پاکستان میں جدید تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد طلبہ، اساتذہ اور محققین کو مصنوعی ذہانت کی جدید سہولیات سے آراستہ کرنا اور انہیں نئی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی تربیت فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح شامل ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ایک نئی سہولت نہیں بلکہ مستقبل کی جانب کھلنے والا دروازہ ہے۔ اس اقدام سے سندھ کے طلبہ مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبہ گوگل جیمنی پلیٹ فارم، جدید کروم بک آلات اور کلاؤڈ پر مبنی تعلیمی ٹولز کے ذریعے عملی تربیت حاصل کریں گے، جس سے انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے میں مدد ملے گی۔
اس موقعے پر بتایا گیا کہ اس مرکز کے قیام سے طلبہ کو گوگل جیمنی کی مدد سے تحقیق، تعلیمی منصوبوں، پروگرامنگ، تحریر، اعداد و شمار کے تجزیے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں معاونت حاصل ہوگی۔ اساتذہ بھی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تدریسی مواد تیار کر سکیں گے، لیکچر منصوبہ بندی کو بہتر بنا سکیں گے اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں گے۔
گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید نظام ہے جو سوالات کے جواب دینے، مختلف زبانوں میں مواد تیار کرنے، خلاصے بنانے، پیچیدہ معلومات کو آسان انداز میں سمجھانے اور تخلیقی کاموں میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے تاکہ طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق یہ مرکز طلبہ کو صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنا ہی نہیں سکھائے گا بلکہ انہیں اس کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال سے بھی آگاہ کرے گا۔ اس کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مصنوعی ذہانت کو تحقیق، تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ غلط معلومات، نقل اور دیگر چیلنجز سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
مرکز میں مختلف تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور عملی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔ ان پروگراموں میں طلبہ اور اساتذہ کو گوگل جیمنی کی مختلف خصوصیات سے روشناس کرایا جائے گا۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مسائل کا حل کس طرح تلاش کیا جا سکتا ہے اور روزمرہ تعلیمی کاموں کو کس طرح زیادہ آسان اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت ہر شعبے کا اہم حصہ بن جائے گی۔ ایسے میں جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو جدید مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں اس مرکز کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ یونیورسٹی میں تحقیق کے معیار میں بہتری آئے گی، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور طلبہ کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ یہ مرکز صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نئی تحقیق، اختراعات اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو درست رہنمائی اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں گوگل جیمنی برائے تعلیم مرکز کا قیام اسی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے نئی نسل کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور ملک میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ نے گوگل کیریئر سرٹیفکیشن پروگرام 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
اس پروگرام کے تحت سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کو 20 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس دی جائیں گی۔ ان اسکالرشپس کے ذریعے طلبہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، پراجیکٹ مینجمنٹ، یوزر تجربہ ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آئی ٹی سپورٹ اور دیگر جدید شعبوں میں عالمی معیار کے سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں گے۔

