Tag: انسانی بال

  • کراچی میں انسانی بالوں کی خریدو فروخت: 10 ہزار روپے فی کلو انسانی بال کیوں خریدے جاتے ہیں؟

    کراچی میں انسانی بالوں کی خریدو فروخت: 10 ہزار روپے فی کلو انسانی بال کیوں خریدے جاتے ہیں؟

    کراچی کی کورنگی کے ایک محلے میں چند نوجوان میگا فون پر رکارڈنگ کی گئی آڈیو چلا رہے ہیں۔ ‘انسانی بال 10 ہزار روپے کلو، انسانی بال 10 ہزار روپے کلو۔’

    کراچی کے صنعتی اور نچلے متوسط علاقوں، خاص طور پر کورنگی، لانڈھی اور ملیر میں ایک خاموش مگر منافع بخش کاروبار برسوں سے جاری ہے، جہاں انسانی بال خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں یہ سوال زیادہ شدت سے سامنے آیا ہے کہ آخر یہ بال 10 ہزار روپے فی کلو تک کیوں خریدے جا رہے ہیں؟

    یہ کاروبار دراصل ایک عالمی صنعت سے جڑا ہوا ہے۔ انسانی بال وِگ بنانے، ہیئر ایکسٹینشنز، اور بیوٹی انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ یورپ، چین، بھارت اور مشرق وسطیٰ میں قدرتی بالوں کی مانگ بہت زیادہ ہے، کیونکہ مصنوعی بالوں کے مقابلے میں انسانی بال زیادہ قدرتی اور دیرپا سمجھے جاتے ہیں۔

    کراچی میں خریدار عموماً گھروں، محلوں یا سیلونز سے بال اکٹھے کرتے ہیں۔ خواتین کے لمبے اور بغیر کیمیکل والے بال سب سے زیادہ قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ ایک ہی لمبائی کے، صاف اور کم کٹے ہوئے بالوں کی قیمت زیادہ ملتی ہے، جبکہ چھوٹے یا خراب بال نسبتاً کم قیمت پر خریدے جاتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق قیمت کا انحصار تین بڑی چیزوں پر ہوتا ہے: لمبائی، معیار اور مقدار۔ جتنا لمبا اور قدرتی بال ہوگا، اتنی ہی اس کی قیمت زیادہ ہوگی۔ بعض صورتوں میں اعلیٰ معیار کے بال عالمی مارکیٹ میں اس سے کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔

    کورنگی میں انسانی بال خریدنے والے نوجوان نقیب اللہ بلوچ نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ وہ نہ صرف کورنگی بلکہ دیگر علاقوں میں بھی بال خریدتے ہیں۔

    نقیب اللہ بلوچ کے مطابق: ‘درجنوں نوجوان کراچی کے مختلف علاقوں میں بال خریدتے ہیں۔ ہم 10 ہزار روپے خرید ہیں، جو ہم 20 فیصد منافعہ رکھ کر بیچتے ہیں۔’

    نقیب اللہ بلوچ کے مطابق کورنگی اور دیگر علاقوں میں 10 ہزار روپے فی کلو کی قیمت دراصل ابتدائی خریداری کی سطح ہے۔ یہ بال بعد میں چھانٹ کر، صاف کر کے اور پروسیسنگ کے بعد برآمد کیے جاتے ہیں، جہاں ان کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک کلو بال سے کئی وِگز یا ایکسٹینشنز تیار کی جا سکتی ہیں، جو بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔

    ‘اس کاروبار میں غریب گھرانوں کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں، جو اضافی آمدن کے لیے اپنے بال فروخت کرتی ہیں۔ کچھ لوگ گھروں سے جھڑے ہوئے بال بھی جمع کرتے ہیں، جو بعد میں اکٹھے کر کے بیچے جاتے ہیں۔’

    یہ ایک غیر رسمی مگر منظم سپلائی چین ہے، جس میں مقامی خریدار، درمیانی تاجر اور بین الاقوامی خریدار سب شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ کاروبار عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ملٹی ملین ڈالر انڈسٹری کا حصہ ہے۔

    مختصراً، کراچی میں انسانی بالوں کی خریداری کی وجہ مقامی نہیں بلکہ عالمی مانگ ہے، اور 10 ہزار روپے فی کلو دراصل اس طویل تجارتی سلسلے کی پہلی کڑی ہے، جو آخرکار عالمی بیوٹی مارکیٹ تک پہنچتی ہے۔