Tag: امر روپلو

  • 22 اگست 1859: جب انگریزوں کے خلاف بغاوت کے الزام میں امر روپلو کولہی کو پھانسی دی گئی

    22 اگست 1859: جب انگریزوں کے خلاف بغاوت کے الزام میں امر روپلو کولہی کو پھانسی دی گئی

    انگریزوں کے خلاف بغاوت اور جنگ کرنے والے سندھ کے قومی ہیرو امر روپلو کولہی نے ننگرپارکر سے 15 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف واقع گاؤں کونبھاری میں تقریباً 1818 میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام شامتو اور والدہ کا نام کیسر بائی تھا۔ وہ کولہیوں کی گوئل ذات سے تعلق رکھتے تھے۔

    انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کرنے کے بعد تھر اور پارکر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں کو انتظامی طور پر حیدرآباد کے ساتھ ملا دیا۔ انہوں نے رعایا اور مقامی حکمرانوں میں سے کچھ کو دباؤ کے ذریعے اور کچھ کو لالچ دے کر اپنے زیر اثر کرنا شروع کیا، لیکن پارکر کے سوڈھوں اور کولہیوں نے انگریزی حکومت کو قبول نہیں کیا اور کسی بھی قسم کا ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔

    سوڈھوں نے اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت برقرار رکھی۔ انگریزوں نے انہیں اپنا حکم ماننے اور ان پر انتظامی احکامات نافذ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    انگریز ریزیڈنٹ جنرل ٹروٹ نے مختلف ٹیکسوں کی وصولی کے لیے دیو مل کو مختیارکار مقرر کرکے ننگرپارکر بھیجا، لیکن سوڈھے، کولہی اور کھوسہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔

    پارکر کا بہادر شخص روپلو کولہی بھی اپنے ساتھیوں سمیت ویراواہ کی رانی لادھو سنگھ اور اس کے بیٹے ادھے سنگھ کے ساتھ مل کر اپنی دھرتی کے دفاع کے لیے کھڑا ہوگیا۔

    1843 سے 1859 تک انگریز سوڈھوں اور ان کے ساتھی کولہیوں کو زیر نہیں کر سکے۔ 15 اپریل 1859 کو روپلو کولہی کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف بڑی بغاوت شروع کی گئی۔

    کولہیوں نے انگریزی کیمپ پر حملے کیے، خزانے لوٹے اور سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی۔ ان حملوں میں انگریز جنرل جارج بوتھ ٹروٹ کی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

    ادھے سنگھ کے اچانک حملے کی وجہ سے ٹروٹ وہاں سے فرار ہوگیا اور پورن واہ گاؤں میں لادھی میگھواڑ کے گھر میں جانوروں کے چھپر کے نیچے جا کر چھپ گیا۔ وہاں سے لادھی میگھواڑ اور بھوڈیسر کے ٹھاکروں نے اسے رات کے وقت اونٹ پر بٹھا کر حیدرآباد روانہ کر دیا۔ مزید دیکھیے: ٹروٹ، جارج بوتھ، جلد دوم۔

    اس طرح سوڈھوں اور کولہیوں نے ادھے سنگھ اور روپلو کولہی کی قیادت میں ننگرپارکر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ سوڈھے اور کولہی اس کامیابی پر بے فکر ہو کر بیٹھ گئے۔

    بھٹوں اور چارنوں نے اس واقعے پر دوہے اور شاعری بنائی، مثلاً:

    ‘ادھے سنگھ اچانک آیا، بھورو کو بھگا دیا،

    کر بھوڈی را کانپ اٹھے، موچی نے چھپا دیا۔’

    راڻوں اور کولہیوں کی فتح اور جشن دیکھ کر ڈیسا کی طرف بھاگ جانے والی انگریز فوج دوبارہ جمع ہوگئی۔ اس نے ننگرپارکر شہر سے جنوب کی طرف راڻاسر تالاب کے قریب خیمے لگا دیے اور ننگرپارکر پر حملے کی تیاری شروع کردی۔

    حیدرآباد سے کرنل ٹروٹ نے کراچی کے کرنل ایونز سے مل کر احمدآباد اور ڈیسا سے آنے والی تازہ فوجی کمک کے ساتھ ننگرپارکر پر حملہ کردیا۔

    اس شدید حملے میں سیکڑوں کولہی اور سوڈھے وطن پر قربان ہوگئے۔ ویراواہ کا راڻو لادھو سنگھ گرفتار ہوگیا۔ روپلو اور اس کے ساتھی مڈو اور ڈجو کارونجھر میں مورچے بنا کر بیٹھ گئے۔ موقع ملتے ہی وہ انگریزوں کے دفاتر پر حملے کرتے اور پھر کارونجھر میں چھپ جاتے تھے۔

    راڻوں نے جنرل ٹروٹ کو بہت تلاش کیا، لیکن وہ ہاتھ نہیں آسکا۔ انہوں نے کچھ انگریز سپاہیوں کو مار ڈالا۔ اس پر غصے میں آکر کرنل ایونز کی فوج نے ننگرپارکر کے شمال کی طرف دینسی گاؤں کے قریب راڻوں اور کولہیوں کے خلاف بڑا حملہ کیا، لیکن وہ ناکام رہے۔

    راڻے اور کولہی کارونجھر میں مورچہ بند تھے۔ جب انگریز اپنے قدم پوری طرح نہیں جما سکے تو تنگ آکر انہوں نے کچھ غداروں کو بڑی رقمیں دے کر اپنے ساتھ ملا لیا، جنہوں نے انگریزوں کے لیے جاسوسی کی۔ ان میں ساڑ دھری مندر کا پجاری ہنس پوری باوو، کاسبو کا رہائشی سیٹھ مہاوجی لوہانہ اور دوسرے لوگ شامل تھے۔

    ان کی دی ہوئی اطلاع پر ساڑ دھری جانے والی راہ پر قائم کنویں سے پانی بھرتے ہوئے روپلو کولہی کو گرفتار کرلیا گیا۔

    قید کے دوران روپلو پر سخت تشدد کیا گیا۔ ہاتھوں کی انگلیوں پر روئی کی بتیاں بنا کر انہیں آگ لگائی گئی۔ طرح طرح کے عذاب دیے گئے، لیکن روپلو نے نہ انگریزوں کے سامنے سر جھکایا اور نہ ہی اپنے چھپے ہوئے ساتھیوں کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔

    اس دوران روپلو کی بیوی میناوتی کو بلایا گیا تاکہ وہ روپلو کی حالت دیکھ کر اسے بغاوت سے دستبردار ہونے پر مجبور کرے۔ لیکن میناوتی نے روپلو سے کہا:

    ‘روپلا! اگر تم نے دھرتی اور قوم سے غداری کی تو لوگ مجھے طعنے دیں گے۔ تم ناانصافی کے خلاف وطن کے لیے اپنی جان دے کر سرخرو ہوجاؤ۔ اس کے بعد میں ایک بہادر کی بیوہ کہلا کر فخر کے ساتھ زندگی گزار سکوں گی۔’

    دوسری طرف روپلو کے ساتھیوں کی کارونجھر میں کارروائیاں جاری رہیں۔ پارکر کے اس عظیم بہادر روپلو کولہی کو 22 اگست 1859 کی رات 8 بجے گوڑدھرو ندی کے کنارے کھڑے ببول کے درخت سے لٹکا کر، بغیر کسی مقدمے کے سرعام پھانسی دے دی گئی۔

    روپلو کی شہادت کے بعد بھی اس کے ساتھی لڑتے رہے۔ غداروں کو انگریزوں نے جاگیریں دیں۔ راڻو کرن سنگھ کو عمرکوٹ کے قلعے میں پھانسی دے دی گئی۔

    روپلو اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کروانے والے انگریزوں کے جاسوس ہنس پوری باوو کو کارونجھر کے قریب، مہاوجی لوہانے کو کاسبو کے قریب اور ٹروٹ کو پناہ دینے والے لادھی میگھواڑ کو پورن واہ کے قریب جاگیریں انعام کے طور پر دی گئیں۔

    امر روپلو کولہی کی اولاد میں سے کچھ خاندان آج بھی کونبھاری میں رہتے ہیں، جہاں روپلو کے گھر کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

    روپلو کولہی کو سندھی شاعروں نے بھی خوب خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مشہور ڈرامہ نویس علی بابا نے ان کے کردار پر ‘کارونجھر کا قیدی’ کے نام سے ڈراما بھی لکھا۔ اس کے علاوہ روپلو پر سیکڑوں مضامین اور درجنوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔