صوبائی قوانین کے مطابق عمر اور کام کے اوقات سے متعلق کچھ فرق بھی موجود ہیں۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مختلف صوبوں میں چائلڈ لیبر کی قانونی تعریفوں میں فرق ہونے کے باعث صوبوں کے درمیان براہ راست موازنہ احتیاط سے کیا جانا چاہیے۔ بعض صوبوں میں بچوں کے لیے کام کے اوقات اور ممنوعہ شعبوں کی فہرستیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کے نتیجے میں اعداد و شمار کی تشریح میں فرق آ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سرویز مختلف اوقات میں کیے گئے، اس لیے بعض بیرونی عوامل بھی نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کورونا وبا کے معاشی اثرات اور 2022 میں سندھ اور بلوچستان میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں بچوں کے کام پر جانے کے رجحان میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔

    یونیسیف کے مطابق بچوں سے مشقت نہ صرف بچوں کو تعلیم سے محروم کرتی ہے بلکہ انہیں غربت، استحصال اور عدم تحفظ کے دائرے میں بھی قید کر دیتی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ جب بچے کم عمری میں محنت مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں تو ان کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیتوں اور معاشرتی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو بچوں کو مزدوری سے نکال کر اسکولوں تک پہنچا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط بنانے، غریب خاندانوں کی مالی مدد، معیاری تعلیم تک رسائی اور بچوں سے مشقت کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ ملک میں مختلف قوانین موجود ہونے کے باوجود لاکھوں بچے اب بھی ایسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جہاں ان کی موجودگی قانونی طور پر ممنوع ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دیہی علاقوں میں بچوں سے مشقت کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ خاص طور پر زرعی علاقوں میں بچوں کو کم عمری سے ہی کھیتوں اور مویشیوں کے کام میں لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی ورکشاپس، ہوٹلوں، دکانوں اور گھریلو ملازمتوں میں بچوں کی بڑی تعداد کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر بھی بچوں سے مشقت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یونیسیف اور عالمی ادارہ محنت کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں بچے مختلف اقسام کی مزدوری میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان میں سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

    رپورٹ کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ تازہ سرویز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار حکومت اور متعلقہ اداروں کو مؤثر پالیسیاں بنانے میں مدد دیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر غربت میں کمی، تعلیم کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنایا جائے تو لاکھوں بچوں کو مزدوری کے چکر سے نکال کر تعلیم اور بہتر مستقبل کی طرف لایا جا سکتا ہے۔

  • علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کئی نجی بحالی مراکز اور بحالی کلینکس ذہنی مریضوں، خواتین، بچوں اور منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج گاہوں کے بجائے ’قید خانوں‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن گئی ہیں۔

    ’کیجڈ اِن کیئر: انویسٹیگیٹنگ ہیومن رائٹس وائیولیشنز اِن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز‘کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں این سی ایچ آر نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں قائم نجی بحالی مراکز کی تحقیقات کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد مریضوں کو ان کی مرضی کے بغیر زبردستی مراکز میں داخل کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک بند رکھا گیا، طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ بعض خواتین کو تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    ایمان یاسین ملک کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق کئی خاندانوں نے ذاتی تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، گھریلو اختلافات یا ’نافرمانی‘ کے الزامات کی بنیاد پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بحالی مراکز بھجوا دیا۔ کمیشن نے کہا کہ کئی مریضوں کو کسی عدالتی حکم یا طبی بورڈ کی منظوری کے بغیر قید رکھا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    رپورٹ کے دیباچے میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے حکومتِ پاکستان سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ریگولیٹری اداروں کو دیانت داری سے کام کرنا ہوگا۔ قانون سازوں کو ایسے قوانین بنانا اور نافذ کرنا ہوں گے جو لوگوں کو تحفظ دیں، نہ کہ انہیں قید میں ڈالیں۔ علاج سے وابستہ افراد کو اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ سول سوسائٹی کو شفافیت اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کرتے رہنا ہوگا۔ حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ذہنی صحت کا حق، عزت اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    این سی ایچ آر کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ بعض مراکز میں مریضوں کے کمروں میں کیمرے نصب تھے، خواتین کی نگرانی کی جاتی تھی، فون استعمال کرنے یا خاندان سے رابطے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی مریضوں کو طاقتور ادویات اور انجیکشن دیے گئے، لیکن انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ کون سی دوا دی جا رہی ہے۔

    تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے واقعات میں ایک وکیل خاتون ’سمان‘ کا کیس خاص طور پر نمایاں ہے، جنہیں ان کے بھائیوں نے زبردستی ایک بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو کئی ماہ تک بند رکھا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا اور رہائی کے لیے خاندان کی اجازت ضروری قرار دی گئی۔ اسی طرح ایک اور خاتون ’شازیہ‘ کو مبینہ طور پر ’نافرمانی‘ اور خاندان کے خلاف آواز اٹھانے پر بحالی مرکز بھیجا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کم عمر بچوں کو بھی بالغ افراد کے ساتھ رکھا گیا، جہاں وہ جسمانی اور جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار رہے۔ بعض بچوں کو صرف ’بدتمیزی‘، گھر سے بھاگنے یا رویے کے مسائل کی بنیاد پر مراکز میں داخل کیا گیا۔ این سی ایچ آر نے اس عمل کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

    کمیشن کے مطابق کئی مراکز میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ مریضوں کو گندے کمروں، بدبودار غسل خانوں اور غیر معیاری خوراک کا سامنا تھا۔ بعض مراکز میں مریضوں کو دن بھر کمروں میں بند رکھا جاتا تھا، دھوپ تک میسر نہیں تھی اور علاج کے نام پر صرف مذہبی لیکچر یا دعائیں کروائی جاتی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کی نگرانی انتہائی کمزور ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ کئی مراکز بغیر مناسب نگرانی، تربیت یافتہ عملے یا لائسنس کے کام کر رہے ہیں۔

    این سی ایچ آر نے سفارش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذہنی صحت کے نظام میں فوری اصلاحات کریں، بحالی مراکز کی سخت نگرانی کی جائے، جبری داخلوں کو روکنے کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں، جبکہ مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذہنی صحت کے شعبے کے لیے بجٹ بڑھایا جائے اور کمیونٹی سطح پر علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے، جبکہ خواتین میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بے روزگاری، گھریلو تشدد، سماجی دباؤ اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے ذہنی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرِ نفسیات کی تعداد ایک سے بھی کم ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈ محدود ہیں اور نجی علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماری کو اب بھی معاشرے میں ’شرمندگی‘ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث کئی خاندان مریضوں کو علاج دلانے کے بجائے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق یہی سماجی رویے بعض بحالی مراکز کو طاقت دیتے ہیں کہ وہ علاج کے نام پر لوگوں کو قید رکھیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال کریں۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ سمجھا جائے۔ کمیشن کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بحالی مراکز کمزور، بے سہارا اور ذہنی مسائل کا شکار افراد کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔