پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کی آبادی بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ آبادی میں سالانہ اضافہ 2.07 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق ایک طرف آبادی میں تیز رفتار اضافہ حکومت کے لیے تعلیم، صحت، رہائش، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا بڑا چیلنج بن رہا ہے، تو دوسری جانب نوجوانوں کی بڑی تعداد پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ایک نادر موقع بھی فراہم کر رہی ہے، بشرطیکہ انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔
سالانہ بجٹ سے ایک دن پہلے، 11 جون کو جاری کیے گئے قومی اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی میں 12 کروڑ 96 لاکھ مرد جبکہ 12 کروڑ 24 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ ملک کی 66 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے، جبکہ تقریباً 26.6 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
اسی طرح 56 اعشاریہ نو فیصد آبادی کام کرنے کی عمر یعنی 15 سے 64 سال کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ‘ڈیموگرافک ڈویڈنڈ’ حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ تھی جو 2025 میں بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پنجاب بدستور سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جہاں آبادی 13 کروڑ 33 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار جبکہ بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ 52 لاکھ 10 ہزار ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 14 سال کی عمر کے بچوں کا تناسب تقریباً 39.5 فیصد ہے، جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد صرف 3.65 فیصد ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی نوجوان تعلیم یافتہ، ہنرمند اور روزگار یافتہ بن جائیں تو ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، لیکن اگر انہیں مواقع نہ ملے تو یہی آبادی معاشی اور سماجی دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو کاروبار اور ہنر کی تربیت دینے کے لیے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم اور وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو خود روزگار اور جدید مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق کام کرنے کی عمر کی آبادی بڑھ کر 17 کروڑ 96 لاکھ ہو گئی ہے، جو چند برس قبل 15 کروڑ 98 لاکھ تھی۔ اسی دوران لیبر فورس کی تعداد بھی بڑھ کر 8 کروڑ 31 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملازمت کرنے والے افراد کی تعداد 6 کروڑ 72 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 7 کروڑ 72 لاکھ ہو گئی ہے۔
اگرچہ ملازمتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، تاہم بے روزگاری میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سروے کے مطابق بے روزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ 10 ہزار سے بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی جبکہ بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور لیبر فورس کے مقابلے میں ان کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق لیبر فورس میں شمولیت کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے، جو 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی۔ اس میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مختلف شعبوں میں روزگار کی صورتحال کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ زراعت اب بھی سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، تاہم اس میں ملازمتوں کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس تھوک اور پرچون تجارت، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور سماجی خدمات کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں، جو معیشت میں بتدریج تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تعمیرات کے شعبے میں روزگار کا حصہ 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد جبکہ ہولسیل اور رٹیل تجارت میں 14.5 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہو گیا۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ اور مواصلات میں روزگار کا حصہ 6.2 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد جبکہ سماجی اور ذاتی خدمات کے شعبے میں 16 فیصد سے بڑھ کر 17.9 فیصد ہو گیا۔
اس کے برعکس مینوفیکچرنگ کا حصہ تقریباً جمود کا شکار رہا اور معمولی کمی کے ساتھ 14.8 فیصد پر آ گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی شعبہ اب بھی مطلوبہ رفتار سے نئی ملازمتیں پیدا نہیں کر پا رہا۔
اقتصادی سروے کے مطابق حکومت نے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو ترجیح دی ہے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی شعبوں، جدید ٹیکنالوجی، تعمیرات، خدمات اور دیگر شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں میں 77 ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت جاری ہے جبکہ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، بیرون ملک روزگار، مدرسہ طلبہ، ضم شدہ اضلاع اور دیگر شعبوں کے لیے بھی خصوصی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فنی تعلیم کے اداروں میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔ ملک بھر میں 1,503 تربیتی اداروں کی رجسٹریشن کی گئی جبکہ 1,600 قومی سطح کے اسیسرز کو لائسنس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ 70 نئے تعلیمی نصاب اور مہارتوں کے معیار تیار کیے گئے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ڈیٹا انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نئے ڈپلومہ پروگرام بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق مہارت حاصل کر سکیں۔
اقتصادی سروے میں آبادی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومتوں کی خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مانع حمل سہولتوں کی فراہمی، طبی عملے کی تربیت، ڈیجیٹل نظام، آگاہی مہمات اور دور دراز علاقوں تک خدمات کی فراہمی کے اقدامات جاری ہیں تاکہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو متوازن رکھا جا سکے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ اس آبادی کو تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پیداواری صلاحیتوں سے آراستہ کر دیا جائے تو یہی آبادی پاکستان کی معیشت کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اگر روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سماجی دباؤ مستقبل میں مزید سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔



