Tag: اوجھڑی کیمپ

  • 10 اپریل 1988: جب اوجھڑی کیمپ راولپنڈی میں ہزاروں میزائل پھٹ پڑے

    10 اپریل 1988: جب اوجھڑی کیمپ راولپنڈی میں ہزاروں میزائل پھٹ پڑے

    10 اپریل 1988 کا دن پاکستانی تاریخ میں ایک ‘سیاہ باب’ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان واقع اوجھڑی کیمپ میں ہونے والے دھماکوں نے نہ صرف جانی و مالی نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت کے درمیان موجود تنازعات کو بھی بے نقاب کیا۔

    جغرافیائی اور اسٹریٹجک پس منظر:

    اوجھڑی کیمپ راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے فیض آباد میں واقع تھا۔ یہ کیمپ افغان جہاد کا مرکزی مرکز تھا۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے بھیجے گئے جدید ہتھیار، جن میں اسٹنگر میزائل بھی شامل تھے، یہاں ذخیرہ کیے جاتے تھے، جہاں سے یہ آئی ایس آئی کی نگرانی میں افغان جنگجوؤں تک پہنچائے جاتے تھے۔

    10 اپریل 1988 کو صبح 9:30 بجے، جب راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری اپنی معمول کی زندگی میں مصروف تھے، اسلحہ خانے میں لگنے والی آگ نے میزائلوں اور راکٹوں کو متحرک کر دیا۔ چند ہی لمحوں میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے اوپر میزائلوں کی اندھی بارش شروع ہو گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اموات کی تعداد تقریباً 100 بتائی گئی، لیکن آزاد محققین اور عینی شاہدین کے مطابق یہ تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ ہزاروں شہری زخمی ہوئے اور بہت سے لوگوں کی ذہنی صحت پر اس واقعے کے گہرے اثرات پڑے۔

    اس سانحے میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے والد، اس وقت کے وفاقی وزیر خاقان خان عباسی، کی گاڑی پر میزائل گرنے سے موقع پر ہی وفات پا گئے، جبکہ ان کے بیٹے کئی سال تک کوما میں رہنے کے بعد وفات پا گئے۔ یہ واقعہ اس وقت کی سیاسی قیادت کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔

    اس سانحے کے پیچھے مختلف نظریات پیش کیے جاتے ہیں جو آج تک بحث کا موضوع ہیں۔

    سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ ایک امریکی وفد ہتھیاروں کے ذخیرے کا معائنہ کرنے والا تھا۔ میزائلوں کی غیر قانونی فروخت یا خرد برد کو چھپانے کے لیے ذخیرے کو آگ لگا دی گئی تاکہ ریکارڈ ختم ہو جائے۔ جبکہ جنرل ضیا الحق کے حامیوں کے مطابق اس کا ذمہ دار سوویت یونین کے جی بی یا افغان ایجنسی خاد تھے تاکہ افغان جہاد میں پاکستان کے کردار کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ایک رائے یہ بھی تھی کہ اتنا خطرناک اسلحہ شہری آبادی کے درمیان رکھنا ہی سب سے بڑی غفلت تھی۔

    وزیر اعظم محمد خان جونیجو، جو ایک اصول پسند سیاستدان تھے، نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ خان کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن قائم کیا۔ جونیجو کا ارادہ تھا کہ ذمہ دار جرنیلوں، بشمول جنرل اختر عبدالرحمان، کا احتساب کیا جائے۔

    فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے اوپر انگلی اٹھانا برداشت نہ کیا۔ جب وزیر اعظم چین کے دورے پر تھے تو جنرل ضیا الحق نے 29 مئی 1988 کو آئین کے آرٹیکل 58-2 بی کا استعمال کرتے ہوئے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

    اوجھڑی کیمپ کا سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا موڑ تھا۔ اس واقعے کے نتائج میں احتساب کا فقدان نمایاں رہا۔ انکوائری رپورٹ کبھی مکمل طور پر منظر عام پر نہ آ سکی اور نہ ہی کسی کو سزا ملی۔

    اس واقعے کے بعد اسلحہ خانوں کو شہروں سے دور منتقل کرنے کی پالیسی بنائی گئی۔

    محمد خان جونیجو کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، جس سے نواز شریف کے ابھرنے کا راستہ ہموار ہوا۔

    محمد خان جونیجو جیسے شریف النفس انسان کی سیاست کا خاتمہ اور اوجھڑی کیمپ جیسے واقعات پاکستان کی تاریخ کے وہ زخم ہیں جو آج بھی ملک کی سیاسی اور دفاعی تاریخ پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ تاہم اوجھڑی کیمپ کے متاثرین کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔