Tag: ایئر کنڈیشنر

  • یورپ میں ریکارڈ گرمی، ایشیائی ایئر کنڈیشنر ساز کمپنیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

    یورپ میں ریکارڈ گرمی، ایشیائی ایئر کنڈیشنر ساز کمپنیوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

    یورپ شدید اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث جنوبی کوریا، چین اور جاپان کی ایئر کنڈیشنر بنانے والی بڑی کمپنیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    یورپ کے کئی ممالک میں درجہ حرارت مسلسل نئی بلندیاں چھو رہا ہے، گرمی کے باعث اموات، بجلی کی فراہمی میں خلل اور اسکولوں کی بندش جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورت حال میں شہری اور کاروباری ادارے شدید گرمی سے بچنے کے لیے پورٹیبل اور مستقل نصب کیے جانے والے ایئر کنڈیشنرز تیزی سے خرید رہے ہیں۔

    ایشیا کے بڑے شہروں میں گھروں، دفاتر اور ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشنر عام ہیں، جبکہ یورپ میں اب تک ان کا استعمال نسبتاً محدود رہا ہے۔ تاہم حالیہ ہیٹ ویو نے صورتحال بدل دی ہے اور کئی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

    جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جون کے بعد درجہ حرارت میں مزید اضافے کے پیش نظر کولنگ سیزن کے دوران طلب مسلسل برقرار رہنے کی توقع ہے۔ کمپنی کے مطابق اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت اہم یورپی منڈیوں میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران فروخت میں دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب ایل جی الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں اس کی ایک فیکٹری کی ایئر کنڈیشنر پروڈکشن لائنیں اپریل سے ہی مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ جنوبی کوریا اور عالمی منڈیوں میں موسم گرما کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔

    چین کی کمپنی میڈیا نے بھی اپنے پورٹا اسپلٹ ایئر کنڈیشنر کی طلب میں غیر معمولی اضافے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق آرڈرز اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ بعض مقامات پر استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نئے ایئر کنڈیشنر سے بھی زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔

    یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی ممالک میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شدید گرمی کے باعث اموات، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں، اسکولوں کی بندش اور اسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ا

    س غیر معمولی صورتحال نے ایشیا کی ایئر کنڈیشنر بنانے والی بڑی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع بھی پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ یورپ بھر میں کولنگ آلات کی مانگ اچانک کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق یورپ میں صرف تقریباً 20 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشنر موجود ہیں، جس کے باعث شدید گرمی کے دوران لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گرمی کی شدت سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے اور قیمتی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔

    جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس نے رائٹرز کو بتایا کہ جون کے بعد درجہ حرارت میں مزید اضافے کی توقع ہے، اس لیے پورے کولنگ سیزن کے دوران طلب بلند رہنے کا امکان ہے۔ کمپنی کے مطابق اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت اہم یورپی منڈیوں میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ایئر کنڈیشنر کی فروخت میں دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

    جب کہ صرف جرمنی میں آن لائن خریداری کے ذریعے ایئر کنڈیشنرز کی فروخت مئی میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 37 فیصد بڑھ گئی، جبکہ اٹلی، اسپین اور فرانس سمیت اہم یورپی منڈیوں میں بھی رواں سال فروخت میں دو ہندسوں پر مشتمل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کمپنی کو امید ہے کہ موسم گرما کے باقی مہینوں میں بھی فروخت میں اضافہ جاری رہے گا۔

    ایل جی الیکٹرانکس نے بھی بتایا ہے کہ جنوبی کوریا میں اس کی ایک بڑی فیکٹری کی ایئر کنڈیشنر پروڈکشن لائنیں اپریل سے مسلسل مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ جنوبی کوریا سمیت دنیا بھر کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔ کمپنی کے مطابق یورپی آرڈرز میں نمایاں اضافے کی وجہ سے پیداواری سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔

    چین کی معروف کمپنی Midea نے بھی اپنے پورٹا اسپلٹ ایئر کنڈیشنر کی مانگ میں غیر معمولی اضافے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق یورپ میں ایک ایئر کنڈیشنر نصب کرنے پر ایک ہزار 137 امریکی ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آ سکتا ہے۔

    کمپنی نے شدید گرمی سے اپنے ملازمین کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈیلیوری عملے کو خصوصی ’کول باکس‘ فراہم کیے ہیں، جن میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچاؤ کا سامان بھی شامل ہے۔

    بعض مارکیٹوں میں پورٹا ماڈل مکمل طور پر فروخت ہو گیا، جبکہ بعض مقامات پر استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نئے ایئر کنڈیشنر سے بھی زیادہ وصول کی جا رہی ہے، جو غیر معمولی طلب کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں آن لائن فروخت کے ذریعے ایئر کنڈیشنر کی خریداری مئی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 37 فیصد بڑھ گئی، جبکہ اسپین اور فرانس کو میڈیا کمپنی کی ترسیلات میں 108 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس تیزی نے ثابت کر دیا ہے کہ یورپی صارفین اب شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کولنگ سسٹمز پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔

    تاہم یورپ میں ایئر کنڈیشنر لگانا آسان نہیں۔ کئی ممالک میں پرانی رہائشی عمارتوں کا ڈھانچہ جدید کولنگ سسٹمز کے لیے موزوں نہیں، جس کی وجہ سے تنصیب مہنگی اور وقت طلب ثابت ہوتی ہے۔

    میڈیا کمپنی کے مطابق یورپ میں ایک ایئر کنڈیشنر کی تنصیب پر ایک ہزار یورو سے زیادہ خرچ آ سکتا ہے، جو بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہے۔ اس کے باوجود شدید گرمی کے باعث لوگ یہ اضافی خرچ برداشت کرنے پر تیار ہیں۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس وقت یورپ میں گھریلو سطح پر ایئر کنڈیشنر کی ملکیت تقریباً 20 فیصد ہے، جو ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی اور بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہروں کے باعث آنے والے برسوں میں اس شرح میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    شدید گرمی نے صرف صارفین ہی نہیں بلکہ کاروباری اداروں کو بھی نئے اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ کئی کمپنیاں اپنے ملازمین کو ٹھنڈے تولیے، خصوصی کولنگ باکس، پانی سے ٹھنڈے ہونے والے کلائی بینڈ اور دھوپ سے بچانے والے حفاظتی سامان فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ شدید گرمی میں بھی محفوظ طریقے سے کام جاری رکھ سکیں۔

    دوسری جانب عالمی موسمیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ حالیہ ہیٹ ویو کو موسمیاتی تبدیلی کا واضح نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مؤثر کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں یورپ میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف صحت عامہ بلکہ توانائی، معیشت اور شہری انفراسٹرکچر پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔