Tag: امریکی سفارتی

  • کراچی اور لاہور میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو فوری پاکستان چھوڑنے کی ہدایت

    کراچی اور لاہور میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو فوری پاکستان چھوڑنے کی ہدایت

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں کراچی اور لاہور کے قونصل خانوں میں تعینات عملے کو اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    اس فیصلے کا اطلاق اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے پر نہیں ہوگا اور وہاں سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ یہ فیصلہ خطے کی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    تین مارچ 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں تعینات ایسے امریکی سرکاری ملازمین جو ہنگامی یا ضروری خدمات انجام نہیں دے رہے اور امریکی سرکاری اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو کراچی اور لاہور میں قائم امریکی قونصل خانوں سے فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

    ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اتوار کے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کیا اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور معتدد زخمی ہوئے۔

    لاہور اور اسلام آباد میں بھی امریکی تنصیبات کے قریب احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ گلگت بلتستان میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بعض مقامات پر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کی وجہ سے گلگت شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

    امریکی انتظامیہ نے پیر کے روز کراچی اور لاہور میں قائم اپنے قونصل خانوں کو بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں قونصل خانے رواں ہفتے کے اختتام تک، یعنی جمع تک بند رہیں گے۔
    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد خطے میں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات اور تجارتی پروازوں میں خلل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔

    امریکی حکام نے پاکستان میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مختلف شدت پسند تنظیمیں ماضی میں حملے کرتی رہی ہیں اور دہشت گردی کے واقعات خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ سابق قبائلی اضلاع بھی ان خطرات سے متاثر رہے ہیں۔

    تاہم بعض مواقع پر بڑے شہروں جیسے کراچی اور اسلام آباد میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دہشت گرد حملے کسی بھی وقت اور بغیر پیشگی اطلاع کے ہو سکتے ہیں۔ شدت پسند عناصر عام طور پر ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹلوں، بازاروں، شاپنگ مالز، سیکیورٹی اداروں کے دفاتر، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، اسکولوں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں مظاہروں اور بڑے اجتماعات سے دور رہیں۔ مقامی قوانین کے مطابق بغیر اجازت احتجاج یا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق بعض مواقع پر احتجاج کے قریب موجود افراد کو بھی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی شہریوں کو احتجاج میں شرکت یا سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس کرنے پر حراست میں بھی لیا گیا ہے جو پاکستانی حکومت یا اداروں پر تنقید سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کی نقل و حرکت پر بھی مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی حکام کو ملک کے بعض علاقوں میں سفر کے دوران مسلح سیکیورٹی اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں میں سفر کے لیے میزبان حکومت سے خصوصی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

    امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان علاقوں میں دہشت گردی اور اغوا کے واقعات کا خطرہ زیادہ ہے جبکہ عسکریت پسند گروہ سیکیورٹی فورسز، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    ایڈوائزری کے مطابق امریکی حکومت کے پاس خیبر پختونخوا، بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موجود اپنے شہریوں کی مدد کرنے یا انہیں قونصلر خدمات فراہم کرنے کی محدود صلاحیت ہے۔

    اسی طرح لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھی سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ وہاں دہشت گردی اور ممکنہ مسلح تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران مقامی میڈیا پر نظر رکھیں، ہجوم اور حساس مقامات سے دور رہیں، سفری دستاویزات اپنے پاس رکھیں اور ہنگامی صورتحال میں ملک چھوڑنے کا متبادل منصوبہ بھی تیار رکھیں۔

    امریکی حکام کے مطابق سیکیورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو ہر وقت محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔