انیس سو ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں کراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں جدید عمارتوں کے ساتھ ساتھ اونٹ گاڑیاں بھی سڑکوں پر عام نظر آتی تھیں۔ انہی سادہ مناظر میں ایک غریب مگر باوقار اونٹ گاڑی چلانے والا شخص، بشیر احمد ساربان، اپنی روزمرہ زندگی گزار رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی قسمت اسے دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ تک لے جائے گی۔
20 مئی 1961 کو امریکی نائب صدر لینڈن بی جانسن پاکستان کے دورے پر کراچی آئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ لیڈی برڈ جانسن بھی موجود تھیں۔ شہر کے دورے کے دوران ان کا قافلہ کراچی کی ایک سڑک سے گزرا جہاں بشیر اپنے اونٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔ گاڑی سے اتر کر لینڈن بی جانسن نے اونٹ کے ساربان کو قریب بلایا۔ روایتی انداز میں ہاتھ ملاتے ہوئے جانسن نے ایک جملہ کہا: ’کبھی واشنگٹن آؤ اور ہم سے ملو۔‘ یہ جملہ وہ اکثر سفارتی دوروں میں بطور خوش اخلاقی کہتے تھے، مگر اس بار یہ جملہ ایک غیر معمولی کہانی کا آغاز بن گیا۔
بشیر نے اس دعوت کو سنجیدگی سے لیا، اور اگلے ہی دن پاکستانی اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہو گئی کہ ایک اونٹ گاڑی والا امریکی نائب صدر کی دعوت پر امریکہ جائے گا۔ مشہور صحافی ابراہیم جلیس، جو پاکستان کے ایک مشہور کالم نگار تھے، نے لکھا کہ اس بات پر سب لوگ بہت خوش اور پُرجوش تھے کہ نائب صدر نے بشیر کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے بشیر سے ہاتھ ملاتے ہوئے یہ جملہ کہا ہو، جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی ہے۔
ایک عام آدمی کا عالمی سفر
کچھ ہی مہینوں بعد امریکی حکومت نے اس زبانی دعوت کو حقیقت بنا دیا۔ بشیر احمد کو سرکاری مہمان کے طور پر امریکہ بلایا گیا۔ وہ نیویارک پہنچے جہاں خود لینڈن جانسن نے ان کا استقبال کیا۔ یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا: کراچی کی سڑکوں سے اٹھنے والا ایک مزدور اب عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکا تھا۔

بشیر ساربان کے بیٹے نے بعد میں کراچی کے امریکی کاونسلیٹ کی ایک تقریب میں بتایا: ’امریکہ جانے سے پہلے، میرے والد کو ان کا چلنا، اٹھنا اور بیٹھنا سکھایا گیا، ان کے لیے شیروانی اور ٹوپی بنوائی گئی۔‘
اکتوبر 1961 میں بشیر احمد واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔ انہیں امریکی دارالحکومت کے اہم مقامات دکھائے گئے، جن میں لنکن میموریل، سینیٹ اور دیگر سرکاری عمارتیں شامل تھیں۔ اسی دوران انہیں وائٹ ہاؤس لے جایا گیا جہاں اس وقت کے صدر جان ایف کینیڈی کی انتظامیہ موجود تھی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 20 اکتوبر 1961 کو وائٹ ہاؤس میں بشیر احمد کی ملاقات اور تصاویر محفوظ کی گئیں، جن میں لیڈی برڈ جانسن انہیں خوش آمدید کہتی نظر آتی ہیں۔
یہ منظر خود میں ایک علامت تھا: ایک ترقی پذیر ملک کا محنت کش، دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ایوان میں مہمان کے طور پر کھڑا تھا۔
بشیر کے دورے میں لیڈی برڈ جانسن نے خاص دلچسپی لی۔ وہ کئی تقریبات میں ان کے ساتھ نظر آئیں اور بعض مواقع پر ان کی رہنمائی بھی کی۔ اس دورے کے دوران بشیر نے امریکی اسکول میں تقریر بھی کی جہاں لیڈی برڈ جانسن موجود تھیں۔ یہ تعلق محض سفارتی نہیں بلکہ انسانی سطح پر بھی گہرا تھا۔ ایک سادہ آدمی کو عزت دینا اس دور کی امریکی ’پیپل ٹو پیپل‘ پالیسی کی جھلک بھی تھی۔
ٹیکساس کا سفر اور یادگار لمحات واشنگٹن کے بعد بشیر احمد کو ٹیکساس لے جایا گیا جہاں انہوں نے جانسن کے نجی فارم کا دورہ کیا۔ یہاں ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا جب بشیر نے گھوڑے کی دوڑ میں جانسن کو ہرا دیا، جسے انہوں نے اپنے سفر کا سب سے یادگار لمحہ قرار دیا۔ یہ واقعہ میڈیا میں خوب نمایاں ہوا اور دونوں کے درمیان دوستی کی علامت بن گیا۔
بشیر احمد کا یہ سفر صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان اور امریکہ کے عوام کے درمیان تعلقات کی ایک منفرد مثال بن گیا۔ اس دور میں جب سرد جنگ جاری تھی، ایک اونٹ گاڑی والے اور ایک عالمی رہنما کے درمیان دوستی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصل طاقت عوامی رابطوں میں ہے، نہ کہ صرف سیاست میں۔
واپسی اور اثرات امریکہ سے واپسی پر بشیر کو مزید تحفے دیے گئے، حتیٰ کہ ان کے لیے عمرہ کی زیارت کا بھی انتظام کیا گیا۔ کراچی واپس آنے پر وہ ایک مقامی ہیرو بن چکے تھے۔ اخبارات، رسائل اور عوامی محافل میں ان کی کہانی سنائی جاتی رہی۔ آج بھی یہ واقعہ پاکستان کی سفارتی اور سماجی تاریخ میں ایک منفرد باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
ایک سادہ سا جملہ، ایک اچانک ملاقات، اور ایک سچا وعدہ: یہ سب مل کر ایک ایسی کہانی بن گئے جس میں انسانیت، مہمان نوازی اور بین الاقوامی تعلقات کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ بشیر احمد ساربان کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف بڑے لیڈروں کے فیصلوں سے نہیں بنتی، بلکہ کبھی کبھی ایک عام انسان بھی دنیا کو جوڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل ایسی چھپی ہوئی کہانیاں لاتا ہے، ایسی دلچسپ کہانیوں کے لیے جڑے رہے ساگا ڈیجیٹل کے ساتھ۔

