Tag: انصار رونجھا

  • لسبیلہ: بارہ سالہ طالب علم انصار رونجھا، مصنوعی ذہانت سے شاعری اور ویڈیوز کیسے تخلیق کرتے ہیں؟

    لسبیلہ: بارہ سالہ طالب علم انصار رونجھا، مصنوعی ذہانت سے شاعری اور ویڈیوز کیسے تخلیق کرتے ہیں؟

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے احمد آباد بیلہ گاؤں کے بارہ سالہ انصار رونجھا چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں۔ کم عمری کے باوجود انہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں عملی مہارت حاصل کر لی ہے۔

    انصار اپنا یوٹیوب چینل خود چلاتے ہیں۔ وہ مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز کے ذریعے تخلیقی مواد تیار کرتے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی سے اردو شاعری تخلیق کرتے ہیں، پھر سُنو اے آئی کے ذریعے آواز بناتے ہیں، اور گوگل جیمنائی سے موسیقی اور مناظر کے مطابق ویڈیوز تیار کر کے یوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انصار رونجھا نے کہا: ‘مصنوعی ذہانت نے مجھے نئے خیالات پیدا کرنے اور انہیں دنیا تک پہنچانے کا موقع دیا۔ میں اپنی شاعری اور ویڈیوز خود تخلیق کرتا ہوں تاکہ سب دیکھ سکیں۔’

    انصار رونجھا نے یہ مہارت اپنے چچا سے سیکھی، جنہوں نے بلوچستان کے ایک چھوٹے گاؤں میں وانگ لیب آف انوویشن قائم کی۔ یہ لیب مقامی نوجوانوں اور بچوں کو مفت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرتی ہے۔

    اس پروگرام کے بانی قیصر رونجھا کے مطابق: ‘انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت لوگوں کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ہم نے مقامی زبانوں میں تربیت دے کر بچوں اور نوجوانوں کو جدید مواقع سے جوڑا ہے تاکہ ہر بچہ اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔’

    وانگ لیب نے گوگل، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اے وی پی این جیسے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت کی ہے۔ اس تربیت سے انصار جیسے بچے نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتیں نکھار رہے ہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں اپنی شناخت بھی بنا رہے ہیں۔

    انصار رونجھا کی کہانی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کم وسائل کے باوجود مہارت اور محنت سے عالمی سطح پر پہچان بنائی جا سکتی ہے۔