Tag: انتظامی یونٹس

  • نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے متعلق سندھ اسمبلی کی اکثریتی رائے بعد قرارداد منظور ہوگی: نثار کھوڑو

    نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے متعلق سندھ اسمبلی کی اکثریتی رائے بعد قرارداد منظور ہوگی: نثار کھوڑو

    پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے سے متعلق تحریک پر سندھ اسمبلی کی اکثریتی رائے اور فیصلے کے بعد قرارداد منظور کی جائے گی۔

    اتوار کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق تحریک پر بحث کے دوران ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ کون کون سندھ کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، اور وہ سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ سوال اور تنقید کی جارہی ہے کہ تحریک پر بحث کرا کے نئے صوبوں کے حامیوں کو بات کرنے کا موقع کیوں فراہم کیا جارہا ہے۔ اگر قرارداد بھی پیش کردی جاتی تو نئے صوبوں کے حامی ایوان میں اپنا مؤقف بیان کرسکتے تھے۔

    گزشتہ روز سے نثار کھوڑو کو سوشل میڈیا شدید تنقید کا سامنا ہے۔ دو روز قبل نثار کھوڑو کی جانب سے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث کے لیے تحریکِ التوا جمع کرانے کو بعض حلقے پیپلز پارٹی کے دیرینہ مؤقف سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب پیپلز پارٹی اور خود نثار کھوڑو ماضی میں سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے مطالبے کی مخالفت کرتے رہے ہیں تو پھر اس حساس معاملے کو اسمبلی میں بحث کے لیے لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ سندھ کے قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقے اسے پیپلز پارٹی کا ممکنہ ‘یوٹرن’ قرار دے کر نثار کھوڑو پر تنقید کر رہے ہیں۔

    نثار کھوڑو نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک پر بحث کے دوران کشمور سے کراچی تک پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے آئینی فورم پر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات اور تجاویز کو بھرپور مؤقف کے ساتھ مسترد کریں گے، جبکہ جو لوگ نئے صوبوں کے حامی ہوں گے وہ بھی ریکارڈ پر عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے بھی پانچ مرتبہ نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے، اس کے باوجود دوبارہ نئے صوبوں کے مطالبات اور باتیں سامنے آتی ہیں تو عوام پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایوان میں قرارداد پیش کی جائے۔ اس لیے ایوان میں بحث کے بعد اکثریتی رائے اور فیصلے کی روشنی میں قرارداد منظور کی جائے گی۔

    نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ اگر کل یہ مطالبہ زور پکڑ لے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے بارے میں ریفرنڈم کرایا جائے تو پھر کیا فیصلہ جلسوں میں کیا جائے گا؟

    انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے خلاف اکثریتی رائے سے فیصلہ اسمبلی کو کرنا ہے اور یہی آئینی طریقہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلے دن سے واضح مؤقف ہے کہ سندھ میں نیا صوبہ اور انتظامی یونٹ قبول نہیں، اور نیا صوبہ سندھ کے عوام کا مطالبہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات کرنے والے ایوان کے اندر اور باہر، پریس کانفرنسوں اور جلسوں میں بھی اپنے مطالبات کررہے ہیں، تو کیا کسی نے انہیں ایسے مطالبات کرنے یا بات کرنے سے روکا ہے؟

    نثار احمد کھوڑو نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام سندھ دھرتی کی تقسیم کسی بھی صورت میں نہیں ہونے دیں گے، اور ایوان میں بحث کے بعد اکثریتی رائے سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جس دن سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی باتیں شروع ہوئی ہیں، اس دن سے پریس کانفرنسوں، جلسوں، سیمینارز اور ایوان سمیت ہر فورم پر نئے صوبوں کی باتوں کو مسترد کرکے سندھ کی وحدت کا تحفظ کیا ہے اور کرتا رہوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ رکھے جائیں، لیکن پانی اور سندھ کی وحدت کے معاملے پر ہر فورم پر فرنٹ لائن پر سندھ کا مقدمہ لڑتا ہوں اور لڑتا رہوں گا، اس لیے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا قطعی مناسب نہیں۔

    نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ کی وحدت کا آئینی فورمز پر دفاع اور تحفظ کرنے والوں کے لیے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرکے سندھ کی متحدہ طاقت کو کمزور نہ کیا جائے۔