Tag: انٹر کراپنگ

  • ایک ہی کھیت میں ایک سے زائد فصلوں کی کاشت: پنجاب میں انٹر کراپنگ کاشت کا بڑھتا رجحان

    ایک ہی کھیت میں ایک سے زائد فصلوں کی کاشت: پنجاب میں انٹر کراپنگ کاشت کا بڑھتا رجحان

    پنجاب کے کھیتوں میں کسان اب ایک ہی زمین پر ایک سے زیادہ فصلیں اگانے کے طریقے کو آزما رہے ہیں۔  انٹرکروپنگ کے اس طریقے میں ایک ہی کھیت میں دو یا اس سے زیادہ فصلیں ایک ساتھ یا مناسب وقفے کے ساتھ کاشت کی جاتی ہیں، تاکہ زمین، پانی اور دستیاب وسائل کو زیادہ بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

    اس طریقہ کا بنیادی مقصد صرف ایک کھیت سے زیادہ فصلیں حاصل کرنا نہیں بلکہ مختلف فصلوں کو اس انداز میں اگانا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے کم سے کم رکاوٹ پیدا کریں۔ بعض فصلیں زیادہ اونچائی پر بڑھتی ہیں اور زیادہ دھوپ حاصل کرتی ہیں، جبکہ دوسری فصلیں زمین کے قریب رہتے ہوئے دستیاب جگہ استعمال کرتی ہیں۔ اس طرح ایک ہی رقبے پر موجود مختلف فصلیں زمین اور دیگر وسائل سے مختلف انداز میں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

    پنجاب میں مکئی سمیت کئی فصلوں کے ساتھ  کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ بعض کسان مکئی کے ساتھ دوسری فصلیں اگا رہے ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں سبزیوں اور دیگر فصلوں کو بھی ایک ہی کھیت میں شامل کیا جاتا ہے۔

    پنجاب کے ضلع قصور کی تصحیل چونیاں میں ایگریکلچر ایکسٹینشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ندیم کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کی ہاؤسنگ کے لیے زرعی زمیں استمال کرنے کے باعث زراعت کے لیے زمیں ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم انٹرکراپنگ کاشت کو اپنائیں۔ 

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ندیم نے بتایا: ‘ایک ہی کھیت میں ایک ساتھ ایک سے زائد فصلیں لگانے سے لاگت کم اور پیداوار زیائد ملتی ہے، اس لیے انٹر کراپنگ پنجاب میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔’

    کسانوں کے لیے اس طریقے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایک ہی رقبے سے مختلف فصلوں کی پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر ایک فصل کی قیمت کم ہو جائے یا اس کی پیداوار توقع کے مطابق نہ رہے تو دوسری فصل سے حاصل ہونے والی آمدن کسی حد تک سہارا دے سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں کسان کو زیادہ منافع حاصل ہوگا، کیونکہ نتیجہ فصلوں کے انتخاب، پانی، کھاد، زمین کی زرخیزی، موسم، بیماریوں اور مارکیٹ کی قیمتوں سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

     میں فصلوں کا درست انتخاب انتہائی اہم ہے۔ اگر دو فصلیں پانی، غذائی اجزا اور روشنی کے لیے ایک دوسرے سے زیادہ مقابلہ کریں تو ایک فصل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس ایسی فصلوں کا انتخاب کیا جائے جو زمین اور وسائل کو مختلف انداز میں استعمال کرتی ہوں تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

    اسی لیے زرعی ماہرین کے نزدیک صرف ایک کھیت میں زیادہ فصلیں لگانا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان فصلوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کیسا ہے، ان کی بوائی اور کٹائی کا وقت کیا ہے اور انہیں کتنے پانی اور غذائی اجزا کی ضرورت ہے۔

    پنجاب میں مکئی ایک اہم فصل ہے جو خوراک، جانوروں کے چارے اور مختلف صنعتی استعمال میں آتی ہے۔ اس کے باعث مکئی کے ساتھ دوسری فصلوں کی کاشت کا طریقہ کسانوں اور زرعی ماہرین کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ ایک ہی کھیت میں مکئی اور دوسری فصل کے امتزاج سے کسان زمین کے استعمال کا ایک مختلف طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔

    اس طریقہ میں کسان کا عملی تجربہ بھی اہم ہے۔ کھیت میں فصلوں کے درمیان مناسب فاصلہ، بوائی کا وقت، آبپاشی اور کٹائی کے مراحل درست نہ ہوں تو  کا فائدہ کم ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کسانوں کے مقامی تجربات کے ساتھ زرعی ماہرین کی رہنمائی بھی ضروری ہے۔

    زرعی ماہرین کے مطابق  کا ایک اور اہم پہلو وسائل کا بہتر استعمال ہے۔ ایک ہی رقبے پر مختلف فصلیں اگانے سے زمین کے مختلف حصوں اور دستیاب روشنی کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ بعض فصلیں زمین میں موجود غذائی اجزا کو مختلف مقدار میں استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مناسب امتزاج کی صورت میں وسائل کے استعمال میں بہتری آ سکتی ہے۔

    تاہم ہر علاقے اور ہر زمین کے لیے ایک ہی طریقہ کار مؤثر نہیں ہو سکتا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، موسم اور فصلوں کے انتخاب میں فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی کسان کے لیے  اختیار کرنے سے پہلے مقامی حالات کے مطابق فصلوں کا انتخاب اور زرعی ماہرین سے مشورہ اہم ہے۔

    موسمی تبدیلی، پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث کسانوں کے لیے یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ محدود وسائل سے زیادہ بہتر پیداوار کیسے حاصل کی جائے۔  اسی سوال کے ممکنہ طریقوں میں سے ایک ہے۔

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں کسانوں کے تجربات سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ جدید زرعی طریقے صرف تحقیقی مراکز تک محدود نہیں رہے بلکہ اب انہیں عملی کھیتوں میں بھی آزمایا جا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی طریقے کو وسیع پیمانے پر اپنانے سے پہلے اس کی پیداوار، لاگت اور کسان کی آمدن پر اثرات کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔

     کو یوں ایک ایسا زرعی طریقہ کہا جا سکتا ہے جس میں ایک ہی زمین سے مختلف فصلیں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار صرف فصلوں کی تعداد پر نہیں بلکہ ان کے درست انتخاب اور سائنسی طریقے سے کاشت پر ہے۔

    پنجاب کے کھیتوں میں جاری یہ تجربات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسان اب زمین کے بہتر استعمال، پیداوار میں تنوع اور آمدن کے نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید زرعی تکنیکوں کو بھی آزما رہے ہیں۔