Tag: امریکی سفیر

  • امریکی سفیر نے اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے سے متعلق بیان کیوں دیا؟

    امریکی سفیر نے اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے سے متعلق بیان کیوں دیا؟

    اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے اس بیان پر مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقے پر کنٹرول کرے تو یہ ‘ٹھیک ہوگا’۔

    کئی اسلامی ممالک نے اس بیان کو خطرناک، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    برطانوی اخبار ‘دی گارجین’ کی ایک رپورٹ کے مطابق مائیک ہکابی، جو ایک عیسائی پادری اور امریکی ریاست آرکنساس کے سابق گورنر بھی رہ چکے ہیں، طویل عرصے سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے کھلے حامی رہے ہیں۔

    جمعے کو امریکی قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہکابی نے بائبل کی ان آیات کا حوالہ دیا جنہیں بعض یہودی اور انجیلی عیسائی اس بات کی علامت سمجھتے ہیں کہ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا علاقہ یہودیوں کا خدائی حق ہے۔

    انٹرویو میں ہکابی نے کہا:’اگر وہ پورا علاقہ لے لیتے تو بھی ٹھیک ہوتا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آج ہم اس بارے میں بات نہیں کر رہے’۔

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اس زمین کی بات کر رہے ہیں جہاں اسرائیل اس وقت موجود ہے اور امن چاہتا ہے’۔

    وہ اردن، شام، عراق یا کسی اور ملک پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے۔ وہ صرف اپنے عوام کا تحفظ چاہتے ہیں۔

    بعد ازاں ہکابی نے کہا کہ ان کا بیان “کسی حد تک مبالغہ آمیز” تھا، تاہم ان کے اس بیان کہ یہودیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقے پر خدائی حق حاصل ہے، نے مسلم ممالک میں شدید ردعمل پیدا کیا۔

    دی گارجین کے مطابق اردن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ

    ‘یہ خطرناک اور اشتعال انگیز بیانات ہیں جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔’

    اس کے جواب میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہکابی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

    سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا: ‘امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بیان کو ایک ادھورے اور ترمیم شدہ حصے کی بنیاد پر پیش کیا گیا’۔

    مکمل انٹرویو میں سفیر ہکابی واضح طور پر کہتے ہیں کہ اسرائیل اپنی موجودہ سرحدوں کو تبدیل کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کے برعکس کوئی بھی تشریح غلط ہوگی۔

    اسی انٹرویو میں ہکابی نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد حصے، جسے ایریا سی کہا جاتا ہے اور جو اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں ہے، کو اسرائیل کا ‘لازمی حصہ’ قرار دیا۔

    جو بظاہر واشنگٹن کی اس سرکاری پالیسی سے متصادم ہے جس میں مقبوضہ علاقوں کے الحاق کی مخالفت کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا ‘ایریا سی اسرائیل ہے’۔

    ہکابی نے قدیم جغرافیائی اصطلاحات “یہودیہ اور سامریہ” کی بھی وسیع تشریح پیش کی، جو اسرائیل مغربی کنارے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا آپ بنیادی طور پر دریائے اردن سے لے کر بحیرہ روم اور لبنان کی سرحد تک کے علاقے کی بات کر رہے ہیں۔

    اسرائیل نے بہت سی زمین واپس کی ہے۔ انہوں نے سینائی مصر کو دے دیا، انہوں نے غزہ چھوڑ دیا، اور بہت سی قربانیاں دی ہیں۔

    برطانوی اخبار کے مطابق یہ انٹرویو امریکی قدامت پسند حلقوں کے اندر اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    ٹکر کارلسن نے ہکابی سے بار بار سوال کیا کہ آیا یہ مبینہ بائبلی حق نسلی بنیاد پر ہے یا مذہبی بنیاد پر؟۔

    اس پر ہکابی نے اشارہ دیا کہ یہ حق دونوں بنیادوں پر ہو سکتا ہے، یعنی وہ افراد جو نسلی طور پر یہودی ہیں یا وہ جو بعد میں یہودیت قبول کریں، دونوں اس حق کے حامل ہو سکتے ہیں۔

    مبصرین کے مطابق، اس بیان نے پہلے سے کشیدہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں مزید سفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے اور اس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

    اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے اس بیان پر متعدد عرب ممالک نے شدید مذمت کی ہے

    جس میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے تقریباً پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لے تو یہ ‘ٹھیک ہوگا’۔

    اسکائی نیوز کے مطابق امریکی سفیرکے بیان کے فوراً بعد مصر، اردن، سعودی عرب، کویت اور عمان سمیت متعدد عرب ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ نے بھی ان ریمارکس کی مذمت کی۔

    مصر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہکابی کے ریمارکس بین الاقوامی قانون کی ‘کھلی خلاف ورزی’ ہیں،

    اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر عرب سرزمین پرخودمختاری حاصل نہیں ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ان بیانات کو “انتہا پسندانہ اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ سے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

    22 رکنی اتحاد عرب لیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے بیانات، جو ‘انتہا پسندانہ اور کسی مضبوط بنیاد سے محروم ہیں، صرف جذبات کو بھڑکانے اور مذہبی و قومی احساسات کو مشتعل کرنے کا باعث بنتے ہیں’۔

    اسکائی نیوز کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 1948 میں قیام کے بعد سے اسرائیل کی سرحدوں کو مکمل طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا،

    اور عرب ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کی سرحدیں مختلف جنگوں، الحاق، جنگ بندی اور امن معاہدوں کے بعد تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

    تاہم سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔