Tag: انڈس ڈیلٹا

  • جب دریا سمندر تک نہ پہنچے: ’The Disappearing Delta ‘ میں نصیر میمن انڈس ڈیلٹا کی تباہی اور ہجرت کی کہانی بیان کرتے ہیں

    جب دریا سمندر تک نہ پہنچے: ’The Disappearing Delta ‘ میں نصیر میمن انڈس ڈیلٹا کی تباہی اور ہجرت کی کہانی بیان کرتے ہیں

    دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں۔ یہ سندھ کی تاریخ، تہذیب، معیشت، زراعت، ثقافت اور اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے۔ لیکن اگر اس دریا کا آخری حصہ، یعنی انڈس ڈیلٹا، مسلسل سکڑتا اور تباہ ہوتا رہے تو اس کے اثرات صرف چند ساحلی دیہات تک محدود نہیں رہیں گے۔

    یہ پاکستان کے ماحول، معیشت، خوراک، ساحلی سلامتی اور لاکھوں انسانوں کے مستقبل کو متاثر کریں گے۔

    پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی قدرتی آفات کے ماہر انجنیئر نصیر میمن کی حال ہی میں شایع کی گئی انگریزی کتاب’The Disappearing Delta ‘ اسی خطرے کو اعداد و شمار، تاریخی حوالوں اور تحقیقی شواہد کے ساتھ سامنے لاتی ہے۔

    نصیر میمن گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے سے ترقی، انسانی امداد، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔وہ ایسے موضوعات پر باقاعدگی سے اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔ ان موضوعات پر ان کی  15 سے زائد کتابیں انگریزی، سندھی اور اردو زبانوں میں آچکی ہیں۔

    اس کتاب کے ابواب میں ڈیلٹا کا تعارف، دریائے سندھ کے پانی میں کمی، سمندر کی سطح میں اضافہ، کھارے پانی کی یلغار، سمندری کٹاؤ، چکرواتی طوفان، مینگرووز کی تباہی، مقامی آبادی کے معاشی مسائل اور قدرت کے حقوق جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

    ڈیٹا اینڈ ریسرچ اکیڈمی، سندھ (درس)  کی جانب سے 2026 میں شایع شدہ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے ڈیلٹا کی تباہی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے انسانی مسئلہ بھی بنایا ہے۔ کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جب دریا کا پانی کم ہوتا ہے تو صرف دریا نہیں مرتا، بلکہ اس کے ساتھ مچھلی، زراعت، روزگار، پینے کا پانی، صحت، تعلیم، مقامی معیشت اور بالآخر انسانی بستیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    مصنف کے مطابق ٹھٹہ، سجاول اور بدین اضلاع کی آبادی پہلے ہی غربت اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے، جبکہ ڈیلٹا کی ماحولیاتی تباہی نے غربت، بے روزگاری، غذائی کمی اور نقل مکانی کو مزید بڑھایا ہے۔

    مصنف نے یہ کتاب دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں رہنے والی ان آبادیوں کے نام سے منصوب کی ہے جو مسلسل مشکلات کے باوجود جس ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ان کو امید ہے کہ یہ رپورٹ ڈیلٹا کے بحران کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی اور پالیسی سازوں، محققین اور سول سوسائٹی کے درمیان بامعنی مکالمے کو فروغ دے گی۔

    دریائے سندھ کا ڈیلٹا صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ قومی اور عالمی ورثہ ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    کتاب کا سب سے اہم باب دریائے سندھ کے پانی میں کمی سے متعلق ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران دریائے سندھ پر ڈیموں، بیراجوں، نہروں اور دوسرے آبی منصوبوں کا ایک وسیع نظام قائم ہوا۔ اس وقت اس میں تین بڑے ڈیم، 23 بیراج اور ہیڈ ورکس، 12 بین الریاستی نہریں، اور 48 مستقل نہریں شامل ہیں۔

    ان نہروں کی مجموعی لمبائی تقریباً 60 ہزار کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار واٹرکورسز ہیں، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 16 لاکھ کلومیٹر بنتی ہے۔

     اس نظام نے ملک میں زراعت، بجلی اور خوراک کی پیداوار بڑہانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اس ترقی کی ایک بھاری قیمت ڈیلٹا نے ادا کی۔

     کتاب کے مطابق کوٹری بیراج کے نیچے دریائے سندھ کے میٹھے پانی کے بہاؤ میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ دریا جو سلٹ یا مٹی اپنے ساتھ بہاکر لے آتا ہے، اس کی مقدار بھی تقریباً 80 فیصد کم ہوئی۔ پہلے ڈیلٹا کو سالانہ تقریباً 40 کروڑ ٹن سلٹ ملتی تھی جو اب تقریباً تین کروڑ ٹن تک رہ گئی ہے۔

    یہ اعداد و شمار دراصل اس پورے بحران کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔ دریا جب سمندر تک پہنچتا ہے تو صرف پانی نہیں لے کر جاتا، بلکہ سلٹ بھی ساتھ لاتا ہے۔ یہی سلٹ ساحل کو مضبوط بناتی، نئی زمین بناتی اور سمندر کے مقابلے میں قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ جب دریا کا بہاؤ کم ہوا تو سمندر کو آگے بڑھنے کا موقع ملا۔

    نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیلٹا کا ساحل کٹنے لگا، سمندر زمین کو نگلنے لگا اور کھارا پانی اندرونِ زمین داخل ہونے لگا۔

    کتاب میں 1833 کے ایک نقشے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت فعال ڈیلٹا کا رقبہ تقریباً 13ہزار نو سو مربع کلومیٹر تھا، جو اب تقریباً ایک ہزار 67 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ یعنی تقریباً 92 فیصد کم ہوچکا ہے۔

    سمندری پانی کی یلغار اس کتاب کا ایک اور انتہائی اہم موضوع ہے۔ مصنف کے مطابق بعض علاقوں میں سمندر کا کھارا پانی دریائے سندھ کے راستے 54 کلومیٹر تک اندر داخل ہو چکا ہے۔ ساحلی پانی میں نمکیات کی مقدار تقریباً 50 سال پہلے 15 سے 20 حصے فی ہزار تھی، جو اب 45 سے 50 حصے فی ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

    ڈیلٹا کی 80 فیصد سے زیادہ زمین نمکیات سے متاثر ہونے کی بات بھی کتاب میں موجود ہے۔ اس کا براہ راست اثر کسان پر پڑتا ہے، کیونکہ زمین موجود ہونے کے باوجود اس میں فصل پیدا نہیں ہوتی۔

    مقامی آبادی کی بدحالی

    کتاب میں مقامی کسانوں کی بدحالی کا بہت تفصیل سے ذکر موجود ہے، کیوں کہ جب کھیت خراب ہوتے ہیں تو کسان کے پاس روزگار نہیں رہتا۔ جب پینے کا پانی کھارا ہو جاتا ہے تو خاندانوں کو کئی کلومیٹر دور سے پانی لانا پڑتا ہے۔ یوں ماحول کی خرابی آہستہ آہستہ غربت اور نقل مکانی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

    کتاب کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے حساب سے ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے آٹھ تعلقوں میں تقریباً 20 لاکھ افراد آباد ہیں اور یہ پوری آبادی ڈیلٹا کی تباہی سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ زیر زمین پانی کھارا ہو چکا ہے، جبکہ بہت سے لوگوں کو پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے پانچ سے دس کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ صرف 3.2 فیصد افراد کو پائپ کے ذریعے پانی ملنے کی سہولت حاصل ہے۔

    صحت کے مسائل بھی اسی بحران کا حصہ ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مقامی آبادی میں پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں، جلدی بیماریوں، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کی شکایات عام ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان مسائل کو آلودہ پانی، خوراک کی کمی اور صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی سے جوڑتی ہے۔ اس طرح پانی کی کمی صرف پیاس کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ انسانی صحت کا بحران بن جاتی ہے۔

    غربت کے اعداد و شمار بھی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ کتاب میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سجاول میں کثیرالجہتی غربت کی شرح 82 فیصد، ٹھٹہ میں 78.5 فیصد اور بدین میں 74.8 فیصد ہے۔ ان اضلاع میں بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیلٹا کی تباہی صرف موجودہ نسل کے روزگار کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ اگلی نسل کے مستقبل کو بھی محدود کر رہی ہے۔

    ماہی گیری کے بحران کو مصنف نے خاص اہمیت دی ہے۔ جب دریا میں پانی کم ہوتا ہے تو مچھلی کم ہوتی ہے۔ جب مچھلی کم ہوتی ہے تو ماہی گیر کا کاروبار ختم ہوتا ہے۔ پلا مچھلی سندھ کی معیشت اور ثقافت دونوں کا اہم حصہ رہی ہے۔ کتاب کے مطابق ماضی میں پلہ مجموعی مچھلی کے شکار کا تقریباً 70 فیصد تھا، لیکن 1980 کی دہائی کے وسط تک یہ حصہ کم ہو کر تقریباً 15 فیصد رہ گیا۔

    اس کی بڑی وجہ دریائے سندھ کے بہاؤ میں کمی کو قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث پلا کی افزائش کے لیے دریا میں اوپر جانے کی قدرتی نقل و حرکت محدود ہوگئی۔

    یہاں ایک اہم بات سامنے آتی ہے۔ ماحولیاتی تباہی ہمیشہ اچانک نہیں آتی۔ یہ اکثر ایک خاموش عمل ہوتا ہے۔ پہلے مچھلی کم ہوتی ہے، پھر آمدنی کم ہوتی ہے، پھر خاندان قرض لیتا ہے، پھر زمین چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے اور آخرکار نقل مکانی کرتا ہے۔ کتاب میں زمین کی تباہی کے مختلف اندازے پیش کیے گئے ہیں اور ایک تحقیق کے حوالے سے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کی نقل مکانی کا تعلق زمین کی خرابی سے جوڑا گیا ہے۔

    مینگرووز کی تباہی بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ انڈس ڈیلٹا ایشیا کے سب سے بڑے خشک علاقوں کے مینگرووز کے جنگلات کا گھر ہے اور پاکستان کے تقریباً 95 فیصد مینگرووز یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ جنگلات مچھلیوں کی افزائش گاہ، ساحل کے قدرتی محافظ اور مقامی آبادی کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ کتاب کے مطابق 1950 میں مینگرووز کا رقبہ تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار ہیکٹر تھا جو 2005 میں کم ہو کر 86,767 ہیکٹر رہ گیا۔ بعد میں شجرکاری کے باعث کچھ بہتری ضرور آئی، لیکن مجموعی صورت حال اب بھی تشویش ناک ہے۔

    مصنف کے مطابق وہ ترقی کے خلاف نہیں۔ وہ ڈیموں، نہروں اور آبپاشی کے نظام کے معاشی فوائد کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کے علاقوں میں خوشحالی پیدا کی جائے اور نیچے کے علاقوں کو ماحولیاتی تباہی کے حوالے کر دیا جائے؟ کتاب اسی سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پانی کی منصوبہ بندی میں ڈیلٹا کی ماحولیاتی ضروریات کو بھی پانی کا جائز صارف سمجھا جانا چاہیے۔

    مصنف نے دریا کے بہاؤ کی بحالی کے لیے  تجویز کیا ہے کہ دریائے سندھ میں اتنا پانی لازماً سمندر تک پہنچنا چاہیے جو ڈیلٹا، مینگرووز، مچھلی، زراعت اور ساحلی ماحول کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ کتاب میں ڈیلٹا کی آبادی کو اوپر تعمیر کیے گئے ڈیموں اور بیراجوں سے متاثرہ آبادی تسلیم کرنے، انہیں معاوضہ دینے، دس سالہ ترقیاتی پیکیج دینے، صاف پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولتیں فراہم کرنے اور ساحلی علاقوں کے لیے خصوصی آفات سے نمٹنے کا نظام قائم کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

    نیچر کے حقوق

    کتاب کا ایک دلچسپ اور نسبتاً نیا پہلو نیچر کے حقوق کا تصور ہے۔ مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر انسان کو زندگی کا حق حاصل ہے تو کیا دریا اور ماحولیاتی نظام کو زندہ رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے؟ دنیا کے بعض ممالک میں دریاؤں کو قانونی حقوق دینے کی مثالیں بھی کتاب میں پیش کی گئی ہیں۔

    یہ بحث پاکستان میں پانی کی پالیسی کے لیے اہم ہے کیونکہ یہاں دریا کو اکثر صرف آبپاشی، بجلی یا شہری استعمال کے لیے پانی فراہم کرنے والے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    ایک تحقیقی کتاب کی حیثیت سے اس کتاب کی سب سے بڑی طاقت اس کا اعداد و شمار پر انحصار ہے۔ مصنف نے سرکاری اعداد و شمار، تحقیقی مطالعات، بین الاقوامی اداروں اور سابقہ رپورٹس کو یکجا کرکے ایک مربوط تصویر پیش کی ہے۔

    اس تحقیقی کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں پانی کی بحث زیادہ تر ڈیم، نہروں اور زرعی پیداوار کے گرد گھومتی ہے، جبکہ دریا کے آخری حصے اور سمندر تک پہنچنے والے پانی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ نصیر میمن یاد دلاتے ہیں کہ دریا کا سفر بیراج پر ختم نہیں ہوتا۔ اس کا آخری حق سمندر تک پہنچنا بھی ہے۔

    دریائے سندھ کے نظام میں ہر سال دستیاب میٹھے پانی کا مجموعی بہاؤ تقریباً 180 ارب مکعب میٹر (بی سی ایم) ہے، جو تقریباً 145 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) کے برابر بنتا ہے۔ کبھی انڈس ڈیلٹا میں 17 کریکس ہوتی تھیں، جن کے ذریعے دریا کا میٹھا پانی سمندر میں پہنچتا تھا۔ لیکن اب فعال ڈیلٹا اپنے اصل رقبے کے صرف تقریباً 10 فیصدتک محدود رہ گیا ہے۔اس وقت صرف کھوبر اور کھر کیرکس میں سیلابی موسم کے دوران دریائے سندھ کا میٹھا پانی پہنچتا ہے اور یہ پانی سمندر میں جا کر گرتا ہے۔

    یہ کتاب دراصل دنیا کے ایک اہم ڈیلٹا کی موت کی کہانی سے زیادہ ایک انسانی المیے کی دستاویز ہے۔ جب زمین سمندر زمین کو نگل جاتا ہے تو صرف زمین ہی نہیں ڈوبتی، پورے کے پورے خاندان سمندر بر ہوجاتے ہیں۔ جب مچھلی کم ہوتی ہے تو صرف ایک مچھلی نہیں مرتی، ایک ماہی گیر کی معیشت ختم ہوتی ہے۔

    جب پینے کا پانی کھارا ہوتا ہے تو صرف پانی کا ذائقہ نہیں بدلتا، انسانی صحت اور زندگی کا معیار بدل جاتا ہے۔ اور جب لوگ اپنا گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں تو صرف ایک آبادی منتقل نہیں ہوتی، صدیوں پرانی ثقافت، رشتے، روایات اور شناخت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق تقریباً چار لاکھ 86 ہزار ہیکٹر زمین سمندری پانی سے متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ 50 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔یہی اس کتاب کا سب سے طاقتور پیغام ہے کہ انڈس ڈیلٹا کو بچانا صرف ماحول کو بچانا نہیں، بلکہ انسان کو، اس کی روزی، اس کی ثقافت اور اس کے مستقبل کو بچانا ہے۔

    اگر پاکستان نے واقعی پائیدار ترقی کا راستہ اختیار کرنا ہے تو دریائے سندھ کے آخری سرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیلٹا کو پانی دینا کسی صوبے پر احسان نہیں، بلکہ دریا کے قدرتی نظام، ساحلی ماحول اور وہاں بسنے والے انسانوں کا بنیادی حق ہے۔ یہ کتاب اسی بھولی ہوئی حقیقت کو دوبارہ قومی بحث کے مرکز میں لانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

  • دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، ڈیمز، بیراجز کی تعمیر کے باعث انڈس ڈیلٹا سے ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی

    دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، ڈیمز، بیراجز کی تعمیر کے باعث انڈس ڈیلٹا سے ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی

    انڈس ڈیلٹا، جہاں دریائے سندھ اپنے طویل سفر کے بعد بحیرۂ عرب میں جا کر گرتا ہے، ملک کے اہم ترین قدرتی ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیلٹا صدیوں سے سندھ کی ساحلی آبادیوں کے لیے زندگی، روزگار اور خوراک کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔

    مینگرووز کے گھنے جنگلات، زرخیز زرعی زمینیں، مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش گاہیں اور بے شمار جنگلی حیات اس خطے کی شناخت رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران یہ علاقہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی بڑے پیمانے پر ہونے والی ماحولیاتی ہجرت کو ‘انڈس ڈیلٹا ایکو ایگزوڈس’  یا ‘ڈوبتے ہوئے ساحلی خطے سے نقل مکانی’  کہا جاتا ہے۔

    دریائے سندھ کا ڈیلٹا تاریخی طور پر دنیا کے بڑے اور زرخیز ڈیلٹاؤں میں شمار ہوتا تھا۔ ماضی میں ہر سال دریائے سندھ لاکھوں ٹن زرخیز مٹی یا تلچھٹ اور بڑی مقدار میں میٹھا پانی بحیرۂ عرب تک پہنچاتا تھا۔ یہی پانی نہ صرف ساحلی زمینوں کو زرخیز بناتا تھا بلکہ سمندر کے نمکین پانی کو بھی اندرونی علاقوں میں داخل ہونے سے روکتا تھا۔

    اس مسلسل بہاؤ نے ہزاروں برسوں تک انڈس ڈیلٹا کو ایک متوازن ماحولیاتی نظام کے طور پر برقرار رکھا، جہاں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

    لیکن بیسویں صدی کے دوسرے نصف، خصوصاً 1970 کی دہائی کے بعد، دریائے سندھ پر متعدد بڑے ڈیم، بیراج اور نہری نظام تعمیر کیے گئے تاکہ ملک کی زرعی اور توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، سکھر، گڈو اور کوٹری بیراج جیسے منصوبوں نے بالائی علاقوں میں پانی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں انڈس ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی کی مقدار مسلسل کم ہوتی گئی۔

    جب دریا کا قدرتی بہاؤ کم ہوا تو بحیرۂ عرب کا نمکین پانی آہستہ آہستہ اندرونی علاقوں میں داخل ہونے لگا، جسے سمندری کٹاؤ کہا جاتا ہے۔

    سمندر کے نمکین پانی کی اس پیش قدمی نے انڈس ڈیلٹا کی زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاکھوں ایکڑ قابلِ کاشت زمین آہستہ آہستہ بنجر ہو گئی کیونکہ نمکیات نے مٹی کی زرخیزی ختم کر دی۔ بہت سے علاقوں کے کنوؤں اور زیرزمین پانی کے ذخائر بھی نمکین ہو گئے، جس سے پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوئی۔

    جن کسانوں کی نسلیں انہی زمینوں پر کھیتی باڑی کرتی آئی تھیں، وہ اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ اب وہاں نہ فصلیں اگ سکتی تھیں اور نہ ہی مویشیوں کے لیے چارہ دستیاب تھا۔

    ماہی گیری، جو انڈس ڈیلٹا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، وہ بھی شدید متاثر ہوئی۔ مینگرووز کے جنگلات مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر آبی حیات کی قدرتی افزائش گاہیں ہوتے ہیں، لیکن میٹھے پانی کی کمی اور سمندری آلودگی کے باعث ان جنگلات کو نقصان پہنچا۔

    اگرچہ حالیہ برسوں میں سندھ حکومت اور مختلف ماحولیاتی اداروں نے مینگرووز کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ہے، تاہم کئی علاقوں میں قدرتی نظام اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مچھلیوں کی کم ہوتی تعداد نے ہزاروں ماہی گیروں کی آمدنی کو متاثر کیا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوتے گئے۔

    موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کے باعث سمندر کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بحیرۂ عرب میں آنے والے شدید سمندری طوفانوں اور غیر معمولی موسمی واقعات کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔ ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے ہر سال ساحل کے کئی حصے سمندر میں شامل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات جزوی یا مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگوں کو اپنی بستیاں بار بار منتقل کرنا پڑی ہیں کیونکہ سمندر مسلسل ان کی زمین نگل رہا ہے۔

    ان تمام ماحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا انسانی اثر بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی ہے، جسے ماہرین ایکو ایگزوڈس کہتے ہیں۔ جب لوگوں کے پاس نہ قابلِ کاشت زمین باقی رہی، نہ روزگار، نہ صاف پانی اور نہ محفوظ رہائش، تو انہوں نے اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول اور دیگر شہری علاقوں کا رخ کیا۔ ان میں سے بہت سے افراد شہروں میں غیر رسمی بستیوں میں آباد ہوئے، جہاں انہیں روزگار، صحت، تعلیم اور رہائش جیسے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ایک ماحولیاتی بحران آہستہ آہستہ سماجی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو گیا۔

    ماہی گیروں کے حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 1970 سے 2025 کے درمیاں انڈس ڈیلٹا سے ایک الکھ سے زائد خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    انڈس ڈیلٹا کی تباہی صرف مقامی آبادی تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت اور غذائی تحفظ سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ ساحلی ماہی گیری میں کمی سے سمندری خوراک کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جبکہ زرعی زمینوں کی تباہی نے مقامی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ مینگرووز کے جنگلات، جو کاربن جذب کرنے اور ساحلی علاقوں کو طوفانوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کمزوری مستقبل میں قدرتی آفات کے خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر انڈس ڈیلٹا تک مناسب مقدار میں ماحولیاتی ضرورت کے مطابق میٹھا پانی نہ پہنچایا گیا، ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات کا تحفظ نہ کیا گیا، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی، تو آنے والے برسوں میں مزید ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پانی کے منصفانہ انتظام، ساحلی تحفظ، ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں، مقامی آبادی کی بحالی اور موسمیاتی موافقت کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

    انڈس ڈیلٹا ایکو ایگزوڈس دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی نظام کا توازن بگاڑ دیتی ہیں تو اس کے اثرات صرف زمین یا جنگلات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری انسانی آبادی کو متاثر کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا کا تحفظ صرف ایک ساحلی علاقے کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے قدرتی ورثے، حیاتیاتی تنوع، غذائی سلامتی اور لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔