Tag: انڈس ریور کینیون

  • انڈس ریور کینیون کیوں اب تک محفوظ سمندری علاقہ نہیں بن سکا؟

    انڈس ریور کینیون کیوں اب تک محفوظ سمندری علاقہ نہیں بن سکا؟

    پاکستان سمندری ماحول کے تحفظ سے متعلق عالمی وعدے پورے کرنے میں مسلسل پیچھے رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے کنونشن آن بایولوجیکل ڈائیورسٹی (CBD) کے تحت پاکستان نہ صرف 2020 کے اہداف حاصل نہ کر سکا بلکہ ماہرین کے مطابق 2030 کے نئے اہداف تک پہنچنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

    سابقہ آئچی بایو ڈائیورسٹی اہداف کے مطابق پاکستان کو 2020 تک اپنے کم از کم 10 فیصد سمندری علاقے کو محفوظ سمندری علاقہ (Marine Protected Area – MPA) قرار دینا تھا، مگر یہ ہدف پورا نہ ہو سکا۔ اب نئے عالمی اہداف کے تحت 2030 تک ساحلی اور سمندری علاقوں کا مزید بڑا حصہ تحفظ کے دائرے میں لانا ہوگا۔

    پاکستان نے اس سمت میں پہلا قدم 15 جون 2017 کو اٹھایا، جب بلوچستان کے ساحل پر واقع استولا جزیرہ کو ملک کا پہلا محفوظ سمندری علاقہ قرار دیا گیا۔ تاہم صرف ایک علاقے کے تحفظ سے عالمی ہدف حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔

    ماہرینِ ماحولیات نے کئی سال پہلے ایسے کئی اہم مقامات کی نشاندہی کر دی تھی جو محفوظ قرار دیے جاتے تو پاکستان اپنا 10 فیصد کا ہدف باآسانی حاصل کر سکتا تھا۔ ان میں چرنا جزیرہ، بلوچستان کا دم کا ساحلی علاقہ اور سب سے اہم سندھ کے ساحل کے اندر انڈس ریور کینیون شامل تھے۔

    حالیہ برسوں میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے 4 ستمبر 2024 کو چرنا جزیرہ کو پاکستان کا دوسرا محفوظ سمندری علاقہ قرار دیا، جبکہ 29 جولائی 2025 کو میانی ہور کو ملک کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دیا گیا۔

    لیکن ماہرین کے مطابق اصل فرق انڈس ریور کینیون پیدا کر سکتا تھا۔

    انڈس ریور کینیون کیا ہے؟

    انڈس ریور کینیون رقبے کے لحاظ سے 27,607 مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک غیر معمولی سمندری علاقہ ہے۔ کراچی سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع یہ گہری سمندری وادی تقریباً 1,800 میٹر تک نیچے جاتی ہے اور حیاتیاتی تنوع سے بھرپور سمجھی جاتی ہے۔

    یہ علاقہ صرف پانی کا ایک حصہ نہیں بلکہ سمندری حیات کی پناہ گاہ ہے۔ یہاں وہیل، ڈولفن، شارک، نایاب مچھلیاں اور دیگر سمندری جاندار پائے جاتے ہیں۔ ماہرِ بحری وسائل محمد معظم خان کے مطابق یہ بڑی شارک مچھلیوں اور نایاب سمندری حیات کے لیے انتہائی اہم مسکن ہے۔

    ماہرین کے مطابق انڈس ریور کینیون میں تقریباً 19 اقسام کی وہیل اور ڈولفن دیکھی جا چکی ہیں، جبکہ بعض نایاب اقسام صرف پاکستان کے اسی سمندری حصے میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ علاقہ وہیل مچھلیوں کی افزائش اور خوراک کے لیے بھی نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے کو مستقل طور پر محفوظ بنایا جائے تو شارک، کچھوے، وہیل، مرجان، سمندری پرندوں اور دیگر خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ میں اہم پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

    سینیئر صحافی اور ماہرِ ماحولیات عافیہ سلام کے مطابق اگر انڈس ریور کینیون کو 2020 سے پہلے محفوظ سمندری علاقہ قرار دیا جاتا تو پاکستان نہ صرف اپنا محفوظ سمندری علاقوں کا 10 فیصد ہدف پورا کر لیتا بلکہ اس سے آگے بھی نکل جاتا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ 6 جنوری 2018 کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے خصوصی معاشی سمندری علاقے میں واقع انڈس ریور کینیون کو باضابطہ طور پر میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے کر نوٹیفکیشن جاری بھی کر دیا تھا۔

    تاہم چند ہی دن بعد اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔

    عافیہ سلام کے مطابق اگر اس نوٹیفکیشن کو گزٹ میں شامل کر لیا جاتا تو پاکستان ایک ہی فیصلے سے اپنے مجموعی سمندری رقبے کے 11.2 فیصد حصے کو تحفظ دے دیتا اور عالمی ہدف بھی حاصل ہو جاتا۔

    ان کے مطابق کیکڑا ڈرلنگ کا علاقہ انڈس ریور کینیون سے کافی دور واقع ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ میں الاسکا ایک حساس ماحولیاتی خطہ ہے۔ یہ ایک محفوظ علاقہ بھی ہے، لیکن اس کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ الاسکا کی آئل پائپ لائن اس علاقے سے گزرتی ہے۔